"حسین احمد مدنی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
حسین احمد مدنیؒ
م (حسین احمد مدنیؒ)
(ٹیگ: القاب)
م (حسین احمد مدنیؒ)
مولانا مدنیؒ اپنے یتیم بھتیجے کی شادی کیلئے 25،000 پچیس ہزار روپے جیب کی مالیت سے عالی شن گھر تعمیر کروایا۔بھتیجے کی وفات کے بعد انکی اولاد کا کہنا ہے کہ گرفتاری و قید تک ہمیں احساس بھی نہ ہونے دیا کہ ہم یتیم ہیں۔ غرض یہ کہ اس دور نفسا نفسی میں حقیقی پوتوں کے ساتھ پرخلوص مہرو محبت عنقا ہے۔ بھتیجے اور اسکی اولاد کے ساتھ غیر معمولی مہرو محبت کے برتاؤ کی مثال بھی شاید مشکل سے نظر آئے۔<ref>شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ ، صفحہ 71 ، از مولانا عبدالقیوم حقانی</ref>
 
=== مستحقین کی خبر گیری ===
مولانا نجم الدین اصلاحیؒ تحریر کرتے ہیں:
{{اقتباس|حضرت مدنیؒ جب تک زندہ رہے سخاوت کا دریا بہتا رہا اور فیاضی کا سمندر موجزن رہا۔ حضرت کا محبوب مشغلہ ہی یہی تھا کہ دولت کو اللہ کے راستہ مین لتایا جائے اور نادار لوگوں کی ضروریوت پوری کی جائیں۔
* ایک مرتبہ حضرت کی خدنت میں ھاضر تھا دیگر حاضرین کی کافی تعداد تھی۔ عرضیاں پیش کی جارہی تھیں ایک طالب علم کی عضی کو غور سے پڑھا پھر اسکے بعد دریافت کیا کہ تمہارے گھر تک سفر کا کرایہ کتنا ہے۔ اس نے کہا 15 روپے۔ پوچھا تمہارے پاس کتنے ہیں یا بالکل نہیں ہیں؟ اس نے جواب دیا 7 روپے، پھر حضرت نے جیب سے اسے 8 روپے عنایت کیئے۔ بعد مین معلوم ہوا کہ سال بھر میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔<ref>شیخ الالسلام صفحہ نمبر 232</ref>
}}
 
=== میرے گھر کی بات کسی سے نہ کہنا ===
مولانا عبدالحق مدنیؒ کا بیان ہے:
 
مدینہ منورہ والے حضرت ؒ کی اتنی عزت کرتے تھے کہ دوسرے کسی عالم کو یہ امتیاز حاصل نہ تھا لیکن حضرت مدنیؒ رمضان شریف میں روزہ پر روزہ رکھتے اور کسی کو خبر نہ ہوتی۔ چنانچہ میں نے افطار کا پروگرام رکھا۔ کھانا لے آیا اصرار پر حضرت نے تھوڑا سا کھایا۔ میں سمجتا رہا کہ حضرت کے گھر سے بھی کھانا آئے گا مگر افطاری تو کجا سحر کو بھی نہ آیا۔ حضرت کے پاس چند کھجوریں تھیں جن سے روزہ افطار اور سحر کرلیا کرتے تھے۔ میں نے عض کیا آنجناب کے گھر سے نہ افطار میں کھانا آیا اور نہ سحر کیلئے کوئی خبر آئی؟
 
حضرتؒ نے بات ٹالنے بہت کوشش کی اور گفتگو کا رخ ادھر ادھر پھیرنا چہا لیکن میرا صرار برھتا ہی گیا۔ فرمایا عبدالحق! جناب رسول اللہ ﷺ کی سنت تو کبھی پوری ہونی چاہیئے۔ اسکے بعد انتہائی بزرگانہ انداز میں فرمایا کہ میرے گھر کی بات کسی سے نہ کہنا: (بار بار آدھ پاؤ مسور کی دال پکا کر سب گھر والوں نے تھوڑی تھوڑی پی کر یا تربوز کے چھلکے سڑک پر سے اۓھا کر دھو کر شب میں پکا کر اس کا پانی پی کر گذرکیا)
 
== حوالہ جات ==
207

ترامیم