"حسین احمد مدنی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کثرت درود شریف
م (کثرت درود شریف)
شدید گرمیں دوپہر 12 بجے کا زمانہ ہو چھتری پیش کی جائے تو لینے سے انکار کر دیتے۔ بارش کے زمانہ میں راستہ کیچڑ آلود ہوتا لیکن حضرت دارالحدیث کی جانب محو سفر ہوتے۔ ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں چھتری ہوتی۔ کپڑے کیچڑ آلود ہوتے تو سواری پیش کی جاتی تو انکار کردیتے۔ شاگرد تانگے والے کو لے آتے بار بار اصرار کرنے پر ایک دفعہ کہنے لگے کہ کیچڑ سے ہم پیدا ہوئے، اگر اسمیں جا ملیں تو کیا ڈر ہے۔ ایک مرتبہ طلبا کے اصرار پر تیار ہوگئے۔ دوسرے دن کہیں دور جانا تھا تو تانگہ والا حاضر ہوا تو اسکے تانگہ پر اسوقت سوار ہوگئے جبکہ یہ شرط تسلیم کرالی کہ وہ درس گاہ تک لے جانے کیلئے آئندہ کبھی نہ آئے گا۔ <ref name=":0" />
 
=== اہلیہ کی تدفین سے فراغت کے بعد درس بخاری ===
حکیم ضیاء الدین نبیان کرتے ہین کہ حضرت کی اہلیہ کا انتقال ہوا فراغت تدفین کے کچھ دیر بعد حضرت نے دارالحدیث کا رخ کیا۔ مجمع میں ہل چل مچ گئی تمام عمائدین نے سمجھایا کہ صدمہ بالکل تازہ ہے اور اس سے دل و دماغ کا متاثر ہونا قدرتی امر ہے۔ مگر حضرت نے دارالحدیث میں پہنچ کر بخاری شریف کا درس شروع کردیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی نے دوبارہ جاکر سمجھانے کی کوشش کی تو جواب دیا کہ:
 
اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اطمینان قلب اور کس چیز سے حاصل ہوسکتا ہے؟۔<ref>شیخ الاسلام صفحہ نمبر 78</ref>
 
== کثرت دروداوردیوبندی ==
درس بخاری شریف میں ارشاد فرمایا کہ:
 
{{اقتباس}}اہل بدعت دیوبندیوں کو کافر اور دشمن رسول سمجھتے ہیں، حالانکہ جتنا درود دیوبندی پڑھتے ہیں کوئی دوسرا نہیں پڑھتا۔ مثلا اس دارالحدیث میں تقریبا دو ڈھائی سو طلبہ شریک درس ہیں اور صبح سے شام تک یہاں درس حدیث ہوتا ہے اور ہر حدیث میں دو تین جگہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی آت ہے، جس پر حاضرین درود شریف پڑھتے ہیں اگر تمام اوقات کے درود شریف کو شمار کر لیا جائے تو تعداد حیرت انگیز حد تک پہنچ جائے گی اور یہی سلسلہ تقریبا بارہ مہینے جاری رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہندو ستان کے تمام خطوں سے ذایدہ یہاں درود شریف پڑھا جاتا ہے۔
 
== مالٹا میں قید ==
207

ترامیم