"روح اللہ خمینی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
امام خمینیؒ
(Insan22222 (تبادلۂ خیال) کی جانب سے کی گئی 1326797 ویں ترمیم کا استرجع۔)
م (امام خمینیؒ)
| alternative =
}}
 
== تعارف ==
[[ملف:Khomeini-shrine.JPG|تصغیر|250px|چپ|[[مقبرہ سید روح‌الله خمینی]] یہ ایک ثقافتی اور سیاحتی سینٹر بھی ہے جس کی تعمیر کے پہلے سال میں ملکی بجٹ سے دو ارب ڈالر مختص کئے گئے۔<ref>[http://query.nytimes.com/gst/fullpage.html?res=9C0CE2D81439F93BA35754C0A966958260 Khomeini's Tomb Attracts Pilgrims ]''NEW YORK TIMES ,July 8, 1990''</ref>]]
[[ایران]] کے مذہبی رہنما۔ بانی [[اسلامی جمہوریہ ایران]] ۔ [[آیت اللہ]] العظمٰی امام روح اللہ موسوی خمینی 24 ستمبر 1902ء کو [[خمین]] میں پیدا ہوئے جو [[تہران]] سے تین سو کلومیٹر دور ہے۔ [[ایران]] ، [[عراق]] ، اور [[اراک]] (ایران کا ایک شہر) میں دینی علوم کی تکمیل کی۔ 1953ء میں [[رضا شاہ]] کے حامی جرنیلوں نے [[قوم پرست]] [[وزیراعظم]] [[محمد مصدق]] کی [[حکومت]] کا تختہ الٹ کر [[تودہ پارٹی]] کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علماء نے درپردہ [[شاہ ایران]] کے خلاف مہم جاری رکھی، اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی [[سیاست]] کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔
 
== شاہ ایران کے قوانین ==
28 اكتوبر1964ء كا ذكر ہے شاه كى حكومت نے اىک [[قانون]] كى منظورى دى جس كے تحت امرىكى فوجى مشن كے افراد كو سفارتكاروں كے ہم پلہ وه [[حقوق]] دئیے گئے جو [[وىانا كنونشن]] كے تحت سفارتكاروں كو حاصل ہیں اس كے معنى یہ ہیں کہ امرىكى جو چاہیں کرتے رہیں ان پر اىرانى قانون لاگو نہ ہو گا – اگلے دن امام خمینى نے مدرسہ فىضىہ قم مىں وه شہره آفاق تقرىركى جو اىک عظىم انقلاب كا دىباچہ بن گئى انہوں نے کہا:
 
'''مىرا دل درد سے پھٹا رہا ہے میں اس قدر دل گرفتہ ہوں کہ موت كے دن گن رہا ہوں اس شخص نے ہمیں بىچ ڈالا ہمارى عزت اور اىران كى عظمت خاک میں ملا ڈالی اہل اىران كا درجہ امرىكى كتے سے بهى كم كر دىا گیا ہے اگر شاه اىران كى گاڑی كسى امرىكى كتے سے ٹکرا جائے تو شاه كو تفتىش كا سامنا ہو گا لىكن كوئى امرىكى خانساماں شاه اىران ىا اعلى ترىن عہدے داروں كو اپنى گاڑی تلے روند ڈالے تو ہم بے بس ہوں گے آخر كىوں ؟ كىونكہ ان كو امرىكى قرضے كى ضرورت ہے- اے [[نجف]]، [[قم]]،[[مشہد]]، تہران اور [[شىراز]] كے لوگو! میں تمہیں خبردار كرتا ہوں یہ غلامى مت قبول كرو كىا تم چپ رہو گے اور كچھ نہ کہو گے ؟ کیا ہمارا سودا كر دىا جائے اور ہم زبان نہ كهولىں۔۔۔'''
 
== گرفتاری و جلا وطنی ==
اس تقرىر نے تخت شاہی کو ہلا كرركھ دىا پورا اىران ارتعاش محسوس كرنے لگا سات دن بعد امام خمینى كو گرفتار كركے تہران کے [[مہر آباد]] ہوائى اڈے سےجلا وطن كر دىا امام ایک سال [[ترکی]] میں رہے، اور 4 اکتوبر 1965ء میں [[نجف]] اشرف چلے گئے۔ عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہوگئی تو 6 اکتوبر 1978ء کو [[فرانس]] منتقل ہوگئے۔ اور [[پیرس]] کے قریب قصبہ [[نوفل لوش تو]] میں سکونت اختیار کی۔ [[جلاوطنی]] کے اس سارے عرصے میں [[شاہ ایران]] کے خلاف تحریک کی ’’ جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے‘‘ رہنمائی کرتے رہے۔ 17 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے چلے گئے۔
==== '''خطاب بہ نوجوانان اسلام''' ====
[[روح اللہ خمینی|امام خمینی]] نے جلا وطنی کے دوران ایک اور شہرہ آفاق تقریری کی جو انقلاب اسلامی ایران کی بنیاد بن گئی۔ اس تقریر کو فرانس سے جلاوطنی ہی کے دوران [[فارسی زبان]] میں شائع کیا گیا تھا۔ اس تاریخی خطاب میں امام خمینی نے بہت اہم جملے ارشاد فرمائے جسے ہر ایرانی نے ہمیشہ کیلئے پلے باندھ لیا:
 
'''دنیا کی اسلامی اور غیر اسلامی طاقتوں میں ہماری قوت اس وقت تک تسلیم نہیں ہوسکتی جب تک مکہ اور مدینہ پر ہمارا قبضہ نہیں ہوجاتا۔ چونکہ یہ علاقہ مبحط الوحی([[وحی]] اترنے کی جگہ) اور مرکز [[اسلام]] ہے۔اسلیئے اس پر ہمارا تسلط اور غلبہ ضروری ہے ۔۔۔ میں جب فاتح بن کر [[مکہ]] اور [[مدینہ منورہ|مدینہ]] میں داخل ہونگا تو سب سے پہلا میرا یہ کام ہوگا کہ [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضورﷺ]] کے روضہ پر پڑے ہوئے دو بتوں(مرادحضرت [[ابوبکر_صدیق]] ﷜ اور حضرت [[عمر_بن_خطاب]] ﷜) کونکال باہر کردونگا۔'''<ref>خطاب بہ نوجوانان اسلام، امام خمینیؒ فرانس جلا وطنی کے دوران انقلاب اسلامی ایران سے پہلے کیا گیا تاریخی خطاب</ref>
==وطن واپسی==
امام خمینى جب ىكم فرورى 1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے [[بہشت زہرا]] كے قبرستان تک لاكهوں اىرانىوں نے ان كا استقبال كىا بعض لوگوں نے یہ تعداد 1 كروڑ سے بهى زىاده لكهى ہے یہ بهى عجىب دن تها شاہانہ جاه و جلال ركهنے والا اىک حكمران [[امرىكہ]] كى بهرپور سرپرستى اىک بڑى سپاہ اور [[ساواک]] جىسى خونخوار اىجنسى كے باوجود اىک خرقہ پوش كے ہاتهوں شكست كها كر ملک سے فرار ہو چكا تها اس كى نامزد كرده حكومت خزاں رسىده پتے كى طرح كانپ رہى تهى [[شاه پور بختىار]] تمام تر كاغذى اختىارات كے باوجود ردى كے كاغذ كا اىک پرزه بن چكا تها جو كسى لمحے کوڑا دان كا رزق بننے والا تها- شاه نے قم كے حوزه علمىہ [[فىضىہ]] كى آواز دبانے كے لئےكىا كىا جتن نہ کئے كون كون سے مظالم نہ توڑے لىكن امام خمینى كى آواز نہ دبائى جاسكى امرىكہ كى گود مىں بیٹها بادشاه اہل اىران كى خودى اور ان كى زندگیوں سے كهىل رہا تهاامام خمینى كچھ وقت قم میں گزارنے کے بعد تہران آئے تو کہا میں عوام کے درمىان كسى ساده سے گھر میں رہوں گا حجت الاسلام [[سىد مہدى]] نے بارگاہ حسىنىہ [[جماران]] سے متصل اپنا گھر پىش كىا امام خمینى نے کہا میں كرا‎‎ئے كےبغىر نہیں رہوں گا 80 ہزار اىرانى رىال ىعنى تقرىباً 650 روپے ماہانہ كراىہ مقرر ہوا جنورى 1980ء سے 3 جون 1989ء تک امام اسى كواٹر نما گھرمیں مقىم رہے یہ وه دور تها جب اىران میں ان كى فرمانروائى تهى ان كے اشاره ابرو كے بغىر ایک پتا بهى حركت نہ كرتا تها اىران كے انقلاب كى سارى صورت گرى اسى حجرے میں ہوئى۔ <br />آپکا انقلاب اسلامی اس بات کی واضح دلیل تھی کہ آپ کچھ کر گزرنے والے انسان تھے۔ جس چیز کا عزم فرماتے اسے پورا کرنے کیلئے رکاوٹوں کے ہونے باوجود بلا جھجھک اس میں کود پڑتے اور جان کی بازی لگانے سے کبھی نہ ڈرتے تھے انکے قول اور فعل میں تضاد بالکل نہ تھا یہاں تک فرانس والے وعدے کو عالم اسلام کے ہر فرد نے دیکھا جب اسے ہر سال حج کے موقع پر اخبارات کی شہ سرخیوں میں درج ڈیل باتیں ملاحظہ کرنی پڑیں:
* 10,000دس ہزار ایرانیوں کا خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ۔
کینسرکی وجہ سے ان کا انتقال 3 جون 1989ء ہوا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے۔ <ref>عرفان صدىقى روزنامہ جنگ - كالم ىہ خرقہ پوش</ref>
* کئی ہزار ایرانی مردوں اور عورتوں نے مسجد نبوی کے سامنے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔
* تین سو ایرانیوں کو حج کے موقع پر نعرہ بازی کے جرم میں سعودی عرب سے نکال دیا گیا۔
* ایک لاکھ ایرانیوں نے خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ کیا۔<ref>جنگ اخبار، 3ستمبر، 1984ء</ref>
 
== وفات ==
کینسرکی وجہ سے ان کا انتقال 3 جون 1989ء میں ہوا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے۔ <ref>عرفان صدىقى روزنامہ جنگ - كالم ىہ خرقہ پوش</ref>
 
== مکتوبات خمینی ==
207

ترامیم