"نخاع" کے نسخوں کے درمیان فرق

347 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
اگر کہیں گھٹنے پر ضرب لگ جاتی ہے تو رد عمل کے طور پر پاؤں میں ایک جھٹکا سا پیدا ہوجاتا ہے، یہ ایک اضطراری عمل ہے یعنی اگر ہم کوئی کام کرتے ہیں تو کہیں کام ہم سوچ کر کرتے ہیں لیکن گھٹنے پر جب ضرب لگتی ہے تو پھر سوچ کے بغیر ہے خود بخود انسان کی پاؤں پیچھے ہٹ جاتی ہے یہ اسلئے ہوتا ہے کہ یہ صلاحیت حرام مغز میں ہوتا ہے جو دماغ سے اجازت لئے بغیر ہی سیدھا جسم کے اعضاء کو پیغام پہنچا دیتا ہے اور ہم وہ اعضاء فوراََ ہٹا دیتے ہیں۔
اسی طرح اگر ایک شخص سو رہا ہے اور اس کے پاؤں میں سوئی چھبوئی جائے تو وہ نیند کی حالت میں ہی فوراََ پاؤں کھینچ لیتا ہے۔اس بات پر غور کریں کہ ہم سوچے سمجھے بغیر ہی پاؤں کھینچ لیتے ہیں پھر بعد میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پاؤں میں سوئی چھبوئی گئی تھی اسلئے پاؤں خود پیچھے ہوگیا۔ان دونوں مثالوں میں گھٹنے کا جھٹکا اور پاؤں کا کھینچنا یہ اضطراری عمل ہے جو حرام مغز سرانجام دیتا ہے۔
 
اضطراری عمل کا ایک اور عام مثال یہ ہے کہ آپ جب کسی گرم لوہے اور دوسرے دھات کو ہاتھ سے پکڑتے ہیں تو سوچے سمجھے بغیر ہی فوراََ ہاتھ ہٹالیتے ہیں۔
 
[[ملف:Spinal cord and brain relex action.gif|300px|تصغیر|میخ چبھنے کے باوجود انسان پاوں فورا نہیں ہٹاتا کیونکہ خطرہ لاحق ہوتا ہے اسلئے یہاں دماغ حرام مغز کی اضطراری عمل کو روک کر اپنا حکم نافذ کرتا ہے]]
لیکن یہاں پر ایک بات یاد رکھیے کہ اضطراری عمل کیلئے حرام مغز کی خودمختاری کے باوجود اس پر دماغ کی بالائی حکومت رہتی ہے اس کا ایک پیچیدہ مثال یہ ہے کہ تنی ہوئی رسی پر چلنے کا کرتب دکھانے والے کے پاؤں میں کوئی چیز چبھ جائے تو اضطراری عمل کے تحت اسے پاؤں ایک دم ہٹالینا چاہئے لیکن چونکہ ایسا کرنے میں جان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے (کیونکہ وہ ایک رسی پر چل رہا ہوتا ہے اور اگر وہ پاؤں ہٹاتا ہے تو نیچے گر کر اس کی جان جاسکتی ہے) لہذا دماغ اپنا بالائی اختیار استعمال کرتے ہوئے حرام مغز کے حکم کو نظرانداز کرلیتا ہے اور اپنا حکم نافذ کرتا ہے کہ کرتب دکھانے والا اپنا پاؤں نہ ہٹائے اور ارادی طور پر اپنا توازن برقرار رکھےتاکہ اس کی جان بچ جائےجائے۔لیکن اساگر مثالکوئی کوخطرہ بائیںنہ جانبہو موجودتو تصویر پھر حرام مغز ہی اضطراری عمل کے ذریعےاختیار کو استعمال کرکے فورا پاؤں ہٹالے سمجھیئے۔گا۔