"نوشہرہ (خیبر پختونخوا)" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: القاب)
(ٹیگ: القاب)
[[Image:Khyber Pakhtunkhwa Districts Nawshahra.svg|300px|thumb|left|صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع نوشہرہ کا محل وقوع]]
 
[[خیبر پختونخوا]] کا ایک ضلع ۔نوشہرہ [[پشاور]] کي پراني تحصيل تھي۔ جس نے يکم جولائي1988کو ضلع کي حيثيت اختيار کي ۔اب يہ پشاورڈويژن کا تيسرا ضلع ہے جو پشاور ضلع سے جدا کيا گيا ہے۔يہ ضلع قومي شاہراہ پشاور تا[[ پنجاب]] کے کنارے واقع ہے۔ محل وقوع کے لحاظ سے یہ ضلع تاريخي اہمیت کا حامل ہے۔يہ ضلع مرکزي ايشيا اور انڈيا کو ملانے والا دروازہ بھيک ہلاتا ہے۔اور [[دریائے سندھ]] کے کنارے واقع ہونے کي وجہ سے باقي علاقوں پر فوقيت بھي رکھتا ہے۔ يہ علاقہ تین ہم عصر علماء [[خوشحال خان خٹک]] ، کا کا صاحب اوران کے استاد شیخ اخوند ادین سلجوقی کے علاوہ پير مانکي شريف ،مولاناعبدالسلام،مولاناعبدالسلا پىرسبام قپىرسباق بابا جىباباجى اورشیخ عبد المنان عرف شیخ جی مبارک وزیرگڑھی جيسے مذہبي پيشوائوںکي وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔يہ حقيقت ہے کہ پرانا ضلع پشاور نوشہرہ تحصيل کي وسيع صنعتي بنياد کي وجہ سے مشہور تھا۔ شروع سے یہاں بڑے بڑے صنعتي کارخانے قائم ہیں۔ اس ضلع میں اب [[رسالپور]] اور [[چراٹ]] بھي صنعتي اعتبار سے ترقي کر رہے ہيں۔
وزیر گڑھی باباجی روحانی پیشوا
وزیرگڑھی میں شیخ عبد المنان عرف شیخ جی مبارک وزیرگڑھئی باباجی کےمریدین آج بھی نہ صرف علاقہ پبی بلکہ درہ آدم خیل ،لنڈی کوتل،اکبرپورہ ،خوشمقام تک موجود ہیں آپ 1800 کی صدی میں وزیر گڑھی آئے اور 1920کو اس فانی دنیا سے رحلت کرگئے ،شیخ جی مبارک کا مزار انکے بنائی مسجد جامع مسجد محلہ شیخان وزیرگڑھی کے قریب قبرستان میں واقع ہے اور اس علاقے میں علم کی لگائی شمع آج مدرسہ قریۃ الہدیٰ کی صورت موجود ہے یہی وجہ ہے کہ وزیر گڑھی دینی تعلیم میں اپنی اہمیت رکھتا ہے اور مردو خواتین قران پاک کی تعلیم سے روشناس ہیں ۔وزیرگڑھئی باباجی کے متعلق مشہور ہے کہ وہ 18ویں صدی کے آواخر میں اپنے خاندان سمیت پشاور کے علاقہ ماشوخیل سے ہجرت کرکے یہاں آکر آباد ہوئے تھے اور انکی علمی و روحانی شخصیت ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کے مکینوں نے اس خاندان کو انتہائی محبت دی اور وہی سلسلہ آج بھی جاری ہے
4

ترامیم