"نکاح حلالہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

875 بائٹ کا اضافہ ،  7 سال پہلے
اضافہ مواد
م (روبالہ: منتقلی 3 بین الویکی روابط، اب ویکی ڈیٹا میں d:q4116101 پر موجود ہیں)
(اضافہ مواد)
(ٹیگ: القاب)
کسی چیز کو شرعا جائز بنا لینا۔ [[حلال]] بنا لینا۔ اسلام میں پہلے [[عرب]] میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص بیوی کو [[طلاق]] دے دیتا اور پھر اس سے شادی کرنا چاہتا تو جب تک وہ کسی دوسرے شخص س عقد کرکے طلاق نہ پاتی ، پہلے شوہر سے نکاح نہیں کر سکتی تھی۔ [[اسلام]] نے اس طریقہ کوباقی رکھا تاکہ لوگ آسانی سے بیویوں کو طلاق نہ دے سکیں۔ مگر تین طلاق دینے کی صورت میں ، ایک اور دو طلاق دینے کی صورت میں یہ حکم نہیں ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں کو تین مغلطہمغلظہ طلاقیں دے دیتے ہیں وہ اگر اس عورت سے پھر [[نکاح]] کرنا چاہیں تو پہلے وہ عورت کسی سے[[ نکاح]] کرے پھر اس سےطلاق لے کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ اور اس کے لیے [[حلال]] ہے۔ [[احادیث]] میں حلالہ کرنے والوں کی سخت مذمت آئی ہے۔ کہ جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے ، ان دونوں پر خدا کی لعنت۔ [[حضرت عمر]] ایسے لوگوں کو زانیوں کے برابر سمجھتے تھے۔ کیونکہ ایسے شخص کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو شارع نے نکاح سے مراد لیا ہے۔ بعض<br ائمہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور بعض نے [[حرام]] ، مگر جن لوگوں نے اسے [[حلال]] قرار دیا ہے وہ بھی اسے اچھا نہیں کہتے ۔/>
"حدیث میں محلل یعنی وہ دوسرا شوہر جو نکاح جیسے اہم سنجیدہ اور مقدس معاہدہ کو پہلے شوہر کی خاطر ایک کھیل اور تفریح کی چیز بنائے دیتا ہے۔ اور محلل لہ یعنی وہ پہلا شوہر جس کی خاطر معاہدہ نکاح کی اہمیت، سنجیدگی وتقدیس خاک میں ملائی جارہی ہے، ان دونوں پر لعنت آئی ہے۔ اور اکثر فقہاء کے ہاں یہ نکاح، نکاح فاسد کے حکم میں آتا ہے۔ حنفیہ کے ہاں ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا۔ یعنی اس کا نفاذ قانونی ہوجائے گا، اگرچہ اس سے گناہ عائد ہوگا"<ref>تفسیر ماجدی عبدالماجد دریا آبادی،سورۃ البقرہ،آیت230</ref><br />
بعض ائمہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور بعض نے [[حرام]] ، مگر جن لوگوں نے اسے [[حلال]] قرار دیا ہے وہ بھی اسے اچھا نہیں کہتے ۔
 
[[Category:مذہبی اصطلاحات]]