"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
== ملکی نظام ==
چندر گپت کی سلطنت کے اندورنی اور ملکی انتظامت کی جتنی تفصلیں ہم تک پہنچی ہیں اگرچہ وہ اتنی وسیع تو نہیں جتنی کہ چاہیے تھی مگر بہرحال اس قدر تو ہیں کہ ہم اس کے ذریعے سے اس زمانے سے اس کے زمانے کے سلسلہ حکومت کو کافی ددافی طور پر سمجھ سکیں۔
دالسلطنت یعنی پاٹلی پتر میں نظن و نسق کے لیے مجلس بلدیہ مقرر تھی، جس میں تیس آدمی شامل تھی اور محکمہ جنگ کی طرح چھ کمٹیوں میں تقسیم تھی یہ کمٹیاں دراصل عام معمولی پنچایتوں کی ایک سرکاری صورت تھی تھی جس کے ذریعے سے قدیم زمانے سے [[ہندوستان]] کی مختلف ذاتیں اور پیشہ ور اپنے باہمی قضیوں کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔
بلدیہ کی پہلی کمیٹی کے ذمے صنعت و حرفت کے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کرتی تھی اور غالباً مزدوری کی شرح کا تعین بھی اسی کے ہاتھ میں تھا اور شاید ہر وقت اس امر کے لیے تیار رہتی ہو کہ کاریگروں کو مجبور کرے کہ عمدہ اور خالص چیزیں استعمال کریں اور حکومت نے جتنی مزدوری ان کے لیے مقرر کردی ہو اتنا ہی تمام دن میں انجام دیں۔ صناع اور کاریگروں کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ خاص طور پر شاہی ملازم ہیں اور کوئی شخص کسی صناع کے ہاتھ یا آنکھ کو گزند پہنچا کر اس کی کار کردگی کم کردیتا ہے تو اس کی سزا موت ہوا کرتی تھی۔
بلدیہ کی دوسری کمیٹی کے اختیار میں غیر ممالک میں رہنے والوں اور مسافروں کے معاملات تھے اور وہ وہی فرائض ادا کیا کرتے تھے جو کل محکمہ خارجہ کے افسر ادا کرتے ہیں۔ تمام اجنبیوں کو سرکاری افسر اپنی نگاہوں میں رکھتے تھے اور ان کے لیے ان کے حسب حثیت مکان بدرقہ اور ضرورت کے وقت طبی امداد پہنچاتے تھے۔ جو اجنبی مر جاتے ان کی تجہیرتجہیز و تکفین معقول طور پر کی جاتی تھی۔ ان کی جائدادوں کا انتظام اسی کمیٹی کے اراکین کرتے اور ان کا منافع ان کے وارثوں کو بھیجتے رہتے۔ ان تمام کام انتظامات کا وجود ہی اس بات کا نہایت بین ثبوت ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح میں [[ہندوستان]] کی [[موریا|موریا سلطنت]] کے تعلقات بیرونی سلطنتوں کے ساتھ قائم تھے اور کاروبار کے لیے غیر ممالک کے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد دارلسطنت آتی جاتی رہتی تھی۔
تیسری پنچایت کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ اموات اور پیدائش کا باقیدہ طور پر اندراج کرتی رہے اور ہم کو صاف بتایا گیا کہ یہ انداراج اول حکومت کو اعداد سے باخبر رکھنے کے لیے اور دوسرے محاصل کے عائد کرنے میں آسانی کے لیے ہوا کرتی تھی۔ یہ محصول جس کا ذکر کیا گیا ہے کچھ رقم فی کس کے حساب سے سالانہ وصول کیا جاتا تھا۔
چوتھی کمیٹی کے سپرد تجارت اور بیوپار کے اہم معاملات تھے۔ یہ لوگ خرید و فرخت کا انتظام اور بندوست کرتے تھے اور باضابطہ مہر کئے ہوئے اوزاران اور پیمانوں کے استعمال پر لوگوں کو مجبور کرتے تھے۔ سوداگر اجازت نامہ کے لیے ایک محصول ادا کرتے تھے اور وہ سوداگر جو ایک سے زاید اشیاء کا بیوپار کرتا تھا دگنا محصول ادا کیا کرتا تھا۔
چھٹی کمیٹی کا کام یہ تھا کہ فروخت شدہ اسباب کی قیمت سے ایک برائے نام حصہ محصول کے طور پر وصول کررے اور اس محصول کی ادائیگی سے چشم پوشی کی سزا بھی موت ہوا کرتی تھی۔ فروحت شدہ اشیاء پر اس قسم کا محصول کا رواج عام طور پر ہندوستان میں رہا ہے مگر شاذ و نادر ہی اس کو سنگین سزا کا مرتب سمجھا جاتا تھا جیسا کہ چندر گپتا کے زمانے میں۔
ان جدا جدا محکموں کے فرائض کے علاوہ جن کی تفصیل اوپر دی گئی ہے۔ مجلس بلدیہ کے اراکین کا فرض تھا کہ بہیت مجموعی شہر کے تمام معاملات کی نگرانی کریں اور بازاروں، مندروں، بندگاہوں اور عام طور پر تمام عمارت ہائے مجموعہ کی تنظیم و ترتیب اپنے ہاتھ میں رکھیں۔
دور دراز صوبوں کی حکومت نائبین سلطنت کے سپرد کی جاتی تھی جو عموماً شاہی خاندان کے افراد ہوا کرتے تھے۔ نائبین کے متعلق ہماری معلومات [[اشوک اعظم|راجہ اشوک]] کے زمانے میں چندرگپتا کے زمانہ کی نسبت زیادہ ہے۔
 
== آبپاشی ==
[[ہندوستان]] میں آبپاشی کا مناسب انتظام ایک نہایت ہی اہم امر ہے اور اس بات سے چندر گپت کی سلطنت کی خوبی معلوم ہوتی ہے کہ اس نے ایک خاص محکمہ آبپاشی قائم کیا تھا، جس کا یہ فرض تھا کہ زمینوں کی پیمائش کرے اور پانی نالیوں کا ایسا انتظام کرے کہ ہر ایک شخص کو حصہ رسدی معتدبہ مقدار میں پانی مل سکے۔ اراضی کی پیمائش کی طرف سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پانی کا محصول ضرور لگایا جاتا ہوگا اور نالیوں کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آبپاشی کا نظام باکل باقیدہ تھا۔ پشی گپتا جو چندر گپتا کا کی حکومت کی طرف سے مغربی صوبوں کا عامل تھا دیکھا کہ ایک چھوٹی سی ندی کو روکنے سے آبپاشی کے لیے ایک نہایت عمدہ تالاب بن سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک جھیل سندر سن (یعنی خوبصورت) نامی قلعے کی مشرقی جانب ایک پہاڑی اور اس کے آگے کتبے کی چٹان تک مشرقی زمین کو لے کر تیار کی۔ مگر اس سے سوا اور ضروری نالیاں بنانے میں کامیاب نہ ہوا۔ چندر گپتا کے پوتے اشوک کے زمانے میں اس کے نائب راجہ تشاسف ایرانی کی زیر نگرانی جو اس وقت کا گورنر تھا تیار ہوئیں۔ یہ سود مند تعمیر جو موریاؤں کے عہد حکومت میں تیار ہوئی تھی چار سو سال تک کام دیتی رہیں۔ لیکن ۰۵۱ء؁ کے ایک طوفان نے جو غیر معمولی طور پر شدید تھا اس کے بند کو توڑ دیا اور اس کے ساتھ ہی اس جھیل کو فنا کردیا۔ یہ امر کہ سلطنت کے ایک ایسے دور دراز صوبے میں آبپاشی کے کام پر اتنا روپیہ اور محنت صرف کی گئی صٓف ظاہر کرتا ہے کہ موریا خاندان کے راجہ کھیتوں کے لیے پانی بہم پہنچانا اپنا ایک اہم فرض تصور کرتے تھے۔
19,130

ترامیم