"ٹائم (رسالہ)" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (اولین صفحہ)
م
==تاریخ==
[[ملف:Time Magazine - first cover.jpg|250px|بائیں|تصغیر|رسالہ ٹائم کے پہلے شمارے، بتاریخ 3 مارچ 1923ء، کے صفحۂ اول پر سپیکر [[جوسف جی کینن]] کی تصویر شایع کی گئی۔]]
رسالہ ٹائم کو [[بریٹن ہیڈن]] اور [[ہینری لوس]] نے [[1923ء]] میں تخلیق کیا۔{{حوالہ|نام=ہیڈن_و_لوس|عنوان=امریکی جریدہ ٹائم|ربط=http://www.britannica.com/topic/Time-American-magazine|ناشر=[[دائرۃ المعارف بریطانیکا]]|تاریخ اخذ=20 اکتوبر 2015ء}} ہیڈن اور لوس کا بنیادی مقصد ایک ایسے جریدے کی اشاعت تھا جس میں خبروں کی تفصیل مختصر انداز سے پیش کی جائے تاکہ لوگ اِسے اپنی مصروفیت میں لُطف سے پڑھ سکیں۔<ref name="ہیڈن_و_لوس" /> یہ دونوں اِس مقصد میں اتنے کامیاب ہوئے کہ دیکھا دیکھی باقی ناشرین نے بھی اِن ہی کی طرح اپنے رسالوں اور جریدوں کی ترتیب بدل ڈالی۔ چنانچہ، رسالہ ٹائم، [[ریاستہائے متحدہ امریکہ]] میں، اپنی طرز کا پہلا ہفتہ وار [[خبری رسالہ]] بن کر اُبھرا۔
 
ٹائم کی اشاعت سے قبل، اکثر رسالوں کا دہان کسی نہ کسی کہانی یا خبر پر مرکوز ہوتا ہے۔ ٹائم وہ پہلا رسالہ یا جریدہ تھا جس میں کہانیوں اور خبروں کا مَرکُوزی مَقام کوئی نہ کوئی شخصیت ہوتی تھی، اور یہی وجہ ہے کہ ٹائم کے اکثر ابتدائی شماروں کے اولین صفحے پر اشخاص کی ہی تصویر واضح ملتی ہے۔ چنانچہ رسالہ ٹائم نے یہ نئی طرز اپنا لی کہ اِس میں خبر کا جائزہ خبر کی مرکزی شخصیات کے ذریعہ لیا جانے لگا۔ اگلی چند دہایوں تک ٹائم کے ہر شمارے کے اولین صفحے پر ایک واحد شخصیت کی تصویر نمایاں ملتی ہے۔
 
==طرز اشاعت==
رسالہ ٹائم کے اولین صفحے پر عموماً لال رنگ کا حاشیہ پایا جاتا ہے جو کہ اب اِس کی پہچان بن چُکا ہے۔ اِس کے اشاعتی تاریخ میں اِس حاشیے کا رنگ محظ چار بار ہی تبدیل کیا گیا ہے۔ اِس کا رنگ پہلی مرتبہ لال سے سیاہ تب کیا گیا جب [[سانحہ گیارہ ستمبر]] کا واقعہ ہوا۔ دوسری مرتبہ [[28 اپریل]] [[2008ء]] [[یوم ارض]] کے موقع پر حاشیے کو سبز کر دیا گیا۔ تیسری مرتبہ سانحہ گیارہ ستمبر کی دسویں برسی پر اِسے سرمئی رنگ دے دیا گیا۔ اخیر میں اِس کو پھر دوبارہ سرمئی تب کیا گیا جب [[بارک اوباما]] کو [[31 دسمبر]] [[2012ء]] کے شمارے میں ٹائم نے دوسری مرتبہ سالانہ شخصیتِ خاص نامزد کیا۔
 
==خصوصی اشاعیے==
===سالانہ شخصیتِ خاص===
===ٹائم 100===
حالیہ برسوں میں ٹائم ہر سال 100 بااثر شخصیات کی ایک سالانہ فہرست بناتا ہے۔ شروع میں یہ فہرست [[20ویں صدی]] کے سب سے بااثر شخصیات کی فہرست ہونی تھی، لیکن اِس کی مقبولیت کے بعد اِسے سالانہ اشاعیہ بنا دیا گیا۔ اِس خصوصی اشاعیے کے صفحۂ اول پر نامزد 100 شخصیات کی تصاویر ہوتی ہیں اور رسالے میں اِن 100 اشخاص پر 100 مضامین بھی درج ہوتے ہیں۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ دو یا دو سے زائد اشخاص فہرست میں ایک ہی مقام کے مُشتَرکہ حامل ہوتے ہیں۔ [[19 اپریل]] [[2013ء]] میں [[پاکستان]] کی [[ملالہ یوسفزئی]] کو ٹائم کے اولین صفحے پر جگہ ملی اور اِس کو ٹائم 100 فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔{{حوالہ|عنوان=ملالہ یوسفزئی دنیا کی سو با اثر شخصیات میں شامل|ربط=http://m.urduvoa.com/a/malala-in-the-100-most-influential-people/1644485.html|مصنف=نصرت شبنم|ناشر=وائس آف امریکہ|تاریخ=19 اپریل 2013ء|تاریخ اخذ=21 اکتوبر 2015ء}}
 
===صفحۂ اول پر سرخ نشانِ مرگ===
<!-- [[ملف:Time Magazine red X covers.jpg|250px|تصغیر|بائیں|صفحۂ اول پر نشانِ مرگ (دائیں تا بائیں): اسامہ بن لادن، ابو مصعب الزرقاوی، صدام حسین اور ایڈولف ہٹلر]] -->
اپنی تاریخ میں صرف چار بار، ٹائم نے غیر مسلسل ایسے شمارے شایع کیے جن کے اولین صفحے پر دکھائے گئے اشخاص کے چہروں پر ایک سرخ ایکس (x) کا نشان دکھایا گیا۔ اِس نشان کو ٹائم کا نشانِ مرگ بھی کہا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ نشان [[7 مئی]] [[1945ء]] کو [[ایڈولف ہٹلر]] کے چہرے پر دکھایا گیا۔ 58 سال بعد، [[21 اپریل]] [[2003ء]] کو عراقی آمر کا تختہ الٹنے کے دو ہفتے بعد، [[صدام حسین]] کے چہرے پر دکھایا گیا۔ تیسرا، [[عراق]] میں ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے [[ابو مصعب الزرقاوی]] کے چہرے پر دکھایا گیا۔ آخری [[اسامہ بن لادن]] کے چہرے پر دکھایا گیا جب اُسے [[مئی]] [[2011ء]] میں [[ایبٹ آباد]] میں امریکی خفیہ کاروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔
 
== حوالہ جات ==
20,284

ترامیم