"خشونت سنگھ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(تجدید)
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
== تعلیم ==
[[پاکستانی پنجاب]] کے [[ضلع خوشاب]] کے قریب گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے جہاں انہوں نے اِسکول تک کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ [[گورنمنٹ کالج لاہور]] چلے گئے۔
 
[[برطانیہ]] میں [[کیمبرج یونیورسٹی]] اور انر ٹیمپل میں پڑھنے کے بعد انہوں نے واپس لاہور جا کر وکالت شروع کر دی تاہم [[تقسیم ہند]] کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت [[دلی]] میں بس گئے۔ وہ کچھ عرصہ وزارت خارجہ میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات رہے لیکن جلد ہی سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔
 
== صحافتی زندگی ==
انیس سو اکیاون[[1951ء]] میں [[صحافی]] کی حیثیت سے [[آل انڈیا ریڈیو]] میں نوکری اختیار کر لی جہاں سے ان کے تابناک کیریر کا آغاز ہوا۔ وہ [[بھارت]] کے مشہور جریدے السٹریٹڈ ویکلی کے ایڈیٹر رہے اور ان کے دور میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ خوشونت سنگھ ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔
 
خوشونت سنگھ نے تقریبًا تمام مشہور ملکی اور غیر ملکی اخبارات کے لیئے کالم لکھے۔ ان کی کتاب ’ہسٹری آف سکھ‘ یعنی سکھوں کی تاریخ اب تک اس سلسے میں ہونے والا سب سے منجمد کام سمجھا جاتا ہے۔
 
== ادبی خدمات ==
انہوں نے کئئکئی [[ناول]] بھی لکھے اور ان کی کتابوں کی کل تعداد 80 ہے۔ ان کے ناول ’ٹرین"ٹرین ٹو پاکستان‘پاکستان" کو انیس سو چون[[1954ء]] میں عالمی شہرت یافتہ گروو پریس ایوارڈ دیا گیا۔انگیا۔ ان کے دو کالم [[بھارت]] کی چالیس انگریزی اخباروں میں چھپتے ہیں۔
اُن کی کتاب "ٹروتھ لو اند ا لٹل مالیس" جس کا ترجمہ نگارشات کر سچ محبت وراور ذرا سا کینہ کے نام سے کیا حال پڑنے سے تلک رکھتی ہے آپ کی مشور کتابوں میں دیللی، ڈیتھ اٹ مائی دورسٹیپ بےحد شہرت کا حامل ہیں۔
 
== اعزازات ==
خوشونت سنگھ کو انیس[[1974ء]] سو چوہتر میں [[پدم بھوشن]] ایورارڈ دیا گیا جسے انہوں نے 1984[[1984ء]] میں گولڈن ٹیمپل آپریشن کے بعد واپس کر دیا<ref>[http://www.jehanpakistan.com/epaper/detail_news.php?news=/epaper/epaper/lahore/020214/p16-02.jpg#sthash.Ml1SpvPU.fINl9DhT.dpbs کالم: خشونت سنگھ] </ref>۔خوشونت سنگھ کو پنجاب رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔اور انیس سو اسی[[1980ء]] سے لے کر انیس سو چھیاسی[[1986ء]] تک وہ [[راجیہ سبھا]] کے ممبر بھی رہے۔
==وفات==
خوشونت سنگھ نے [[20 مارچ]] 2014[[2014ء]] کو اپنی [[دہلی]] کی رہائش گاہ پر وفات پائی۔ اُن کی وفات پر بھارت کے صدراور وزیر اعظم سمیت بہت سے لوگوں نے اظہار افسوس کیا۔<ref>{{cite web|title=President, Prime Minister of India condole Khushwant Singh’s Demise|url=http://news.biharprabha.com/2014/03/president-prime-minister-of-india-condole-khushwant-singhs-demise/|work=IANS|publisher=news.biharprabha.com|accessdate=20 March 2014}}</ref>
 
==حوالہ جات==
20,572

ترامیم