"احمدیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

(←‏تجسیدِ کرشنا: غیر متعلقہ حصہ)
(ٹیگ: القاب)
 
=== اسلام سے قربت ، اسلام سے دوری ===
حکیم نورالدین ([[1841ء]] تا [[1914ء]]) کی پہلی ملاقات مرزا سے [[1885ء]] میں ہوئی اور مرزا کی وفات کے بعد چھ سال ، [[1908ء]] سے اپنی وفات [[1914ء]] تک ، احمدیوں کے پہلے خلیفۃ المسیح کی حیثیت حاصل رہی۔ اسی زمانے میں احمدیہ میں ایسے افراد بھی تھے جو احمدیہ کو واپس اسلام راسخ سے قریب لانا چاہتے تھے، ان میں [[لاہور]] کے [[خواجہ کمال الدین]] ([[1870ء]] تا [[1932ء]]) اور [[مولانا محمد علی (احمدیہ)|مولانا محمد علی]] ([[1874ء]] تا [[1951ء]]) کے نام آتے ہیں جبکہ [[قادیان]] والے (جن میں اکثریت امراء اور تجارتکاروں کی تھی جیسے [[سید احسان امروہی]] اور اور [[نواب محمد علی خان]]) احمدیہ جماعت کو انہی مرزائی خطوط پر الگ قائم رکھنا چاہتے تھے۔ لاہوری کہلائے جانے والے گروہ نے خود کو قادیان والے گروہ سے الگ کر لیا اور مولانا محمد علی کو اپنا امیر بنایا جبکہ قادیان والوں نے مرزا غلام احمد کے بڑے بیٹے [[مرزا بشیر الدین محمود]] ([[1898ء]] تا [[1965ء]]) کو اپنا دوسرا خلیفۃ المسیح منتخب کرا۔ اول الذکر کو [[احمدیہ انجمن اشاعت اسلام]] یا لاہوری احمدیہ جبکہ بعد الذکر (قادیان والوں) کو [[احمدیہ مسلم جماعت]] کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم سے قبل ہی احمدیہ بیرونی ممالک میں اپنی تبلیغ کی سرگرمیاں متحرک کر چکی تھی، خواجہ کمال الدین نے [[انگلستان]] میں اس سلسلے میں سرگرمی دکھائی<ref>{{حوالہ کتاب | نام =Islam in the African-American experience| مصنف =Richard Brent Turner| ناشر =Indiana University Press}} [http://books.google.com/books?id=CGS5ryA7ow0C&printsec=frontcover&hl=ja&source=gbs_navlinks_s#v=onepage&q=&f=false روئے خط کتاب]</ref>۔ گو لاہوری گروہ مرزا کے لیئے اس قسم کے شدید تصورات اور الفاظ استعمال نہیں کرتا جیسا کہ قادیان والوں کا گروہ کرتا ہے اور لاہوری گروہ کے مطابق مرزا کی حیثیت نبی یا رسول کی نہیں بلکہ ایک مہدی یا مسیح موعود یا مجتہد کی ہے لیکن اس کے باوجود علماء کے مطابق اسلام راسخ کی رو سے ان کے نظریات باطل ہیں<ref>{{حوالہ جال | ربط =http://www.islamonline.net/servlet/Satellite?pagename=IslamOnline-English-Ask_Scholar/FatwaE/FatwaE&cid=1119503543500| عنوان =الاحمدیہ : آغاز و عقائد (انگریزی)}} اسلام آن لائین نیٹ پر ایک فتویٰ</ref>۔ یہاں سے وہ زمانہ شروع ہوتا ہے کہ جب احمدیہ (واحد) کی تاریخ منطقی اعتبار سے اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اس کے بعد سے احمدیہ (منقسم) کی تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے جس میں اس کے مذکورہ بالا دو حصے ہوئے اور اس تاریخ کا مقام یہ مضمون نہیں بلکہ ان کے اپنے مخصوص صفحات ہیں۔
[[تصویر:Qadian c.1899.jpg|thumb|370px|مرزا غلام احمد ( وسط) اپنے بعض پیروکاروں کے ساتھ]]
 
== عقائد کا تقابلی جائزہ ==
احمدیہ عقائد کے بارے میں اسلام سے منسلک افراد کی معلومات عموما{{دوزبر}} غیرکامل اور سطحی پائی جاتی ہیں جبکہ غیرمسلم افراد میں احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں (اور احمدیہ تبلیغ کے لیئے اسلامی اصطلاحات اختیار کرنے) کے باعث احمدیہ اور اسلام میں فرق کی تمیز باقی نہیں رہتی؛ اس وقت تک کہ جب تک وہ متعلقہ شخص خود عالمانہ اور فاضلانہ مستند کتب اور مواد کا مطالعہ نا کرے؛ یہ بات اس لیئے بھی قابل ذکر ہے کہ اس کا موازنہ مہدی (قائم) کے تصور کی بنیادوں پر ہی قائم ہونے والے ایک اور مت ، [[بہائی مت]] ، سے کیا جائے تو صورتحال (موجودہ عہد میں) اس قدر ابہام کا شکار نہیں ہوتی کیونکہ بہائی مت والوں نے خود کو واضح طور پر اسلام راسخ سے الگ مذہب قرار دے دیا ہے۔ کسی بھی عقیدے (یا مذہب) میں جب ذیلی عقائد رکھنے والے افکار نمودار ہو جائیں تو اس مذہب کا اجتماعی (اکثریتی) حصہ ذیلی افکار رکھنے والوں کی مخالفت یا تصحیح کی کوشش کرتا ہے اور اس ذیلی عقیدے (عموماً اقلیتی) کے عقائد کو قابل توجہ نہیں سمجھتا جبکہ وہ ذیلی عقیدہ رکھنے والے افراد اقلیتی نفسیات کے باعث ناصرف اپنے ذیلی (الگ) عقیدے میں مستحکم بلکہ (مقابل آنے کی خاطر) اکثریتی عقیدے کے عقائد سے بھی کامل آگاہی حاصل کرتے ہیں ؛ اور ایسا ہی معاملہ اسلام اور احمدیہ والوں کے مابین عام آدمی کی سطح پر دیکھنے میں آتا ہے۔ قبل اس کے کہ احمدیہ عقائد پر بات کی جائے اور انکا تقابل اسلام سے کیا جائے اسلامی عقائد کا مطالعہ (جو مضمون اسلام کے قطعات ، [[اسلام#اجزاۓ ایمان|اجزاۓ ایمان اور ارکانِ اسلام]] میں بھی درج ہیں) لازم آتا ہے۔
6

ترامیم