"جلال الدین اکبر" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
م
'''جلال الدین اکبر''' : [[سلطنت مغلیہ]] کے تیسرے فرماں روا ([[بابر اعظم]] اور [[ہمایوں]] کے بعد)، ہمایوں کابیٹا تھا۔ ہمایوں نے اپنی جلاوطنی کے زمانے میں [[سندھ]] کے تاریخی شہر[[ دادو]] کے قصبے "[[پاٹ]]" کی عورت [[حمیدہ بانو بیگم|حمیدہ بانو]] سے شادی کی تھی ۔ اکبر اُسی کے بطن سے [[1542ء]] میں [[عمر کوٹ]] کے مقام پر پیدا ہوا۔ [[ہمایوں]] کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً چودہ برس تھی اور وہ اس وقت اپنے اتالیق [[بیرم خان]] کےساتھ کوہ شوالک میں [[سکندر سوری]] کے تعاقب میں مصروف تھا۔ باپ کی موت کی خبر اسے [[کلانور]] ضلع [[گروداسپور]] (مشرقی پنجاب) میں ملی۔ [[بیرم خان]] نے وہیں اینٹوں کا ایک چبوترا بنوا کر اکبر کی رسم تخت نشینی ادا کی اور خود اس کا سرپرست بنا۔ تخت نشین ہوتے ہی چاروں طرف سے دشمن کھڑے ہوگئے ۔ [[ہیموں بقال]] کو [[پانی پت]] کی دوسری لڑائی میں شکست دی۔ مشرق میں [[عادل شاہ سوری]] کو کھدیڑا۔ پھر اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی۔
 
[[1556ء]] میں [[دہلی]] ، [[آگرہ]] ، [[پنجاب]] پھر [[گوالیار]] ، [[اجمیر]] اور [[جون پور]] بیرم خان نے فتح کیے۔ [[1562ء]] میں [[مالوہ]]، [[1564ء]] میں گونڈدانہ ، [[1568ء]] میں چتوڑ، [[1569ء]] میں رنتھمپور اور النجر ، [[1572ء]] میں [[گجرات (بھارت)|گجرات]] ، [[1576ء]] میں [[بنگال]]، [[1585ء]] میں [[کابل]]، اور [[کشمیر]] اور [[سندھ ]]، [[1592ء]] میں [[اڑیسہ]] ، [[1595ء]] میں [[قندہار]] کا علاقہ ، پھر احمد نگر ، اسیر گڑھ اور دکن کے دوسرے علاقے فتح ہوئے اور اکبر کی سلطنت بنگال سے [[افغانستان]] تک اور [[کشمیر]] سے دکن میں دریائے [[گوداوری]] تک پھیل گئی۔
 
اکبر نے نہایت اعلٰی دماغ پایا تھا۔ [[ابوالفضل]] اور [[فیضی]] جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت [[جودھا بائی]] سے بھی شادی کی جو کہ اس کے بیٹے [[جہانگیر]] کی ماں تھی۔ [[جودھا بائی]] نے مرتے دم تک [[اسلام]] قبول نہیں کیا تھا۔ نیز [[دین الہٰی]] کے نام سے ایک نیا مذہب بھی جاری کیا۔ جو کہ ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے [[ہندو]] [[رتن|رتنوں]] کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امراء اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انہی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا۔
17,948

ترامیم