"ہن" کے نسخوں کے درمیان فرق

10 بائٹ کا ازالہ ،  5 سال پہلے
←‏پس منظر: clean up, replaced: ← (3), ← (4) using AWB
(ٹیگ)
(←‏پس منظر: clean up, replaced: ← (3), ← (4) using AWB)
{{ بے حوالہ}}
== پس منظر ==
ہنHunes ہن یا ہون نیم وحشی قبیلے تھے اور ان کا اصل وطن [[سائبیریا]] کا صحرائی علاقہ تھا۔ جس کو اسٹپس کا میدان Land of Stepe کہتے ہیں۔ جہاں آبادی میں اضافہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے وطن میں خوراک ملنا مشکل ہوگئی۔ چنانچہ ان قبیلوں نے دوسرے علاقہ کا رخ کیا۔ ان کی ایک شاخ سیر دریا یا سیحوں کی طرف بڑھی اور دوسری شاخ دریائے اتل (والگاValga ) کے راستہ یورپ میں داخل ہوگئی جہاں ہنوں نے ایک وسیع حکومت قائم کی تھی، ان کا مشہور سردار اٹلا Atila تھا۔ جس نے یورپ میں تباہی مچادی تھی۔ اٹلاکی موت 453ء؁ میں ہوئی اور اس کی موت سے یورپ میں ہن مملکت کو زبردست صدمہ پہنچا اور ہن مملکت کا ذوال شروع ہوگیا۔ (ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ ۷۷۱)ہن قوم جو ہیاطلہ Haytals یا سفید ہن With Hun اور رومی ہفالت Ephthalites، چینی یزاYetha کے علاوہ چیونی اور اپنے حکمران کے نام سے یققلی کہلاتے تھے۔ (ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ 153) (افغانستان۔ معارف اسلامیہ)
* == ماخذ ==
انہیں ہیپھتھال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے کم از کم تین بادشاہوں کے نام ہیپھتھال تھا۔ مغربی دنیا میں سب سے پہلے پروکوپس نے توجہ دی۔ اس کا کہنا ہے کہ ہن خانہ بدوش نہیں تھے وہ اس سے بہت پہلے زرعی اراضی پر آباد تھے اور انہوں نے میڈیا کے ساتھ مل کر روم پر حملہ کیا ہے۔ (بی ایس ڈاہیا۔ جاٹ۔ 81)
* == افغانستان میں نفوذ ==
ہن [[افغانستان]] میں یوچییوں کی چھوٹی شاخ کے ساتھ آئے تھے۔ جب یوچی خورد کے بادشاہ نے اپنی فتوحات کا دائرہ کوہستان ہندوکش کے جنوب تک بڑھایا اور کابل، غزنی، گندھارا کے علاقے اپنی مملکت میں شامل کئے، تو ہنوں کا ایک قبیلہ غزنین کے علاقے میں آباد ہوگیا۔ یہ ہنوں کی اپنی مملکت کی تشکیل کی ابتدائی کوشش تھی۔ کیدار نے جب آزادی کا حق منوانے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں شاپور سے ازسرنو تصادم ہوا اور میں کیدار کی مملکت چھن گئی اور خود بھی مارا گیا۔ اس جنگ میں ہنوں نے شاپورکا ساتھ دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں باختریہ کی مملکت ہنوں کے قبضہ میں آگئی، جو اپنے حکمران خاندان کے نام پر یققلی کے نام سے معروف ہوئے۔ (افغانستان۔ معارف اسلامیہ)
400ء؁ عیسوی کے قریب کوہ [[ہندوکش]] کے شمال و جنوب کی سرزمین ہنوں کے قبضہ میں آچکی تھی۔ جنہیں ہندوکش کے سلسلہ کوہستان نے دو حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ مگر زابلی شاخ شمالی شاخ کی برتری تسلیم کرتی تھی اور دونوں ریاستیں ساسانیوں کی باج گزار تھیں۔ ساسانی جب تک طاقتور رہے ہن ساسانیوں کے باج گزار رہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں ہنوں نے دیکھا ایران رومیوں کے طویل عرصہ تک رزم و پیکار اور کوہ قاف کے دروں کی وحشی قبائل کے مقابلے میں ان کی حفاظت مشکلات کا باعث ہو رہی ہے، تو ایرانی اقتدار کا جوا اتارنے کے لئے ہاتھ پیر مارنے لگے اور انہوں نے خراسان پر حملہ کردیا۔ لیکن بہرام گورنے نہایت مستعدی سے ان کا مقابلہ کیا اور انہیں مرو کے قریب ایسی شکست دی کہ ہن بہرام کی زندگی میں سراٹھانے کی ہمت نہیں کرسکے۔ (افغانستان۔ معارف اسلامیہ) (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 98)
* == ایرانیوں پر غلبہ ==
بہرام گور کی موت کے بعد یزدگرد جانشین ہوا تو ہنوں نے نہ صرف خود مختیاری حاصل کرلی بلکہ ایران پر حملے شروع کردیئے۔ یزدگرد کی موت کے بعد اس کا بیٹا ہرمزد تخت نشین ہوا، مگر اس کے دوسرے بیٹے فیروز نے نہیں مانا اور مدد لینے کے لئے ہنوں کے پاس پہنچ گیا اور ان سے مدد حاصل کرکے ایک لڑائی میں ھرمز کو قتل کردیا اور ساسانی تخت حاصل کرلیا۔ فیروز نے ہنوں کو ایک خظیر رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر فیروزنے تخت حاصل کرنے کے بعد ایفائے عہد سے انکار کردیا۔ اس پر ہنوں نے ساسانی سلطنت کے مشرقی حصہ کو تاراج کرکے اجاڑ دیا۔ فیروز نے کوشش کی کہ ہنوں کی اس سرکش کی روک تھام کرے۔ مگر وہ ناکام رہا اس لئے مجبوراََ ایک خطیر رقم کے بدلے فیروز کو ہنوں سے صلح کرنی پڑی۔ مگر یہ صلح دیرپا ثابت نہیں ہوئی اور ہنوں کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔ فیروز 482ء؁ میں وہ ایک لشکر لے کر گیا اور فیروزاور ہنوں کے درمیان بلخ کے قریب جنگ ہوئی، اس جنگ میں ساسانیوں کو شکست ہوئی اور فیروز ماراگیا۔ فیروز کے جانشین بلاش نے خراج کی ادائیگی پر صلح کرلی اور ہنوں کو ایک خظیر رقم سالانہ دینا منظور کرلیا اور اس طرح ہن ساسانیوں کے باج گزار کے بجائے ساسانیوں سے خراج لینے لگے اور ساسانیوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک ہنوں کو خراج دیا۔ (افغانستان۔ معارف اسلامیہ) (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 99۔ 100)
86,585

ترامیم