"انٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
clean up, replaced: ← (14), ← (29) using AWB
(←‏ابتدائی عمر کے بچوں کے لیے - ec: clean up, replaced: ابتدائیی ← ابتدائی using AWB)
م (clean up, replaced: ← (14), ← (29) using AWB)
[[ملف:esrb-logo.png|thumb|انٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ]]
{{Infobox company
|company_logo = [[ملف:esrb-logo.png|150px]]<br />2006-present logo
|company_name = Entertainment Software Rating Board
|company_type = Non-profit, self-regulatory
|predecessor = [[3DO Rating System]]<br />[[Recreational Software Advisory Council]]<br />[[Videogame Rating Council]]
|foundation = 1994 in [[کینیڈا]] and [[ریاستہائے متحدہ امریکہ]]
|area_served = [[کینیڈا]]<br />[[ریاستہائے متحدہ امریکہ]]
|location = {{nowrap|[[نیویارک شہر]], [[نیویارک]], U.S.}}
|key_people = [[Patricia Vance]]<br />({{small|[[صدر جمہوریہ]], [[CEO]]}})
|industry = [[Video game content rating system|Organization and rating system]]
|homepage = {{URL|http://www.esrb.org/|www.ESRB.org}}
}}
'''اینٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ''' (مجلسِ درجہ بندی برائے تفریخی سوفٹویئر) [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکہ]] کی ایک غیر سرکار تنظیم ہے جو گیمز کو کھیلنے والے شمالی امریکی بچوں کی عمر، شعور، اور ذہنی سطح کے لحاظ سے گیمز کو مخصوص درجہ بندی میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ ویڈیو گیم صنعت کا ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت صارفین کو کسی بھی گیم میں استعمال ہونے والے تشدد یا غیراخلاقی مواد کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔
 
== تعارف ==
آج لاکھوں کی تعداد میں ویڈیو گیمز ٹی وی اور کنسول سے کمپیوٹر تک ہر سہولت کے مطابق بازار میں بآسانی دستیاب ہیں جنہیوں نے مقبولیت کے ساتھ متنازع حیثیت بھی اختیار کرلی ہے اور یہ بحث بھی جاری ہے کہ کمپیوٹر گیمز کا استعمال تفریح و معلومات اور ذہنی تربیت کرتا ہے یا بچوں میں طبی، نفسیاتی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل پھیلارہا ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ کمپیوٹر کا استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے اور کمپیوٹر گیمز بھی ذہنی تربیت میں معاون ہے مگر اس کا نافہمانہ استعمال بچوں میں انتہائی مہلک اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے، مغربی مفکرین اور نفسیات دان کے مطابق جدید دور میں بنائے جانے والے گیمز بچوں اور نوجوانوں میں جارحیت پیدا کررہے ہیں، بعض ویڈیو گیمز کمپنیاں اپنے گیمز کو حقیقت سے قریب تر دکھانے اور اس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کچھ ایسے عنصر شامل کررہے ہیں جن میں ماردھاڑ تشدد اور خون خرابہ ، جزوی یا مکمل عریانیت ، جنسی تشدد، گیم کے کردار کا مجرمانہ طرز عمل یا دیگر اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد رکھنے والے ویڈیو گیمز بچوں اور نوجوانوں میں نشہ اور جارحیت جیسے مسائل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں. نفسیات کی اصطلاح میں جارحیت سے مراد ایسا رویہ ہے جو کسی بھی شے کو نقصان پہنچائے اور ایسا ارادہ جو کہ بدنیتی پر مبنی ہو،جارحیت کی تین قسمیں ہیں زبانی ، جسمانی، اور تعلقاتی، زبانی جارحیت سے مراد گیم میں کسی کردار کے ذریعہ گالی گلوچ یا فحش الفاظ کا استعمال بھی بچوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوتا ہے، تشدد چوٹ اور مارپیٹ سے مراد جسمانی جارحیت کے ہے جو سنگین اور نقصان دہ ہونے کا امکان ہوتی ہے. کیونکہ ایسے مناظر کی دیکھا دیکھی بچے اور نوجوان اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور تعلقاتی جارحیت میں عریانیت، جنسی تشدد اور غیر اخلاقی افعال، نفسیاتی ہیجان کی کیفیت پیدا کرتے ہیں.
 
ماہرین نفسیات کہتے ہیں ایسے مناظر جو بچوں ذہنی سطح اور شعوری سمجھ اور میّسر ماحول میں موجود نہ ہوں اور ویڈیو گیم کے ذریعہ ان تک پہنچیں تو اور ان کے ذہن میں ہیجان اور منفی طرز عمل کی صورت اختیار کرلیتا، ویڈیوگیم کو اگر بچہ اور نوجوان کی ذہنی سطح، عمر اور شعور کو مدنظر رکھ کر کھیلا جائے تو یہ ذہنی اور جسمانی کارکردگی کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا حل یہ نہیں کہ ویڈیو گیم کو بچوں اور نوجوانوں کے لیے خطرناک قراد دے کر ہمیشہ کے لیے پابندی لگادی جائے، بلکہ یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو ہر ویڈیو گیم کھیلنے نہ دیا جائے، بچپن سے نوجوانی اور پھر جوانی تک عمر کے ساتھ ساتھ شعور اور ذہنی سطح میں بھی فرق ہوتا ہے، ایسے بچہ اور نوجوان جو ابھی پختہ شعور تک نہیں پہنچے ہیں انہیں تشدد و جارحیت اور غیراخلاقی مواد سے بھرپور گیمز کی بجائے ان کے لیے ایسے مفید گیمز کو ترجیح دی جائے جو ان کی ذہنی تربیت میں اضافہ کرے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور سیکھنے کے عمل کو فروغ دے۔<ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = ویڈیو گیم کی نفسیات | ربط = http://gnextmag.blogspot.com/2010/10/psychology-of-video-game.html | اخبار = جنریسن نیکسٹ | تاریخ = اکتوبر 2010ء }}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = بچوں کی نفسیات پر ویڈیو گیم کے اثرات | ربط = | اخبار = ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ | تاریخ = نومبر 2010ء }}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = بچے اور ویڈیو گیمز | ربط = http://www.express.pk/story/73291/ | اخبار = روزنامہ ایکسپریس | تاریخ = 5 جنوری 2013ء }}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = ویڈیو گیم کے عادی بچے ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں، نفسیاتی ماہرین | ربط = http://www.alhaider.net/index.php?option=com_content&view=article&id=299%3A2012-06-14-19-04-00&catid=75%3A2012-04-19-03-58-46&Itemid=29 | اخبار = الحیدر | تاریخ = 19 اپریل 2012ء }}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = متنازع ویڈیو گیم | ربط = http://sarailliyasi.blogspot.com/2011/04/blog-post_25.html | اخبار = سارا الیاس بلاگ }}</ref>
 
اب والدین اپنے بچوں کے لیے اچھے اور برے گیمز سے کیسے آگاہ ہوں اس کے لیے 1993ء میں امریکہ میں ان پرشدد ویڈیو گیمز کے خلاف کانگریس میں آواز اٹھائی گئی جس میں انتہائی کامیابی سے دباؤ ڈالا گیا کہ ویڈیو گیم انڈسٹری ایک ایسا نظام وضع کرے جس سے گیم میں استعمال ہونے والے تشدد یا غیراخلاقی مواد کے بارے میں والدین کو آگاہ کیا جاسکے، چنانچہ 1994ء میں ای ایس آر بی یعنی انٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ کے نام سے ادارہ قائم ہوا۔
[[ملف:esrb-rating.jpg|thumb|ای ایس آر بی کی درجہ بندی]]
=== ابتدائی عمر کے بچوں کے لیے - ec ===
تین سال کی عمر کے بچوں کے ابتدائی گیم، جن میں تعلیمی نوعیت کے گیم مثلاً [[ریڈر ریبیٹ]]، [[جمپ اسٹارٹ]]، [[پُویوز]] اور مشہور کرداروں کے گیم مثلاً [[ڈورا دی ایکسپلورر]]، [[بوب دی بلڈر]]، [[سیسم اسٹریٹ]]، [[ڈزنی]] [[ونی پُوہ]]، [[بارنی]] اور [[ٹیم یومی زومی]] وغیرہ کے گیمز شامل ہیں
 
=== E ===
86,585

ترامیم