"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

26 بائٹ کا ازالہ ،  5 سال پہلے
م
clean up, replaced: ← (8) using AWB
م (clean up, replaced: ← (8) using AWB)
(ٹیگ: القاب)
== وجد ==
[[وجد]] (Religious ecstasy)[[تصوف]] و [[سلوک]] میں استعمال ہونے والی ایک خاص [[اصطلاح]] ہےیہ ایک کیفیت ہے جو ذکر و [[نعت]] کے وقت طاری ہوتی ہے یہ کیفیت عموما اولیاء کاملین کی محافل اور [[صحبت]] کا خاصہ ہے جسے اللہ کی محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے <br />
=== وجد کے معنی ===
حال، جذبہ، بیخودی ،سرمستی، وہ حالت اور کیفیت جوعشق الٰہی میں دل پر ایسی طاری ہوکہ انسان بیخود ہو جائے۔ حال، عشق اور شیفتگی<ref>فیروز الغات فارسی اردو طبع فیروز سنز </ref><ref>فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی</ref>
وجد؛ حال؛ بے خودی؛ سرمستی؛ کسی شدیدجذبے کا غلبہ؛ حسن، موسیقی یا فنی تخلیقات کے زیر اثر پیدا ہونے والی سرخوشی؛ فرط طرب؛ وفور انبساط؛ کسی جذبے سے مغلوب ہو کر آپے سے باہر ہو جانے کی حالت (جیسے: an ecstasy of fear)؛ وارفتگی کا عالم؛ شاعرانہ وجدان یا آمد۔<ref>http://www.nlpd.gov.pk/lughat/search.php</ref>
 
=== وجد اور تواجد کی حقیقت ===
وجد عموما بعض ذی روح چیزوں خصوصا اہل ایمان میں سے ایسے حضرات کو ہوتا ہےجو تلاوت قرآن یا نعت رسول ﷺ یا ذکر باری تعالیٰ یا بزرگان دین کی تعریف و توصیف سنتے ہیں تو ان پر کسی خاص کیفیت کا ورود ہوتا ہے یا انوار و تجلیات کا ورود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے اوپر قابو اور کنٹرول نہیں کر پاتے جس وجہ سے ان کے جسم پر اضطراب و حرکت پیدا ہوتی ہے جس کی بنا پر کبھی ادھر کبھی ادھر کبھی آگے کبھی پیچھے جھکتے اور گر پڑتے ہیں ۔اور کبھی کبھار بیہوش بھی ہوجاتے ہیں تو ایسی حرکت کو وجد حقیقی کہا جاتا ہے۔اور اس کا محمود و مستحسن ہونا قرآنی آیات و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔<ref name="فضیلت الذاکرین">فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین صفحہ 21از مفتی غلام فرید ہزاروی ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور</ref>
 
* حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لئے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ۔‘‘<ref>بہجۃ الاسرار، ذکرشي من اجوبتہ ممايدل علي قدم راسخ، ص236</ref>
 
* وجد وہ کیفیت ہے جو اتفاقاطاری ہو یہ کیفیت اوراد و وظائف کا نتیجہ ہےپس جس شخص کے وظائف زیادہ ہونگےاس پر اللہ کی عنایات بھی زیادہ ہونگی۔<ref name="رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ صفحہ 157 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>
* وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اسکا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہےاور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اسکی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں<ref>عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور</ref><br />
* جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے۔<ref name="اللمع">کتاب اللمع فی التصوف از شیخ ابو نصر سراج صفحہ 498 مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref>
وجد ایک باطنی کیفیت ہےجو طالب و مطلوب کے درمیان ہوتی ہے<ref name="کشف المحجوب">کشف المحجوب ازعلی بن عثمان الہجویری471مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref>
== وجد اور تواجد ==
وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو<ref name="رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ صفحہ 156 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref> وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے [[تواجد]] اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا [[متواجد]] نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں<ref name="رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ صفحہ 155 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>۔
اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے<br />
*رہا معاملہ تواجد کا تو تواجد کےمعنی ہیں از خود وجد والی صورت اختیار کرنا۔تواجد پر علامہ سیوطی کا فتویٰ یوں ہے کہ ذاکر خواہ ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہوجائے یہ کھڑا ہونا اختیاری ہو یا غیر اختیاری ہر حال میں جائز ہے ایسے لوگوں پر نہ انکار جائز ہے نہ انہیں منع کرنا جائز ہے<ref name="فضیلت الذاکرین">فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین صفحہ 23از مفتی غلام فرید ہزاروی ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور</ref>۔
* ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہےجو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہےباقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے<ref name="کشف المحجوب">کشف المحجوب ازعلی بن عثمان الہجویری473مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref>
* بعض بدن کی حرکت مثلا لطائف کی حرکت اور اقشعرار۔
* توجد کی لذت اور وارد کے اثر سے رقص و گردش۔
* منہ سے مختلف الفاظ کا نکلنا مثلا آہ اوہ اف تف ہاہا عا عا لالا اللہ للہ اور ہو ہو وغیرہ بعض الفاظ موضوعی اور بعض مہمل ظاہر ہوتے ہیں۔
* بکا کرنا اور رونا کہ بعض اوقات آواز اور حروف پر مشتمل ہوتے ہیں جسے بکاء مرتفع کہتے ہیں اور بعض اوقات بغیر آوازآنسو بہنے لگتے ہیں ۔
* کپڑے پھاڑنا اور قمت تسعی کے مضمون پر انوار کے غلبہ کی وجہ سے ڈرنا اور چیخنا۔
* تیز رقص یا حرکت کی وجہ سے اعضاء کا ٹوٹ جانا اوربعض اوقات موت کا خطرہ بلکہ موت واقع ہوجانا جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے صحابہ کرام میں سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ وجد کی وجہ سے مر جاتے تھے۔
* بعض اوقات بلا اختیار ہنسنے کی کیفیت طاری ہونا جیسا کہ تجلیات مالکی میں مولانا عبد المالک کی اقسام میں بیان کیا۔
* بعض اوقات انہی حرکات غیر اختیاریہ اور صیحات مختلفہ کا نماز میں طاری ہونا اور بعض اوقات خارج نماز طاری ہونا۔
86,585

ترامیم