"سب رس" کے نسخوں کے درمیان فرق

12 بائٹ کا ازالہ ،  6 سال پہلے
م
clean up, replaced: ← (4), ← using AWB
م (clean up, replaced: ← (4), ← using AWB)
== [[ملا وجہی]] کی سب رس ==
 
پروفیسر افتخار احمد شاہ اپنے مضمون ”دکن میں اسالیب نثر “ میں لکھتے ہیں:
وجہی نے اپنے ترقی یافتہ اسلوب بیان میں قافیہ بندی کا بڑا خیال رکھا ہے۔ وجہی کی عبارتوں میں دو دو تین تین جملے عام طور پر باہم قافیہ دار ہوتے ہیں۔ اسے مسجع اور مقفٰی نثر کا بڑا شوق ہے۔ یہ شوق شاید قران پاک کی تلاوت سے پیدا ہوا۔ فارسی کے تتبع میں بھی وجہی نے مقفٰی او ر مسجع عبارت لکھی ۔”سب رس“ میں تقریباً ہر فقرہ دوسرے فقرے کے ساتھ ہم قافیہ نظرآتا ہے۔مثلاً
” یو کتاب سب کتاباں کا سرتاج ، سب باتاں کا راج، ہر بات میں سو سو معراج ، اس کا سواد سمجے نا کوئی عاشق باج، اس کتاب کی لذت پانے عالم سب محتاج۔“
 
 
== نثر میں شاعری ==
 
” قدرت کا دھنی سہی جو کرتا سو سب وہی ۔ خدا بڑا ، خداکی صفت کرے کوئی کب تک، وحدہ لاشریک ، ماں نہ باپ “
 
 
== فارسی اور عربی کااثر ==
” آج لگن کوئی اس جہاں میں ہندوستان میں ہندی زبان سوں اس لطافت اور اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گھلا کر نہیں بولیا۔“
 
== سب رس کی زبان ==
 
== سب رس کی زبان ==
 
سب رس کی زبان تقریبا چار سو سال پرانی اور وہ بھی دکن کی ہے۔ اس میں بہت سے الفاظ ایسے بھی ہیں جو اب بالکل متروک ہیںاور خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور اس پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ و محاورات آجکل سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وجہی نے اپنے زمانے کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس بات کا خود اسے بھی احساس تھا۔ وجہی نے عربی فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ چارسو سال قبل بھی بالکل اسی طرح استعمال کیے جس طرح آجکل ہو رہے ہیں۔
 
شان نہ گمان، خالہ کا گھر ، کہاں گنگا تیلی کہاں راجہ بھوج، شرم حضوری ، اور دیکھا دیکھی ، گھر کا بھیدی تے لنکا جائے، دھو کا جلیا چھاچھ پھونک پیتا وغیرہ وغیرہ
 
== لسانی اہمیت ==
 
”سب رس“ اور وجہی کے معاصرین کے ذریعے ہماری اردو نے جڑ پکڑی۔ سب رس کا لسانی دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھاشا ، گوالیاری ، راجستھانی اور دوسری زبانوں کے محاورے ، ضرب الامثال اور اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ وجہی نے شمالی ہند اور جنوبی ہند کی زبانوں کی خلیج مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میر تقی میر نے دکنی زبانوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا اور اسے ”نثر بے رتبہ “ کہہ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن ”سب رس“ کی لسانی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس نے باب مراتب اور فرق مراتب ختم کرکے ایک نئی زبان دی ہے۔ وجہی کی نثر کو اگر آج بھی غور سے پڑھا جائے توہم تقریباً تمام کی تمام زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
== لسانی اہمیت ==
 
”سب رس“ اور وجہی کے معاصرین کے ذریعے ہماری اردو نے جڑ پکڑی۔ سب رس کا لسانی دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھاشا ، گوالیاری ، راجستھانی اور دوسری زبانوں کے محاورے ، ضرب الامثال اور اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ وجہی نے شمالی ہند اور جنوبی ہند کی زبانوں کی خلیج مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میر تقی میر نے دکنی زبانوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا اور اسے ”نثر بے رتبہ “ کہہ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن ”سب رس“ کی لسانی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس نے باب مراتب اور فرق مراتب ختم کرکے ایک نئی زبان دی ہے۔ وجہی کی نثر کو اگر آج بھی غور سے پڑھا جائے توہم تقریباً تمام کی تمام زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
 
== کردار نگاری ==
 
وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات ، موضوعات ، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی عالم دین صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوئوں کی برائی کی ہے۔
 
 
== وجہی پہلا انشائیہ نگار ==
 
== مجموعی جائزہ ==
 
زبانیں مقام عروج تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لیتی ہیں۔ ارد و نثر نے تو بہت تیزی سے ارتقائی مسافتوں کو قطع کیا۔ الغرض اس طویل ارتقائی سفر کا نقطہ آغاز”سب رس“ ہے ۔اردو نثر کا خوش رنگ او ر خوش آہنگ نقشہ او ر ہیئت جو آج ہمیں نظر آرہی ہے اس میں ابتدائی رنگ بھرنے کا اعزاز وجہی کو حاصل ہے اور اردو کی نثری ادب میں ”سب رس “ کا درجہ نہایت بلند و بالا اور وقیع ہے۔ ”سب رس “ اگرچہ اولین کوشش مگر بہترین کوشش ہے۔
86,585

ترامیم