"ملا عمر" کے نسخوں کے درمیان فرق

141 بائٹ کا ازالہ ،  5 سال پہلے
م
clean up, replaced: ← (86), ← (36), ← (17) using AWB
(غیر ضروری مواد کا حذٖف)
م (clean up, replaced: ← (86), ← (36), ← (17) using AWB)
{{Infobox Officeholder
|honorific-prefix =
|name = ملا محمد عمر
|image = Mohammedomar.jpg
|image_size = 200px
|order = [[افغان صدر|امیرالمؤمنین]]
|primeminister = [[محمد ربانی]]<br>[[عبدالکبیر]] <small>(قائم مقام)</small>
|term_start = 27 ستمبر [[1996ء]]
|term_end = 13 نومبر [[2001ء]]
|predecessor = [[برہان الدین ربانی]] <small>(صدر)</small>
|successor = برہان الدین ربانی <small>(صدر)</small>
|birth_date = {{Circa|1960}}
|birth_place = نودیہہ، [[افغانستان]]
|death_date = 23 Aprاپریلil 2013 {{small|(شام کے وقت)}}<ref name="NYT_July"/><ref name="time-2015">{{Cite news |url=http://time.com/3976472/mullah-omar-taliban-death/ |title=Mullah Omar Taliban Death |work=Time |author=Nikhil Kumar |date=29 July 2015 |accessdate=29 July 2015}}</ref>>
|death_place = [[Taizeni]] village<ref>{{cite web |url=https://twitter.com/hashtag/Taizeni?src=hash |title=#Taizeni |publisher=Twitter}}{{RS|date=July 2015}}</ref>، [[افغانستان]]<ref name="Dawn"/> یا[[کراچی]]، [[سندھ]]، [[پاکستان]]<ref name="time-2015"/>
|party = [[افغان مجاہدین|مجاہدین]]<br>[[طالبان]]
|alma_mater =
|religion = [[اہل سنت|سنی]]
|battles = [[جنگ افغانستان (1978ء - 2014ء)]]<br>[[افغانستان میں سوویت جنگ]]<br>[[جنگ افغانستان (2001ء– 2013ء)]]
}}
 
 
== ابتدائی زندگی ==
ملا محمد عمر [[1959ء]] افغانستان کے جنوبی شہر [[قندھار]] میں پیداہوۓ تهے۔ دینی مدرسوں سے تعلیم پائی۔وہ [[ دیوبند]] مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تهے۔ وہ ایک [[اسلام پسند]] [[پشتون]] تهے۔ پہلے وہ [[روس|روسی]] فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہتے تهے۔ ایک معرکے میں وہ زخمی ہوۓ تهے اور انکی ایک آنکھہ ختم ہو گئی تهی ۔
 
== ذاتی زندگی ==
ملا عمر نے بہت کم انٹرویو دیۓ۔ اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔
 
ملا محمد عمر کی زندگی اور [[افغانستان]] کی سیاست میں [[1979ء]] کا سن کافی اہمیت رکھتا ہے- اسی برس ایک طرف تو افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں خمینی انقلاب آتا ہےاور مغربی ذرائغ ابلاغ میں لفظ فنڈامینٹلزم یعنی قدامت پرستی پہلی دفعہ سنائی دیتا ہے- دوسری طرف روسی افواج افغانستان میں داخل ہوتی ہیں- یہ سرد جنگ کا دور تھا- مغربی ممالک بالخصوص امریکہ پاکستان کے سہارے کمیونسٹ افواج کے خلاف [[افغانستان]] میں جنگجوؤں کی امداد کرتے ہیں- یہ جنگجوؤں کو اس وقت مجاہدین کہا جانے لگا تھا- انہیں میں بیس برس کا ایک نوجوان شامل تھا جسکا نام محمد عمر تھا-
 
== روس کی واپسی ==
 
== کابل پر قبضہ ==
ملا محمد عمر کی قیادت میں پاکستان اور عربوں کی مدد سے طالبان نے 1996میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ اور افغانستان کو اسلامی امارات قرار دیکر ملا محمد عمر کو امیرالمومنین کے خطاب سے نوازا گیا- جلد ہی طالبان نے افغانستان کے نوے فیصدی حصے پر قبضہ کرلیا- افغانستان پرگزشتہ بائیس برسوں میں سے پانچ برس طالبان کا قبضہ رہا۔ تقریبًا سات برس لاقانونیت کی نظر تھے اور دس برس روسی افواج قابض تھیں۔
 
== حلیہ اور شخصیت ==
ملا محمد عمر مقامی کسانوں کی بولی بولتے تهے- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے تهے- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کے لیے اپنے دوست [[اسامہ بن لادن]] کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی دو ایک بیوی اور آٹھ یا نو بچے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہوگیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گئے۔[[افغانستان میں سوویت جنگ]] کے دوران روسیوں کیخلاف لڑتے ہوئے کہیں بار ملا عمر زخمی بھی ہوئے تھے جس میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ بھی کھودی تھی۔ معروف پاکستانی صحافی [[اوریا مقبول جان]] کا ملا عمر کی شخصیت کے متعلق کہنا ہے کہ میں 1988ء میں [[چمن]] میں ہوتا تھا وہاں اکثر قبائلی لڑائیاں ہوا کرتی تھی،ایک مرتبہ جب نورزئی اور اچکزئی قبیلے کے درمیان لڑائی ہورہی تھی تو میں نے ملا عمر کو دیکھا کہ بہت پریشان تھے،وہ ہمیشہ اس بات سے دکھی ہوتے تھے کہ میری قوم آپس میں کیوں ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ ملا عمر نے جب ابتدائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے [[صوبہ کندہار]] سے شروع کیا۔
 
== اسامہ اور عمر ==
 
==امریکہ کا مطالبہ اور افغانستان پر جنگ==
{{اس|افغانستان میں سوویت جنگ|جنگ افغانستان 2002ء|جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)}}1979ء جب [[سوویت اتحاد]] یا عام طور پر جسے روس کہا جاتا تھا،روس نے افغانستان پر اپنا قبضہ چاہا جس کے لئے روس ایک اور خودمختار ملک افغانستان میں کھود پڑا، اسی بات نے پورے اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں روسیوں سے نمٹنے کیلئے [[افغان مجاہدین|مجاہدین]] کی تنظیم وجود میں آئی جس کو پاکستان،سعودی عرب،امریکہ سمیت بیشتر اسلامی ممالک نے امداد فراہم کی۔ایک طویل عرصے کے بعد مجاہدین کامیاب ہوگئے اور سوویت اتحاد کو ایک زبردست شکست دیا جس کی نتیجے میں نہ صرف سوویت اتحاد کو افغانستان سے بھاگنا پڑا بلکہ [[سویت اتحاد]] جو ایک عظیم ملک تک جو ایشیاء اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا تھا،شکست کے بعد سوویت اتحاد بھی نہ بچ سکا اور تکڑے تکڑے ہوگیا جس سے نئے ممالک وجود میں آئے جن میں [[روس]]، [[ازبکستان]]، [[ترکمنستان]]، [[تاجکستان]]، [[آرمینیا]]،[[یوکرین]]، [[جارجیا]] وغیرہ شامل ہیں۔ ایک طویل لڑائی اور خون ریزی کے بعد افغان مجاہدین جب فتح یاب ہوئے تو افغانستان میں [[اسلامی امارت افغانستان]] قائم ہوا جس کو [[پاکستان]] اور [[سعودی عرب]] نے کھل کر تسلیم کیا۔
 
اس کے بعد [[سانحہ گیارہ ستمبر]] (نائن الیون) پیش آیا جس کا الزام امریکہ نے [[اسامہ بن لادن]] پر لگایا۔اسامہ نے جا کر افغانستان میں پناہ لی ، یاد رہے کہ اس وقت [[اسلامی امارت افغانستان]] کی حکومت مجاہدین یا افغان طالبان کے ہاتھوں میں تھی جس کی قیادت ملا محمد عمر کر رہے تھے۔ امریکہ نے ملا محمد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرے ورنہ انجام برا ہوگا۔اس کے جواب میں ملا عمر نے کہا کہ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر تمہارے گھر میں کوئی پناہ لے تو اس کی حفاظت کرو۔ ملا عمر نے اسلامی اور [[پشتونوالی|پشتون روایات]] کی پاسداری کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو حوالہ کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا۔کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا عمر نے ہزاروں علماء کو دعوت پر بلایا کہ کیا اسلام ہمیں اس بات کا اجازت دیتا ہے کہ ہم اسامہ جیسے افراد کو کسی اور کے حوالے کرے تو علماء نے ان کو کہا کہ اسلام کے مطابق اگر کوئی آپ کے گھر پناہ لے تو ہر گز اس کو دشمن کے ہاتھوں حوالے مت کرنا۔
 
اس کے بعد جب ملا عمر نے پھر واضح طور پر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو امریکہ نے افغانستان میں افواج اتارے اور ایک اور جنگ شروع ہوگئی۔امریکہ کے پاس وسائل تھے جبکہ دوسری طرف [[اسلامی امارت افغانستان]] کے پاس اتنے وسائل اسلئے نہیں تھے کیونکہ امریکہ کے بہ نسبت افغانستان ایک چھوٹا اور کمزور ملک تھا اور اس سے پہلے وہ سوویت اتحاد سے ایک عظیم جنگ کرچکا تھا جس سے افغانستان کمزور ہوا تھا۔ پاکستان بھی امریکہ کیخلاف [[اسلامی امارت افغانستان]] کی مدد کرتا رہا لیکن آخر کار اسلامی امارت ختم ہوگئی اور ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے افغانستان کی حکومت چلی گئی۔ [[جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)|امریکہ اور طالبان کے مابین جنگ]] 2001 میں شروع ہوئی تھی اور تاحال جاری ہے۔
 
=== جنگ سے قبل خطاب ===
{{اقتباس|عجیب بات ہے کہ میں نہ حواس باختہ ہوتا ہوں اور نہ ہی بے دینوں کے ساتھ اسلام کے خلاف راستہ اختیار کرتا ہوں، باوجود یہ کہ میرا اوتدار بھی خطرے میں ہے، میری سربراہی اور کرسی بھی خطرے میں ہے۔ میری زندگی بھی خطرے میں ہے، پھر بھی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، اگر میں کافروں کے مطالبے پر ایسی راہ اختیار کرلوں جو اسلام کے خلاف ہو اسن کے ساتھ موافقت کروں اور اسن کے ساتھ معاملات ٹھیک رکھوں تو میری ہر چیز مستحکم ہوگی، میری بادشاہی اور سلطنت بھی برقرار رہے گی اور اسی طرح طاقت، پیسہ اور جاہ و جلال بھی خوب ہوگا، جس طرح دیگر ممالک کے سربراہوں کا ہے، لیکن اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لیے حاضر ہوں، سب کچھ کرنے کے لیے حاضر ہوں، جان قربان کرتا ہوں، سب کچھ سے بے پرواہ ہوچکا ہوں، سلطنت، اقتدار، طاقت اور ہر چیز کی قربانی کا عزم کرچکاہوں ، اسلامی غیرت کرتا ہوں، اسلام پر فخر کرتا ہوں، اس پاک وطن پر غیرت کرتا ہوں۔
}}<ref>افغانستان پر امریکی حملوں سے قبل ملا عمر کا اپنی قوم سے خطاب</ref>
 
==وفات==
29 جولائی 2015 کو افغان مخابرات نے یہ خبر دی تھی کہ ملا محمد عمر کا[[کراچی]] میں انتقال ہوگیا ہے ، کچھ طالبان نے اس بات کی تردید کردی تھی کیونکہ [[مری]] میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہور رہے تھے،لیکن جب اس خبر نے زور پکڑ لیا تو افغان طالبان نے 30 جولائی 2015 کو اس بات کی تائید کردی کہ ملا عمر کا [[صوبہ ہلمند]] میں انتقال ہوا تھا طالبان کے مطابق اُن کی وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی۔وفات کے وقت اُن کے ساتھ ان کے اہم کمانڈر عبد الجبار تھے۔ کمانڈر عبد الجبار نے ہی طالبان کے پانچ اہم کمانڈروں کو ملا عمر کی موت کی اطلاع دی۔ طالبان نے یہ بھی بتایا کہ نائب امیر [[ملا اختر منصور]] افغان طالبان کے نئے امیر ہونگے<ref>[http://daily.urdupoint.com/news/2015-07-31/important-news-204960.html افضان طالبان کی ملا عمر کی وفات کی تصدیق]</ref>۔
 
==حوالہ جات==
{{افغانستان صدر}}
[[سانچہ:افغانستان صدر]]
 
[[زمرہ:بیسویں صدی کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1960ء کی دہائی کی پیدائشیں]]
86,585

ترامیم