"حیدرآباد، سندھ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
ابتدائیے میں معمولی ترمیم
م (نیرون قلعہ پر محمّد بن قاسم کا حملہ)
م (ابتدائیے میں معمولی ترمیم)
| نام = حیدرآباد
| مقامی_یا_انگریزی_نام =
| شہر_تصویر = Morning_View_Clock_Tower_Hyderabad.jpg
| ملک = پاکستان
| صوبہ = سندھ
| ذیلی_نوٹ =
}}
'''حیدرآباد''' [[پاکستان|پاکستانی]] صوبۂ [[سندھ]] کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ [[1935ء]] تک سندھ کا [[دارالخلافہ]] تھا اور اب ایک ضلع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں اِس شہر کی بُنیاد [[میان غلام شاہ کلہوڑو]] نے [[1768ء]] میں رکھی۔ اِس سے قبل، یہ شہر مچھیروں کی ایک بستی تھی جس کا نام '''نیرون کوٹ''' تھا۔
'''حیدرآباد''' [[پاکستان]] کے صوبہ [[سندھ]] کا دوسرا بڑا شہر ہے جو کہ 1935 تک سندھ کا [[دارالخلافہ]] رہا۔ اس شہر کی بنیاد 1768 میں [[میان غلام شاہ کلہوڑو]] نے رکھی۔ قبل بنیاد یہ شہر ایک مچھیروں کا گاؤں تھا جس کا نام '''نیرون کوٹ''' تھا۔ پاکستان کے وقوف میں آنے سے پہلے اس شہر کو [[ہندوستان]] کے [[پیرس]] کا درجہ دیا جاتا تھا{{حوالہ درکار}} کیونکہ اس کی سڑکیں [[گلاب]] کے عرق سے صاف کی جاتی تھیں۔{{حوالہ درکار}} اپنی تاریخ میں یہ شہر سندھ کا دارالخلافہ رہ چکا ہے، اسی لئے یہ اب ایک ضلع کی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزوں کی حکومت سے لے کر 1980 کے سانحے{{حوالہ درکار}} تک حیدرآباد اپنی پہچان کھو چکا تھا اور اس کی تاریخی عمارات کھنڈروں میں تبدیل ہو گئیں۔{{حوالہ درکار}} سیاسی اعتبار سے حیدرآباد کو ایک اہم مقام حاصل ہے کیونکہ یہ شہری اور دیہاتی سندھ کے درمیان ایک دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی عالم اور صوفی درویشوں کی پیدائش ہوئی ہے اور اس شہر کی ثقافت اس بات کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حیدرآباد دنیا کی سب سے بڑی [[چوڑی|چوڑیوں]] کی صنعت گاہ ہے۔ یہ شہر پاکستان کے کچھ اہم ترین تاریخی و تہذیبی عناصر کے پاس وقوع ہے۔ تقریباً 110 کلومیٹر کی دوری پر [[امری]] ہے جہاں [[ہڑپہ کی تہذیب|ہڑپہ کی ثقافت]] سے بھی قبل ایک قدیم تہذیب کی دریافت کی گئی ہے۔ جہاں یہ شہر اپنی تہذیب و تمدن کے لئے جانا جاتا ہے وہاں اسکے میڈیکل اور تعلیمی ادارے بھی بہت جانے مانے ہیں۔ حیدرآباد میں تقسیم ہند کے بعد بنائ گئی سب سے پہلی [[یونیورسٹی]] کا قیام ہے۔
 
[[تقسیم ہند|تقسیمِ ہند]] سے قبل، حیدرآباد ایک نہایت خوبصورت شہر تھا اور اِس کی سڑکیں روز [[گلاب]] کے عرق سے نہلائی جاتی تھیں۔{{حوالہ درکار}} بعد از [[برطانوی راج]]، یہ اپنی پہچان کھوتا رہا اور اب اِس کی تاریخی عمارات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئیں ہیں۔
 
'''حیدرآباد''' [[پاکستان]] کے صوبہ [[سندھ]] کا دوسرا بڑا شہر ہے جو کہ 1935 تک سندھ کا [[دارالخلافہ]] رہا۔ اس شہر کی بنیاد 1768 میں [[میان غلام شاہ کلہوڑو]] نے رکھی۔ قبل بنیاد یہ شہر ایک مچھیروں کا گاؤں تھا جس کا نام '''نیرون کوٹ''' تھا۔ پاکستان کے وقوف میں آنے سے پہلے اس شہر کو [[ہندوستان]] کے [[پیرس]] کا درجہ دیا جاتا تھا{{حوالہ درکار}} کیونکہ اس کی سڑکیں [[گلاب]] کے عرق سے صاف کی جاتی تھیں۔{{حوالہ درکار}} اپنی تاریخ میں یہ شہر سندھ کا دارالخلافہ رہ چکا ہے، اسی لئے یہ اب ایک ضلع کی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزوں کی حکومت سے لے کر 1980 کے سانحے{{حوالہ درکار}} تک حیدرآباد اپنی پہچان کھو چکا تھا اور اس کی تاریخی عمارات کھنڈروں میں تبدیل ہو گئیں۔{{حوالہ درکار}} سیاسی اعتبار سے حیدرآباد کو ایک اہم مقام حاصل ہے کیونکہ یہ شہری اور دیہاتی سندھ کے درمیان ایک دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی عالم اور صوفی درویشوں کی پیدائش ہوئی ہے اور اس شہر کی ثقافت اس بات کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حیدرآباد دنیا کی سب سے بڑی [[چوڑی|چوڑیوں]] کی صنعت گاہ ہے۔ یہ شہر پاکستان کے کچھ اہم ترین تاریخی و تہذیبی عناصر کے پاس وقوع ہے۔ تقریباً 110 کلومیٹر کی دوری پر [[امری]] ہے جہاں [[ہڑپہ کی تہذیب|ہڑپہ کی ثقافت]] سے بھی قبل ایک قدیم تہذیب کی دریافت کی گئی ہے۔ جہاں یہ شہر اپنی تہذیب و تمدن کے لئے جانا جاتا ہے وہاں اسکے میڈیکل اور تعلیمی ادارے بھی بہت جانے مانے ہیں۔ حیدرآباد میں تقسیم ہند کے بعد بنائ گئی سب سے پہلی [[یونیورسٹی]] کا قیام ہے۔
 
== تاریخ ==
1,262

ترامیم