"شاہراہ ریشم" کے نسخوں کے درمیان فرق

19 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (bot: removed {{Link GA}}, it is now given by wikidata)
م
عہد{{زیر}} قدیم (Ancient Ages) کے ان تجارتی راستوں کو مجموعی طور پر '''شاہراہ ریشم''' ([[انگریزی زبان|انگریزی]]:Silk Road یا Silk route) کہا جاتا ہے جو [[چین]] کو [[اناطولیہ|ایشیائے کوچک]] اور [[بحیرہ روم]] کے ممالک سے ملاتے ہیں۔ یہ گذر گاہیں کل 8 ہزار کلو میٹر (5 ہزار میل) پر پھیلی ہوئی تھیں۔ شاہراہ ریشم کی تجارت [[چین]]، [[مصر]]، [[بین النہرین]]، [[فارس]]، [[برصغیر|بر صغیر]] اور [[روم]] کی تہذیبوں کی ترقی کا اہم ترین عنصر تھی اور جدید دنیا کی تعمیر میں اس کا بنیادی کردار رہا ہے۔
 
شاہراہ ریشم کی اصطلاح پہلی بار جرمن جغرافیہ دان [[فرڈیننڈ وون رچٹوفن]] نے [[1877ء]] میں استعمال کی تھی۔ اب یہ اصطلاح [[پاکستان]] اور [[چین]] کے درمیان زمینی گذر گاہ [[شاہراہ قراقرم]] کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔
 
مغرب سے [[شمالی چین]] کے تجارتی مراکز تک پھیلی یہ تجارتی گذر گاہیں [[سطح مرتفع تبت]] کے دونوں جانب شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہیں۔ شمالی راستہ بلغار قپپچاق علاقے سے گذرتا ہے اور چین کے شمال مغربی صوبے [[گانسو]] سے گذرنے کے بعد مزید تین حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جن میں سے دو [[صحرائے ٹکلا مکان]] کے شمال اور جنوب سے گذرتے ہیں اور دوبارہ [[کاشغر]] پر آ کر ملتے ہیں جبکہ تیسرا راستہ [[کوہ تین شان|تین شان]] کے پہاڑوں کے شمال سے [[طرفان]] اور [[الماتی]] سے گذرتا ہے۔
 
یہ تمام راستے [[وادئ فرغانہ|وادی فرغانہ]] میں [[خوقند]] کے مقام پر ملتے ہیں اور مغرب میں [[صحرائے کراکم]] سے [[مرو]] کی جانب جاری رہتے ہیں اور جہاں جلد ہی جنوبی راستہ اس میں شامل ہو جاتا ہے۔
ایک راستہ [[دریائے جیحوں|آمو دریا]] کے ساتھ شمال مغرب کی جانب مڑ جاتا ہے جو شاہراہ ریشم پر تجارت کے مراکز [[بخارا]] اور [[سمرقند]] کو [[استراخان]] اور [[کریمیا|جزیرہ نما کریمیا]] سے ملاتا ہے۔ یہی راستہ [[بحیرہ اسود]]، [[بحیرہ مرمرہ]] سے [[بلقان]] اور [[وینس]] تک جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ [[بحیرہ قزوین]] اور [[قفقاز]] کو عبور کر کے [[جارجیا]] سے [[بحیرہ اسود]] اور پھر [[قسطنطنیہ]] تک پہنچتا ہے۔
 
شاہراہ ریشم کا جنوبی حصہ شمالی ہند سے ہوتا ہوا [[ترکستان]] اور [[خراسان]] سے ہوتا ہوا [[بین النہرین]] اور [[اناطولیہ]] پہنچتا ہے۔ یہ راستہ جنوبی [[چین]] سے [[ہندوستان]] میں داخل ہوتا ہے اور [[دریائے برہم پتر|دریائے برہم پترا]] اور [[دریائے گنگا|گنگا]] کے میدانوں سے ہوتا ہوا [[بنارس]] کے مقام پر [[قومی شاہراہ پاکستان|جی ٹی روڈ]] میں شامل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ شمالی [[پاکستان]] اور [[سلسلہ کوہ ہندوکش|کوہ ہندو کش]] کو عبور کر کے مرو کے قریب شمالی راستے میں شامل ہو جاتا ہے۔
 
بعد ازاں یہ راستہ عین مغرب کی سمت اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور شمالی [[ایران]] سے [[صحرائے شام]] عبور کرتا ہوا [[سرزمین شام|لیونت]] میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں سے بحیرہ روم میں بحری جہازوں کے ذریعے سامان تجارت [[اطالیہ|اٹلی]] لے جایا جاتا تھا جبکہ شمال میں [[ترکی]] اور جنوب میں [[شمالی افریقہ]] کی جانب زمینی قافلے بھی نکلتے تھے۔
 
== مزید دیکھئے ==
[[زمرہ:تاریخ فارس]]
[[زمرہ:ایشیاء میں شارعی نقل و حمل]]
 
[[زمرہ:پاکستان کی شاہراہیں]]
[[زمرہ:شاہراہ ریشم| ]]
18,607

ترامیم