"فیض احمد فیض" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
←‏راولپنڈی سازش کیس: ایک ہی قطعے میں ایک ہی چیز کے ہزارہا ربط بنانے کی کیا ضرورت؛ چھوڑ دو لیاقت علی خان کی جان اب۔
م (←‏راولپنڈی سازش کیس: ایک ہی قطعے میں ایک ہی چیز کے ہزارہا ربط بنانے کی کیا ضرورت؛ چھوڑ دو لیاقت علی خان کی جان اب۔)
=== راولپنڈی سازش کیس ===
{{مزید|راولپنڈی سازش}}
[[لیاقت علی خان]] کی حکومت [[کشمیر]] کو پانے میں ناکام ہو گئی تھی اور یہ بات پاکستانی افواج، یہاں تک کہ قائد اعظم‎ [[محمد علی جناح]]، کو بھی گوارہ نہ تھی۔ جناح نے خود [[لیاقت علی خان]] کی ناکامی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ یہ بات بھی یقینی تھی کہ جنرل [[ڈگلس گریسی]] نے بھی اِس معاملے میں [[قائد اعظم‎]] کی نہ سُنی۔ اور تو اور، [[امریکہ]] سے واپسی پر [[لیاقت علی خان]] نے کمیونسٹ پارٹی اور [[پاکستان سوشلسٹ پارٹی]] پر پابندی لگا دی۔ [[مشرقی پاکستان]] میں البتہ، [[ایسٹ پاکستان کمیونسٹ پارٹی]] فعال رہی اور دھرنے دیتی رہی۔
 
[[23 فروری]] [[1951ء]] کو چیف آف جنرل سٹاف، میجر جنرل اکبر خان کے گھر پر ایک خفیہ ملاقات کا انعقاد ہوا۔ اِس ملاقات میں دیگر فوجی افسران، [[سجاد ظہیر]] اور فیض کے ساتھ، شامل تھے۔ یہاں موجود اِن سب لوگوں نے [[لیاقت علی خان]] کی گورنمنٹ کو گرانے کا ایک منصوبہ تجویز دیا۔ یہ سازش بعد میں [[راولپنڈی سازش]] کے نام سے جانی جانے لگی۔
 
{{شعر آغاز}}
{{شعر اختتام}}
 
[[9 مارچ]] [[1951ء]] کو فیض کو [[راولپنڈی سازش]] كیس میں معاونت كے الزام میں حكومتِ وقت نے گرفتار كر لیا۔ آپ نے چار سال [[سرگودھا]]، [[ساہیوال]]، [[حیدرآباد، سندھ|حیدرآباد]] اور [[کراچی]] كی جیلوں میں گزارے؛ جہاں سے آپ كو [[2 اپریل]] [[1955ء]] كو رہا كر دیا گیا ۔ [[زنداں نامہ]] كی بیشتر نظمیں اِسی عرصہ میں لكھی گئیں۔ رہا ہونے کے بعد آپ نے جلاوطنی اختیار کر لی اور [[لندن]] میں اپنے خاندان سمیت رہائش پذیر رہے۔ فیض نے جلاوطنی کی زندگی گزارتے ہوئے ایک شعر میں کہا:
 
{{شعر آغاز}}
1,262

ترامیم