"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
اشوک نے دور دراز کے ملکوں مثلاََ لنکا، برما، سیام، سماٹرا، شام، مقدونیہ اور مصر میں اپنے مغلبین بھیجے۔ انہوں نے جنوبی ملکوں میں شاندار کامیابی حاصل کیں۔ اشوک نے بدھ کی اخلاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے انہیں پتھروں کی سلوں کی پر کندہ کرا کر انہیں شاہراؤں پر نصب کروائے۔ اس کی تعلیمات جو بدھ سے ماخذ ہیں ان میں عدم تشد، جانداروں کی زندگی کی تحریم، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک، ماں اور باپ اور استادوں کی تعظیم، راست گوئی، عام ہمدردی اور فیاضی پر ذور دیا گیا ہے۔ اس نے مختلف مقامات پر مسافر خانے، کنوئیں اور شفاخانے تعمیر کرائے۔ نیز جانوروں کو ہلاک کرنا ممنوع قرار دیا۔ اشوک نے اپنی حکومت کے چوبیسویں سال مقدس مقامات کی زیارت کی اور گوتم کی یاد میں لمبنی باغ قریب جہاں گوتم پیدا ہوا تھا ایک مینار نصب کرایا۔ علاوہ ازیں اشوک نے بدھ مت کے فرقوں کے اختلاف ختم کروانے کے لئے ایک مجلس منعقد کروائی۔
اشوک کو عمارتیں بنوانے کا شوق تھا۔ اس نے مختلف مقامات پر عالی شان محلات، خانقائیں اوراسٹوپے Stups تعمیر کروائے جن کے نشانات اب نہیں ملتے ہیں۔ اس نے سنیاسیوں کی عبادت کے لئے گیا کے قریب برابر کے پہاڑوں میں چٹانوں کو کاٹ خوب صورت اور بہت ہی صاف سفاف خانقائیں بنوائیں جو اب بھی باقی ہیں۔ مگر اس کی تمام یادگاروں میں اہم اس کے کتبہ ہیں جو تعداد میں تیس ہیں۔ یہ کتبہ زیادہ تر چٹانوں کی سلوں، غاروں کی دیواروں اور ستونوں پر کندہ ہیں برصغیر کے بہت سے حصوں میں پائے گئے ہیں۔ ان کی زبان پراکرت ہے، یعنی وہ مقامی زبانوں میں ہیں۔ ان کتبوں میں دو کا رسم الخط وہ ہے جسے آج کل کروشتھی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔یہ رسم الخظ قدیم آرامی رسم الخظ سے ماخوذ ہے اور دائیں سے بائیں لکھا جاتا تھا۔ بقیہ کتبے براہمی حروف کے کسی نہ کسی شکل میں کندہ۔ یعنی ان حروف میں ہیں جن سے موجودہ دیوناگری رسم الخط نکلا ہے۔ یہ حروف دائیں سے بائیں لکھے جاتے تھے۔ یہ کتبات شاہی فرامین ہیں اور زیادہ تر اخلاخی اصول بدھ کی عام تعلیمات، نظم و نسق اور اصول سلطنت پر مشتمل ہیں۔
== موریاموریہ سلطنت کا ذوالزوال ==
یہ حقیقت ہے جو قیام امن کے لیے قائم ہوتی ہے خود بغیر جنگ اور عسکری طاقت کے بغیر قائم رہے نہیں سکتی ہے۔ اشوک نے اپنی تمام زندگی میں عدم تشدد کی پر زور تبلیغ کی اور ان کے اصولوں سیاسی اور اجتماعی زندگی میں اپنانے اور قابل عمل بنانے کی کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں کے اندر سطنت کی حربی طاقت ختم ہوگئی اور فوج کا جنگی جذبہ سرد ہوگیا، نظام حکومت کمزور ہوگیا اور اس کی ہیبت لوگوں کے دلوں سے اٹھ گئی۔ ساتھ ہی ساتھ بدھ مت کی تبلیغ کی وجہ سے برہمنیت جاگ اتھی اور وہ نچ ذات کے بدھ فرمانروا کو اکھاڑ پھیکنے پر تل گئی۔ طاقت کے استعمال کا خوف تھا ہی نہیں اس لیے بڑی بیباکی کے ساتھ اعلیٰ اور ادنیٰ ذاتوں کا مسلہ کھڑا کر کے مذہبی جذبات بھڑکا دیا گیا، اشوک کے موت کے بعد موریاسلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ ایک طرف اشوک کے بیٹوں اور پوتوں نے حصہ بخرے کر لئے اور دوسری طرف بعض حوصلہ مندوں نے بعض مقامات پر قبضہ جمالیا اور یہ بتانا مشکل ہوگیا کہ اشوک کے بعد اس کا جانشین کون ہوا۔ پران کی روایت میں کنال kunak جو اشوک کا بیٹا تھا پہلا جانشین بتاتا ہے۔ مگر کشمیر کے واقع نگار ایک شخص جلوک Jalauka اس کا بیٹا اور جانشین کہتے ہیں۔ تیسری بدھ مت کی روایتں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑھاپے میں اشوک کا انہماک مذہب کی طرف اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ حکومت کے کاموں سے غفلت برتنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کے سلطنت کے کل پرزے ڈھیلے پڑگئے اور آمدنی بے جا طور پر صرف ہونے لگی۔ یہ حالات دیکھ کر وزراء نے اشوک کے اختیارات سلب کر کے اس کے پوتے سمپری Samprti جو کنال کا بیٹا تھا تخت پر بیٹھا دیا۔ ان روایات کے مطابق سمپرتی کے بعد موریا خاندان کے چار اور حکمران برشین Brashisin، پسی Pushydrman دھرمن، اور پشی متر Pushidhrman تخت پر بیٹھے۔ جین روایت بھی اس کی تصدیق کرتی ہے کہ سمپرتی اشوک کا جانشین ہوا۔ ان روایات کے پہلو بہ پہلو وہ کتبے ہیں جو ناگرجنیNagarjuni کے پہاڑ کے غاروں میں کندہ ہیں جو اشوک کے پوتے دسرتھ Dasartha نے بنوائے تھے۔ یہ غار اشوک کے کھدوائے ہوئے برابر پہاڑ Brabar Hillکے غاروں کے قریب واقع ہیں۔ ان کتبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشوک کی موت کے بعد دسرتھ تخت پر بیٹھا، یا کم از کم مشرقی صوبوں میں اس کا جانشین ہوا۔ دسرتھ اشوک کے ایک بیٹے تیور Tivra کا بیٹا تھا جو شاید باپ کی زندگی میں مر گیا تھا، کیوں کہ اشوک کے بعد اس کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ حلانکہ اشوک کا یہی ایک بیٹا تھا جس کا ذکر کتبوں میں آیا ہے۔ وشنو پران کی روایات کے مطابق موریا خاندان کے چار حکمران شالی شوک Sali suka، دیو ورمن Devavarman، ستمدہنوس Satamdhmus اور برہدرتھ Brihadrtha پاٹلی کے تخت پر بیٹھے۔ ہر نیا حکمران سابق حکمران سے کمزور تر نکلا۔ آخر انحاط اس حد تک پڑھا کے فوج کے سالار پشی متر Pushyammitra نے راجہ (برہدرتھ) کو قتل کرکے موریا خاندان کا خاٹمہ کردیا۔
 
== نظام حکومت ==
موریا حکومت اس دور کی دوسری ہندی حکومتوں کی طرح شخصی، مورثی اور مطلق العنان تھی۔ راجہ دیوتا کا نائب اور اس کی طاقتوں کا مظہر تھا۔ تمام عدالتی، انتظامی اور فوجہ اختیارات صرف اسے حاصل تھے۔ مگر وہ اکیلا تمام امور انجام دے نہیں سکتا تھا۔ اس لیے اس نے مشیروں ایک مجلس ”منتری پریشد“ Mantri Parishad قائم کر رکھی تھی جو امور میں اس کو مشورہ دیتی تھی۔ اس مجلس کے علاوہ اعلیٰ احکام کا ایک طبقہ تھا جو حکومت کے فرائض انجام دیتا تھا۔ اس طبقہ کے اندر منترن Mantrin یعنی مشیر خاص پرہت Prohita یعنی مذہبی امور کا نگران۔ اپاک Uparika یعنی صوبہ دار آدھی کارنیک Adikarnika یا پرادو یواک Prpvivaka یعنی قاضی، سینا پتی Senapati یعنی سپہ سالار اور راجوک Rajuka یعنی حاکم ضلع شامل تھے۔ اشوک کے عہد میں ایک نیا عہدہ دھرم مانز Dhama Manmtra یعنی محتسب کا عہدہ قائم کیا گیا تھا۔ جس کا کام مذہبی امور نافذ کرنا تھا۔ یہ تمام عہدے دار مورثی ہوتے تھے۔