"ویکیپیڈیا:تعارف" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
فضا صاحب چونکہ عربی و فارسی زبان کے ماہر تھے اس وجہ سے ان کی شاعری میں عربی و فارسی تراکیب کی کثرت ہے یہی وجہ ہے کہ فضا صاحب کی شاعری سمجھنے کے لئے عربی اور فارسی زبان کی واقفیت بھی ضروری ہے۔ فارسی اور عربی نہ جاننے والوں کے لئے ان کی شاعری سے حقیقی معنوں میں لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ مگر عجیب بات یہ کہ فضا کے ترانے اس سے مختلف ہیں۔ فضا صاحب نے جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ اسلامیہ سنابل اور کئی دیگر اداروں کا ترانہ لکھا ہے اس کے اندر الفاظ انتہائی سہل تراکیب آسان اور فکر کی بلندی اپنے عروج پر ہے۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے ترانہ کے چند بند ملاحظہ فرمائیں:
 
<div style='text-align: center;'>
<div style='text-align: center;'>
سحر کا پیرہن ہیں ہم،<div style='text-align: center;'>
بہار کی ردا ہیں ہم
کہ گلشنِ رسول کے
</div> طیورِ خوش نوا ہیں ہم
 
</div>
</div> مذکورہ دو بندوں میں ردا, قبا اور مغنی عربی الفاظ ہیں مگر ان کو فضا صاحب کے نہایت خوبصورتی سے باندھا ہے بلکہ ان عربی الفاظ کی اضافت فارسی کی طرف کرکے ایک خوش کن نغمگی پیدا کردی ہے’ مغنی حرم‘ اور’ طیور خوش نوا‘ جیسی تراکیب فضا کی شعری مہارت کو واضح کرتی ہیں۔
فضا صاحب کا رشتہ ایک طرف قدیم کلاسیکی شاعری سے ملتا ہے تو دوسری طرف جدید لب و لہجہ کی شاعری سے بھی انہوں نے اپنا تعلق جوڑے رکھا، بجا طور پر فضا کی شاعری قدیم وجدید کا سنگم ہے۔ فضا نے اپنا رشتہ میرو داغ سے بنائے رکھا اور اسی معیار کی شاعری پوری زندگی کرتے رہے۔ نمو نے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
 
پیارے تو مجھ کو شعلہ سمجھ کر ہوا نہ دے
</div>==
 
=فضا نقادوں کی نظر میں:===
فضاکی زندگی ہی میں ماہرین فن نے ان کی شاعری کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ پروفیسر عبد المغنی صاحب کہتے ہیں:”آج کے طوفان مغرب میں فضا کی مشرقیت اپنی جگہ ایک مضبوط ستون ہے اور یہ ایقان شاعر کے فکری رسوخ اور ذہنی بلوغ کی علامت ہے پروفیسر مسعود حسین کہتے ہیں:”وہ صوت و لفظ کے نازک رشتے کے محرم ِراز ہیں۔“
===خلاصہ کلام:===
فضا صاحب بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں جہاں بہت سی خوبیاں ہیں وہیں ایک خامی یہ ہے کہ عربی و فارسی اور مشکل الفاظ کی بھر مار نے ان کی شاعری کو عوام سے دور کر دیا۔ انہی مشکل الفاظ کی وجہ سے ان کی شاعری میں نغمگی کی کمی پائی جاتی ہے جہاں فضا نے اس حصار کو توڑا ہے وہاں ان کا اصلی جوہر کھل کر سامنے آیا ہے ،خاص طور پر نظموں میں ۔فضا کی مشکل پسند ہی ہے کہ ان کے سبھی مجموعہ کلام کے نام سہ حرفی ہیں۔ ’سفینہ گل‘،’ سبزہ معنی بیگانہ‘، ’دریچہ سیم سمن ‘اور ’پس دیوار حرف ‘وغیرہ۔ فضا کے کل آٹھ مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں ان میں سے بعض مجموعے کئی یونیورسٹیز میں داخل نصاب ہیں۔فضا کے یہاں تصوف کے مضامین نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہلحدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے یہ بات مشہور و معروف ہے کہ اہل حدیث اور تصوف میں بعد المشرقین کا فرق ہے،ہاں ،دینی مضامین کی کثرت ہے بلکہ ایک مجموعہ کلام ’سر شاخ طوبی ‘عشق نبی میںڈوب کر لکھا گیا نعتیہ مجموعہ کلام ہے۔
اس مقاله كا خاتمه فضا ہىهى کے ايك شعر سے كرتا ہوںهوں
 
<div style='text-align: center;'>
مجھ سے ملنا ہو تو پھر میری کتابیں دیکھنا<div style='text-align: center;'>
 
ہرورق پر عکس اپنا چھوڑ کر جاﺅں گا
</div> میں
 
</div> ٭٭٭
 
'''عُزیر احمد(M.A.Delhi University)
uzair@mail.o'''rg
46

ترامیم