"ابن کثیر مکی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
م (اضافہ مواد)
[[مکہ مکرمہ]] میں یہ عطر فروشی کرتے تھے۔ اہل مکہ عطر فروش کو [[الداری]] کہتے تھے۔ بعض کے نزدیک وہ تمیم کی ایک شاخ داری بن ہانی کی اولاد میں سے تھے۔ اس لئے ان کو الداری کہتے ہیں۔
 
مشہور یہ ہے کہ انھوں نے [[مجاہد بن جبیر]] سے قرأت سیکھی تھی۔ [[امام بخاری]] نے بھی یہی لکھا ہے کہ عبداللہ بن کثیر المکی نے قرأت مجاہد سے حاصل کی تھی۔ یہ عجمی الاصل ملک رے کے رہنے والے تھے۔ [[120ھ]] میں وفات پائی۔<ref>مقدمات فی علم القراءات،مؤلفین: محمد احمد مفلح القضاة، احمد خالد شكرى، محمد خالد منصور،ناشر: دار عمار - عمان (الاردن)</ref>
== اِمام عبداللہ بن کثیر المکی کے متعلق اکابرین کی رائے ==
* (1)۔إمام المکیین في القراء ۃ ’’قراء ت میں، مکہ میں رہنے والے لوگوں کے امام ہیں۔‘‘ <ref>معرفۃ القراء الکبار:1؍197</ref>
[[زمرہ:قراء سبعہ]]
[[زمرہ:قراء قرآن]]
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]