"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

235 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
ویکائی
م (clean up, replaced: ← (8) using AWB)
(ٹیگ: القاب)
(ویکائی)
(ٹیگ: القاب)
 
=== وجد اور تواجد کی حقیقت ===
وجد عموما بعض ذی روح چیزوں خصوصا اہل ایمان میں سے ایسے حضرات کو ہوتا ہےجو تلاوت قرآن یا نعت رسول ﷺ یا ذکر باری تعالیٰ یا بزرگان دین کی تعریف و توصیف سنتے ہیں تو ان پر کسی خاص کیفیت کا ورود ہوتا ہے یا انوار و تجلیات کا ورود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے اوپر قابو اور کنٹرول نہیں کر پاتے جس وجہ سے ان کے جسم پر اضطراب و حرکت پیدا ہوتی ہے جس کی بنا پر کبھی ادھر کبھی ادھر کبھی آگے کبھی پیچھے جھکتے اور گر پڑتے ہیں ۔اور کبھی کبھار بیہوش بھی ہوجاتے ہیں تو ایسی حرکت کو وجد حقیقی کہا جاتا ہے۔اور اس کا محمود و مستحسن ہونا قرآنی آیات و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔ <ref name="فضیلت الذاکرین">فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرینالمنکرین، صفحہ 21از21، مفتی غلام فرید ہزاروی ادارہ،ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور</ref>
 
* حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لئے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ۔‘‘<ref>بہجۃ الاسرار، ذکرشي من اجوبتہ ممايدل علي قدم راسخ، ص236</ref>
* وجد وہ کیفیت ہے جو اتفاقاطاری ہو یہ کیفیت اوراد و وظائف کا نتیجہ ہےپس جس شخص کے وظائف زیادہ ہونگےاس پر اللہ کی عنایات بھی زیادہ ہونگی۔ <ref name="رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ صفحہ 157،صفحہ از157، ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیریقشیری، مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>
* وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اسکا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہےاور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اسکی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں<ref>عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور</ref>
* جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے۔ <ref name="اللمع">کتاب اللمع فی التصوف از شیخ،شیخ ابو نصر سراج صفحہ،صفحہ 498 مطبوعہ،مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref>
وجد ایک باطنی کیفیت ہےجو طالب و مطلوب کے درمیان ہوتی ہے <ref name="کشف المحجوب">کشف المحجوب ازعلی،علی بن عثمان الہجویری471مطبوعہالہجویری،471،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور </ref>
* گویا ہر وہ کیفیت مسرت و الم جو قلب پر بغیر ارادے و کوشش کے طاری ہو اسے وجد کہتے ہیں'''<ref name="اللمع">کتاب اللمع فی التصوف از، شیخ ابو نصر سراجسراج، صفحہ 499 مطبوعہ،مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref>
 
* سورہ الحج کی آیت نمبر 35 میں لفظ وجل (ڈر) صفات واجدین میں سے ہے <ref name="اللمع">کتاب اللمع فی التصوف از، شیخ ابو نصر سراجسراج، صفحہ 502 مطبوعہ،مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref>
 
== وجد اور تواجد ==
وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو<ref name="رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ صفحہ 156،صفحہ از156، ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ،مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref> وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے [[تواجد]] اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا [[متواجد]] نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں <ref name="رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ صفحہ 155،صفحہ از155، ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ،مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>۔
اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے
*رہا معاملہ تواجد کا تو تواجد کےمعنی ہیں از خود وجد والی صورت اختیار کرنا۔تواجد پر علامہ سیوطی کا فتویٰ یوں ہے کہ ذاکر خواہ ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہوجائے یہ کھڑا ہونا اختیاری ہو یا غیر اختیاری ہر حال میں جائز ہے ایسے لوگوں پر نہ انکار جائز ہے نہ انہیں منع کرنا جائز ہے <ref name="فضیلت الذاکرین">فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین صفحہ،صفحہ 23از23، مفتی غلام فرید ہزارویہزاروی، ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور</ref>۔
* ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہےجو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہےباقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے<ref name="کشف المحجوب">کشف المحجوب ازعلی،علی بن عثمان الہجویری473مطبوعہالہجویری،473،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref>
== وجد کی مختلف اقسام ==
* سارےبدن کا حرکت اور اضطراب
* بعض بدن کی حرکت مثلا لطائف کی حرکت اور اقشعرار۔
* توجد کی لذت اور وارد کے اثر سے رقص و گردش۔
* منہ سے مختلف الفاظ کا نکلنا مثلا آہ اوہ،اوہ اف،اف تفتف، ہاہا عا،عاعا عا لالا،لالا، اللہ للہ اور ہو ہو وغیرہ بعض الفاظ موضوعی اور بعض مہمل ظاہر ہوتے ہیں۔
* بکا کرنا اور رونا کہ بعض اوقات آواز اور حروف پر مشتمل ہوتے ہیں جسے بکاء مرتفع کہتے ہیں اور بعض اوقات بغیر آوازآنسو بہنے لگتے ہیں ۔
* کپڑے پھاڑنا اور قمت تسعی کے مضمون پر انوار کے غلبہ کی وجہ سے ڈرنا اور چیخنا۔
* بعض اوقات بلا اختیار ہنسنے کی کیفیت طاری ہونا جیسا کہ تجلیات مالکی میں مولانا عبد المالک کی اقسام میں بیان کیا۔
* بعض اوقات انہی حرکات غیر اختیاریہ اور صیحات مختلفہ کا نماز میں طاری ہونا اور بعض اوقات خارج نماز طاری ہونا۔
* بعض اوقات مغلوب الحال ہو کر بے ہوش ہو جانا۔ وغیر ہ <ref>مخزن طریقت محمدطریقت،محمد ظفر عباس صفحہ125،صفحہ125، محمدیہ سیفیہ پبلیکیشنز لاہور</ref>
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}