"ایمن چغتائی نانپاروی" کے نسخوں کے درمیان فرق

==ابتدائی حالات==
ایمن صاحب کے خاندان کے زیادہ تر افراد شہر بہرائچ کے محلہ ناظرپورہ میں آج بھی رہتے ہیں۔ایمن صاحب کے جد محترم حکیم مرزا عبداللہ بیگ طبابت میں دخل رکھتے تھے اسکے علاوہ شاعر بھی تھےاور تحلص عبد رکھتے تھے۔ایمن صاحب کے والد مرزا سہزاد پہلے محکمہ پولیس میں تھے پھر استعفا دے کر بسلسلہ ملازمت نانپارہ آگئے۔ اور یہں ایمن کی پیدائش ہوئی۔ ایمن کی اسکولی تعلیم اردو مڈل اور ہائی اسکول تک رہی۔اردو اعلیٰ قابلیت الہ ٰآباد اور ادیب کامل جامعہ اردو علی گڑھ کی اسناد ذاتی مطاعلہ کر کے حاصل کی ۔پھر ریاست نانپارہ میں 10سال ملازم رہے ۔ 6 سال ضلع پریشد میں ٹیچری کی اسی دوران ٹرینگ بھی حاصل کی 1953 میں چند احباب اور بزرگوں کے تعاون سے جنتا جونیر ہائی اسکول نانپارہ کو قائم کیا ۔جو بعد میں ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا مو جودہ وقت میں انٹر کالج ہو چکا ہے اور اب اسکا نام راحت جنتا انٹر کالج نانپارہ ہے ۔ اسکول کو قائم کرنے کے بعد ضلع پریشد سے استعفا دیکر اسی اسکول میں اردو ٹیچر ہوگئے۔ 1955 سے 1977 تک 22 سال اردو ٹیچر رہ کر عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اسکے بعد مزدور مانٹیسری اسکول نانپارہ کے پرنسپل اور مانٹیسری جونیر ہائی اسکول کے نگراں کی حیثیت سے تا حیات علمی خدمات انجام دیتے رہے۔
==ادبی خدمات==
ایمن چغتائی[[انجمن ترقی اردو]] ہند شاخ نانپارہ کے ایک لمبے عرصے تک جنرل سکریٹری کے عہدے پر فائز رہے۔انجمن ترقی اردو کی دستخطی مہم میں اور 1951 سے لگاتارمردم شماری کے کاموں میں[[اردو]]زبان کے تحفظ میں نمایا کردار ادا کیا۔1938 میں جب ایمن صاحب اردو اعلیٰ قابلیت کی تیاری کر رہے تھے تب نانپارہ کی بلند پایہ ہستی سجاد حسین طورؔ صاحب سے کتاب معیار الباغت جو فن عروض سے تعلق رکھتی تھی نیز تاریخ اردو ادب پڑھی1939 سے مشق سخن شروع کی اور دامن طورؔ سے ابتدائی پھر ایمن ؔکا تخلص اختیار کیا ۔جناب سید محمد اصغر ؔرشیدی جو کی پیارے صاحب رشید لکھنوی کے شاگر تھے جنکی وجہ سے نانپارہ میں اردو شاعری نے فروغ پایا تھا ایمن صاحب انھیں کو اپنا کلام دکھاتے تھے۔کہنہ مشقی کے سبب ضلع بہرائچ کے اساتذہ میں امتیازی مکام حاصل تھا۔ اس وقت متعدد مقامی اور بیرونی شعرا موصوف سے فیض حاصل کرتے تھے ۔مشاعروں میں ایمن صاحب کی شرکت مشاعروں کی کامیابی کا ضامن ہوتی تھی۔
ایمن صاحب کے دو شعری مجموعے شائع ہوئے -----------