"ایمن چغتائی نانپاروی" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
==ادبی خدمات==
ایمن چغتائی [[انجمن ترقی اردو]] ہند شاخ نانپارہ کے ایک لمبے عرصے تک جنرلمعتمد سکریٹریعمومی کے عہدے پر فائز رہے۔انجمن ترقی اردو کی دستخطی مہم میں اور 1951 سے لگاتارمردم شماری کے کاموں میں[[اردو]] زبان کے تحفظ میں نمایانمایاں کردار ادا کیا۔1938کیا۔ [[1938ء]] میں جب ایمن صاحب اردو اعلیٰ قابلیت کی تیاری کر رہے تھےتھے، تب نانپارہ کی بلند پایہ ہستی سجاد حسین طورؔ صاحب سے کتاب معیار الباغت جو فن عروض سے تعلق رکھتی تھی نیز تاریخ اردو ادب پڑھی1939پڑھی [[1939ء]] سے مشق سخن شروع کی اور دامن طورؔ سے ابتدائی پھر ایمن ؔکا تخلص اختیار کیا ۔جناب۔ سید محمد اصغر ؔرشیدی جو کی پیارے صاحب رشید لکھنوی کے شاگر تھے جنکی وجہ سے نانپارہ میں اردو شاعری نے فروغ پایا تھاتھا۔ ایمن صاحب انھیں کو اپنا کلام دکھاتے تھے۔کہنہتھے۔ کہنہ مشقی کے سبب ضلع بہرائچ کے اساتذہ میں امتیازی مکاممقام حاصل تھا۔ اس وقت متعدد مقامی اور بیرونی شعرا موصوف سے فیض حاصل کرتے تھے ۔مشاعروں میں ایمن صاحب کی شرکت مشاعروں کی کامیابی کا ضامن ہوتی تھی۔ ایمن کے دو شعری مجموعے شائع ہوئے:<br>
ایمن صاحب کے دو شعری مجموعے شائع ہوئے -----------
1. پھول اور کانٹے 2.برق ایمنؔ۔
 
==ادبی شخصیت سےرابطہ==
ایمن صاحب واصفؔ القادری نانپاروی کے ہم عمر ہونے کے ساتھ ہی انکے گہرے دوستوں میں سے تھے۔ ایمن صاحب کا اپنے وقت کے تمام شاعروں سے رابطہ تھا۔بہرائچ کے مشہور شعرا شوق ؔبہرائچی، [[ محمد نعیم اللہ خیالی]] ،جمال بابا،محسن زیدی، [[ شفیع بہرائچی]]،[[وصفی بہرائچی]]،[[واصف القادری]]، [[عبرت بہرائچی]] ،[[اظہار وارثی]]، سے آپکے گہرے تعلقات تھے۔اسکے علاوہ بیرونی شعرا سے بھی آپ کے تعلقات تھے۔
35,180

ترامیم