"اہرام مصر" کے نسخوں کے درمیان فرق

35 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(Badar.haider (تبادلۂ خیال) کی جانب سے کی گئی 1899830 ویں ترمیم کا استرجع۔)
(ٹیگ: القاب)
(ٹیگ: القاب)
[[تصویر:Pyramids_giza.jpg|left|framepx|thumb||غزہ کے اہرام]]
مخصوص شکل کے مخروطی مقابر کو اہرام کہا جاتا ہے اس کی واحد اہرم بمعنی پرانی عمارت ہےاہرام مصر کا شمار [[انسان]] کی بنائی ہوئی عظیم ترین تعمیرات میں ہوتا ہے۔ یہ اہرماہرام زمانہء قدیم کی مصری تہذیب کے سب سے پرشکوہ اور لافانی یادگار ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ ان اہرام کی تعمیر کا مقصد فراعین [[مصر]] اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کا مدفن تھا۔ اہرام مصر میں غزہ کا عظیم اہرام دنیا کے سات عجائبات میں سے وہ واحد عجوبہ ہے جو کہ ابھی تک اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔
 
=== امام احمد رضا خان کی تحقیق ===
یہاں یہ بتانا ضروری ہے ملفوظات مجدد ماتمائۃ حاضرہ میں جو تحقیق [[احمد رضا خان بریلوی|احمد رضا خان بریلوی]] کی درج ہے وہ بھی کافی عمدہ ہے. فرماتے ہیں: -<blockquote>ان کی تعمیر حضرت [[آدم علیہ السلام|آدم]] علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے چودہ ہزار (١٤٠٠٠14000) برس پہلے ہوئی۔ [[نوح علیہ السلام|نوح]] علیہ السلام کی امت پر جس روز عذابِ طوفان نازل ہوا ہے پہلی رجب تھی، بارش بھی ہورہی تھی اور زمین سے بھی پانی ابل رہا تھا۔ بحکم رب العٰلمین [[نوح علیہ السلام]] نے ایک [["کشتی نوح|کشتی]] تیار فرمائی جو ١٠10 [[رجب]] کو تیرنے لگی۔ اس کشتی پر ٨٠80 آدمی سوار تھے جس میں دو نبی تھے(حضرت آدم وحضرت نوح علیہم السلام)۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کشتی پر حضرت آدم علیہ السلام کا تابوت رکھ لیا تھااور اس کے ایک جانب مرد اور دوسری جانب عورتیں بیٹھی تھیں۔ پانی اس پہاڑ سے جو سب سے بلند تھا ٣٠30 ہاتھ اونچا ہوگیاتھا۔ [[دسویں محرم]] کو چھ(٦6) ماہ کے بعد سفینہ مبارکہ [[جودی]] پہاڑ پر ٹہرا۔ٹھہرا۔ سب لوگ پہاڑ سے اترے اور پہلا شہر جو بسایا اس کا ”[[سوق الثمانین]]” نام رکھا۔ یہ بستی [[نہاوند|جبل نہاوند]] کے قریب متصل ”موصل” شہر ([[عراق]]) میں واقع ہے۔ اس طوفان میں دو عمارتیں مثل گنبد ومنارہ باقی رہ گئی تھیں جنہیں کچھ نقصان نہ پہنچا۔ اس وقت روئے زمین پر سوائے ان (دو عمارتوں) کے اور عمارت نہ تھی۔ امیر امومنینالمومنین [[علی بن ابی طالب|حضرت علی]] کرم اللہ تعالٰیٰ وجہہ الکریم سے انہیں عمارتوں کی نسبت منقول ہے۔</blockquote>”بنی الھرمان النسر فی سرطان”
 
یعنی دونوں عمارتیں اس وقت بنائی گئیں جب ”ستارہ نسر” نے ”[[برج سرطان]]” میں تحویل کی تھی، نسر دوستارے ہیں: ”نسر واقع” و ”نسر طائر” اور جب مطلق بولتے ہیں تو اس سے ”نسر واقع” مراد ہوتا ہے۔ ان کے دروازے پر ایک [[گدھ]] (نما) کی تصویر ہے اور اس کے پنجے میں گنگچہ (گرگٹ، کھنکھجورہ، [[بچھو]]) ہے جس سے تاریخ تعمیر کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ کہ جب ”نسر واقع برج سرطان میں آیا اس وقت یہ عمارت بنی جس کے حساب سے (١٢٦٤٠12640) بارہ ہزار چھ سو چالیس [[سال]] ساڑےساڑھے آٹھ مہینے ہوتے ہیں۔ ستارہ (نسر واقع) (٦٤64) چونسٹھ برس قمری (٧7) [[مہینہ|مہینے]]، (٢٧27)ستائیس [[دن]] میں ایک درجہ طے کرتا ہے اور اب (ستارہ نسر واقع) [[برج جدی]] کے سولہویں(١٦16) درجہ میں ہے تو جب سے چھ (٦6) برج ساڑھے پندرہ درجے سے زائد طے کرگیا۔
 
آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی (٥٧٥٠سال5750سال) پونے چھ ہزار برس پہلے کے بنے ہوئے ہیں کہ ان کی (سیدنا آدم علیہ السلام) آفرینش کو (٧٠٠٠7000) سات ہزار برس سے کچھ زائد ہوئے لاجرم یہ [[جنوری|قوم جن]] کی تعمیر ہے کہ پیدائش آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے (٦٠٠٠٠60000) ساٹھ ہزار برس زمین پر رہ چکی ہے۔” <ref name= ملفوظات مجددماۃمجددمائۃ حاضرہ حصہ اول ص٧٣۔٧٤ص73۔74> ملفوظات مجددماۃمجددمائۃ حاضرہ حصہ اول ص٧٣۔٧٤ص73۔74"</ref>
{{Commonscat|Pyramids of Egypt}}
== حوالہ جات ==