"سواستک" کے نسخوں کے درمیان فرق

205 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
اضافہ سانچہ/سانچہ جات
(اضافہ حوالہ جات)
(اضافہ سانچہ/سانچہ جات)
انیسویں صدی کے آخر میں اِس نشان یا علامت کا دوبارہ ظہور ہوا جس سے پہلے ماہرِ آثارِ قدیمہ ہائینرش شلائیمان کی طرح آثارِ قدیمہ پر جامع انداز میں کام ہوا۔ شلائیمان کو قدیمی ٹروئے کے مقام پرمڑے ہوائے کراس کا نقش ملا۔ اُنہوں نے اسے جرمنی میں ملنے والے ظروف پر پائے جانے والے مشابہ نقوش سے مربوط کیا اور یہ قیاس آرائی کی کہ یہ ہمارے دور دراز کے آباؤاجداد کی ایک ممتاز مذہبی علامت ہے۔
 
بیسویں صدی کے آغاز میں یورپ میں سواسٹیکا کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کے متعدد معانی تھے۔<ref name="Rosenberg">{{cite web|last=Rosenberg|first=Jennifer|title=History of Swastika |url=http://history1900s.about.com/cs/swastika/a/swastikahistory.htm|work=about.com|accessdate=26 April 2013}}</ref> سب سے زہادہ معروف مفہوم خوش قسمتی اور فراخی کے حوالے سے تھا۔ تاہم شلائیمان کے کام کو جلد ہی واکش تحریکوں نے آگے بڑھایا جن کیلئے سواسٹیکا آریائی شناخت اور جرمنی کی قوم پرستی پر فخر کی علامت تھا۔
 
جرمن افراد کی آریائی ثقافت والی نسل کا قیاس ہی غالباً اُن بنیادی وجوہات میں سے ایک تھا کہ نازی پارٹی نے باضابطہ طور پر سواسٹیکا یا مڑے ہوئے کراس کو 1920 میں اپنی علامت کے طور پر منتخب کر لیا۔