مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، 3 سال پہلے
اضافہ مواد
# اُردو یونیورسٹیوں کے قیام کی تجویز پیش کی اور اِن کی عملی شکل کے لیے جدوجہد کی۔
# ''مجلسِ تعمیرِ جامعہ اُردو''تشکیل دی، جس کا ایک اہم شعبہ ''دارالتحقیق علم و ادب'' قرار پایا۔
# اُردو زبان کے دفاع کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور ہر اُس عملی جہد کا حصہ بنے جو اُردو کی بقاءکے لیے ناگزیر تھی۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
[[قیام پاکستان]] کے بعد مولانا صلاح الدین احمدکی خدماتِ اُردو کا زاویہ تبدیل ہو گیا اور انہوں نے حالات کے نئے تناظرکی روشنی میں ایک الگ لائحہ عمل اختیار کیا۔ [[قیام پاکستان]] کے بعد یہ ایک حقیقت تھی کہ یہ زبان [[پاکستان]] کے باشندوں کی زبان بن کر رہ گئی۔ ایسا نہیں کہ اب [[بھارت]] میں اِس کی تہذیبی شناخت ختم ہو گئی بلکہ سیاست نے کچھ ایسا زاویہ اختیار کیا کہ وہاں کی حکومت نے اپنی پالیسیوں کی روشنی میں ہندی کو باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا اور ذرائع ابلاغ و تعلیم میں ہندی کی برتری قائم کر دی۔ یہی وہ دُکھ تھا جس سے مولانا صلاح الدین احمد مغلوب ہو گئے لیکن اب یہ قضا کا فیصلہ تھا جسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اُن کے خیال میں [[تقسیم ہند]] کے بعد اُردو کی عالمگیر حیثیت ختم ہو چکی ہے اور وہ زبان جو نہ صرف برعظیم ہند، ایشیا، یورپ اور افریقہ کی ہر بندرگاہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی، اب ایک چھوٹے سے ملک بلکہ اُس کے ایک حصے کی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔اِسی لیے انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ یہ زبان جس عجیب دوراہے پر کھڑی ہے، اِس میں سے پھوٹنے والا ایک رستہ چند ہی قدم پر ایک مہیب چٹان کے کنارے پہنچ کر ختم ہو جاتاہے اور دوسرا خم کھا کر دُور سے نظر آنے والے ایک جنگل کی طرف چلا جاتا ہے ، جہاں ایک غیریقینی مستقبل کا دُھندلکا چھا رہا ہے۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
=== اُردو بولو تحریک ===
یہ مختصر، بے ضرر مگر پراثر اعلانات بڑی سرعت کے ساتھ ذہنی بیداری کا باعث بنے۔ اِس تحریک کے اثرات کس قدر وسیع تھے۔ اِس سلسلے میں [[مولوی عبدالحق]] کا یہ بیان ملاحظہ ہو:
''آپ کی تحریک’اُردو بولو‘ نہایت قابلِ قدراور لائقِ عمل ہے۔یوں تو [[پنجاب، پاکستان|پنجاب]] میں اور خاص کر [[لاہور]] میں بہت سی انجمنیں اور بزمیں ہیں اور کام بھی کرتی ہیں لیکن اِن سب کے کام مِلا کر بھی اِس تحریک کو نہیں پہنچتے۔ یہ بنیادی کام ہے۔ اِس وقت تو شاید لوگ اِسے زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن ایک ایسا وقت آئے گا جب اِس کے حیرت انگیز نتائج کا قائل ہونا پڑے گا۔ اِس کی کامیابی پر ہمارے بہت سے مسائل کی کامیابی کا انحصار ہے۔''<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
=== اکادمی پنجاب کی بنیاد ===
اُردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے ''اُردوبولوتحریک'' کے علاوہ مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے وسائل سے ''اکادمی پنجاب'' کی بنیاد رکھی۔اِس سلسلے میں اُن کو سیّد وحیدالدین،اے ڈی اظہر اور [[وزیر آغا|ڈاکٹر وزیرآغا]] کا تعاون حاصل تھا۔ اِس اکادمی کے مقاصد میں اُردو زبان و ادب کی نشوونما کے لیے متنوع جہتوں میں کام کرنا تھا۔ ''اکادمی پنجاب'' کے مقاصد کا تعین کرتے ہوئے [[ڈاکٹر انور سدید]] نے درج ذیل پانچ نکات پیش کیے ہیں:
# قومی زبان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا۔
# اُردو کی ترقی اور فروغ کی علمی کامرانیوں میں اضافہ۔
# ملک و قوم کی تہذیب و ارتقأ کے لیے اعلیٰ درجے کے مصنّفین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا۔
# مغربی پاکستان میں سنجیدہ ادب کی نشرواشاعت۔
# ملک کے بہترین دِل و دماغ کو تسکین و آسائش فراہم کرنا۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
== تصانیف ==
14,762

ترامیم