مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

اضافہ مواد، اضافہ اندرونی ربط/روابط
| death_place = [[ساہیوال]]، [[پاکستان]]
| resting_place = [[لاہور]]، [[پاکستان]]
| occupation = [[ادیب]]، [[صحافی]]، [[مترجم]]، [[نقاد]]
| nationality =
| citizenship = {{پرچم تصویر|پاکستان}}[[پاکستانی]]
| workplaces =
| fields = [[نثر]]
| genre = صحافت ،،تنقید، ترجمہ
| subject =
| movement =
| students =
}}
'''مولانا صلاح الدین احمد''' (پیدائش: [[25 مارچ]]، [[1902ء]] - وفات: [[14 جون]]، [[1964ء]]) [[پاکستان]] سے تعلق رکھنے والے [[اردو]] کے نامور [[ادیب]]، [[صحافی]]، [[نقاد]]، [[مترجم]] ادبی جریدے ''[[ادبی دنیا (جریدہ)|ادبی دنیا]]'' کے مدیر تھے۔
 
== حالات زندگی ==
# اُردو زبان کے دفاع کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور ہر اُس عملی جہد کا حصہ بنے جو اُردو کی بقاءکے لیے ناگزیر تھی۔
 
[[قیام پاکستان]] کے بعد مولانا صلاح الدین احمدکی خدماتِ اُردو کا زاویہ تبدیل ہو گیا اور انہوں نے حالات کے نئے تناظرکی روشنی میں ایک الگ لائحہ عمل اختیار کیا۔ [[قیام پاکستان]] کے بعد یہ ایک حقیقت تھی کہ یہ زبان [[پاکستان]] کے باشندوں کی زبان بن کر رہ گئی۔ ایسا نہیں کہ اب [[بھارت]] میں اِس کی تہذیبی شناخت ختم ہو گئی بلکہ سیاست نے کچھ ایسا زاویہ اختیار کیا کہ وہاں کی حکومت نے اپنی پالیسیوں کی روشنی میں ہندی کو باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا اور ذرائع ابلاغ و تعلیم میں [[ہندی زبان|ہندی]] کی برتری قائم کر دی۔ یہی وہ دُکھ تھا جس سے مولانا صلاح الدین احمد مغلوب ہو گئے لیکن اب یہ قضا کا فیصلہ تھا جسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اُن کے خیال میں [[تقسیم ہند]] کے بعد اُردو کی عالمگیر حیثیت ختم ہو چکی ہے اور وہ زبان جو نہ صرف برعظیم ہند، ایشیا،[[ایشیا]]، [[یورپ]] اور [[افریقہ]] کی ہر بندرگاہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی، اب ایک چھوٹے سے ملک بلکہ اُس کے ایک حصے کی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔اِسی لیے انھوںانہوں نے یہ اعتراف کیا کہ یہ زبان جس عجیب دوراہے پر کھڑی ہے، اِس میں سے پھوٹنے والا ایک رستہ چند ہی قدم پر ایک مہیب چٹان کے کنارے پہنچ کر ختم ہو جاتاہے اور دوسرا خم کھا کر دُور سے نظر آنے والے ایک جنگل کی طرف چلا جاتا ہے ، جہاں ایک غیریقینی مستقبل کا دُھندلکا چھا رہا ہے۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
مولانا صلاح الدین احمد کی تمام تر زندگی اُردو کے تحفظ، فروغ، دفاع اور نفاذ کی کوششوں میں گزری۔ یہ کوششیں ایک ایسی زبان کے لیے تھیں جو ایک عظیم تہذیب کی ترجمان اور امانت دار تھی مگر جس ہوائے مخالف کو ورثے میں پایا اور تاحال اِس تندئ بادِ مخالف کا سامناکر رہی ہے، غنیمت نہیں۔ وہ لوگ جنھوں نے شعبۂ اُردو کے لیے ایک مضبوط بادبان کا کام کیا ورنہ تو اِس کے دُشمنوں ہی نے نہیں بعض نادان دوستوں نے بھی اِ س کے ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
انہوں نے اُردو کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم بھی اُٹھایا اور آواز بھی۔ [[ادبی دنیا (جریدہ)|ادبی دنیا]] کے اداریے، تنقیدی شذرات، ''اُردو بولوتحریک''، ''اکادمی پنجاب'' ہروہ تدبیر آزمائی جو اُردو کے تحفظ کے لیے کارگر ہو سکتی تھی۔ یہ کہنا قطعی طورپر بجا ہو گا کہ [[مولوی عبدالحق]] کے بعد مولانا صلاح الدین احمد نے اُردو کے لیے جو مجاہدہ اور ایثار کیا، اُردو کی تاریخ میں اُس کی دوسری مثال آج تک سامنے نہیں آئی۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
=== اُردو بولو تحریک ===
[[ہندی زبان|ہندی]] کے مقابلے میں اُردو کے فروغ کے سلسلے میں مولانا صلاح الدین احمدکی ''اُردو بولوتحریک'' کا کردار بہت بھرپور ہے۔اگرچہ یہ تحریک ابتداً اُن مختصر فرمودات بلکہ نعروں( سلوگنز) پر مبنی ہے جو ''ادبی دُنیا'' کے صفحات پر خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لیے درج کیے جاتے تھے مگر اپنے اثر اور اُردو کے فروغ کے سلسلے میں خاصے کارگر ثابت ہوئے۔ بعدازاں اِس کے لیے صفحہ مختص کر دیا گیا اور ''[[ادبی دُنیا''دنیا (جریدہ)|ادبی دنیا]] کا سرورق اُلٹتے ہی اِس تحریک کے نعروں پر نظر پڑتی جو جلی حروف میں درج ہوتے تھے۔ اِس تحریک کی اِبتدا کے بارے میں [[آغا بابر]] کا دعویٰ ہے کہ یہ اُن کی تجویز تھی۔ اِس سلسلے میں اُن کا کہنا ہے:
''دو برس ہوئے جب ادبی دُنیا کا دفتر مال روڈ کی ایک عمارت میں تھا۔ میں نے ایک ملاقاتِ شام کے دوران میں ایڈیٹر ''[[ادبی دُنیا''دنیا (جریدہ)|ادبی دنیا]] سے کہا کہ آپ پرچے میں مضمون ختم ہونے پر میر،غالب[[میر تقی میر|میر]]،[[مرزا اسد اللہ خان غالب|غالب]] یا [[الطاف حسین حالی|حالی]] کا کوئی شعر چھاپ دیتے ہیں۔ یہ خانہ پری اچھی چیزہے مگر میری ایک تجویز ہے۔۔۔ یہ کہ کہیں لکھ دیا جائے اُردوبولوکہیں یہ کہ بچوں سے اُردو بولو۔''
یہ مختصر سے نعرے(سلوگن) اپنے حلقہ اثر کے اعتبار سے بہت وسعت کے حامِل ثابت ہوئے اور یہ تحریک وقت کے ساتھ ساتھ اذہان میں ایک مثبت شعور اور تبدیلی کا باعث بنی۔اِن اعلانات میں نہایت سادہ مگر پراثرانداز کے الفاظ شامل کیے جاتے، جن میں لسانی سطح کی ایک فکری دعوت ہوتی۔ یہ اعلانات اُردو کے حق میں ہوتے لیکن کوئی ایسا اعلان شائع نہ ہوا، جو [[ہندی زبان|ہندی]] کے خلاف ہو، جس کا مقصد یہ تھا کہ بغیر محاذ آرائی کی فضا پیدا کیے اُردو کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ چنانچہ صرف اُردو کے فروغ اور اہمیت پر اعلانات درج کیے گئے۔ ''ادبی دُنیا'' کے صفحات پر اِن اعلانات کی نوعیت کیا تھی۔ مناسب ہو گا کہ چند منتخب اعلانات درج کیے جائیں:
* اُردو بولو۔
* اُردو وہ جادو ہے جو سَر چڑھ کر بولتا ہے۔ اُردو بولو۔
یہ مختصر، بے ضرر مگر پراثر اعلانات بڑی سرعت کے ساتھ ذہنی بیداری کا باعث بنے۔ اِس تحریک کے اثرات کس قدر وسیع تھے۔ اِس سلسلے میں [[مولوی عبدالحق]] کا یہ بیان ملاحظہ ہو:
''آپ کی تحریک’اُردو بولو‘ نہایت قابلِ قدراور لائقِ عمل ہے۔یوںہے۔ یوں تو [[پنجاب، پاکستان|پنجاب]] میں اور خاص کر [[لاہور]] میں بہت سی انجمنیں اور بزمیں ہیں اور کام بھی کرتی ہیں لیکن اِن سب کے کام مِلا کر بھی اِس تحریک کو نہیں پہنچتے۔ یہ بنیادی کام ہے۔ اِس وقت تو شاید لوگ اِسے زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن ایک ایسا وقت آئے گا جب اِس کے حیرت انگیز نتائج کا قائل ہونا پڑے گا۔ اِس کی کامیابی پر ہمارے بہت سے مسائل کی کامیابی کا انحصار ہے۔''<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
=== اکادمی پنجاب کی بنیاد ===
* آواز (ترجمہ)
* انسانی مشین (ترجمہ)
 
== مولانا صلاح الدین احمد کے فن و شخصیت پر کتب ==
* مولانا صلاح الدین احمد : شخصیت اور فن، [[ڈاکٹر انور سدید]]، [[اکادمی ادبیات پاکستان]]، [[2007ء]]
 
== ناقدین کی آراء ==
[[زمرہ:اردو نثر نگار]]
[[زمرہ:اردو صحافی]]
 
<!--[iRef]-->==(مراجع)==
<references /><!--[/iRef]-->
14,382

ترامیم