"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

513 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
(ٹیگ: القاب)
(ٹیگ: القاب)
 
== نتائج ==
جنگِ جمل میں کامیابی سے اگرچہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کی قد و قامت میں اضافہ ہوا مگر شام سمیت کئی بڑے صوبے ابھی تک ان کے کنٹرول سے آزاد تھے۔ اس اثناء میں معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ خط و کتابت جاری رہی۔ یہ تمام خط و کتابت اہلِ تشیع کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں محفوظ ہے جسے اہلِ سنت بھی وقیع گردانتے ہیں۔
جنگ جمل وہ جنگ تھی جو منافقین اور باغیوں نے بھڑکائی حضرت علی کی فوج میں موجودکچھ باغی تھے جنھوں نے سازش کر کے ام المومنین حضرت عائشہ اور حضرت علی کے درمیان ہونے والی رضامندی کو جنگ میں بدل دیا۔ اس رضامندی کے بعد حضرت علی، قاتلان عثمان کو سزا دینے اور عائشہ، طلحہ اور زبیر اور دیگر صحابہ علی کی بیعت کے لئے تیار ہوگئے تھے۔ لیکن منافقین نے جب یہ اتحاد دیکھا تو آپس میں منصوبہ بنایا کہ دونوں طرف باغی ایک دوسرے پر تیر پھینکیں گے اور حضرت علی کی فوج میں شامل باغی شور مچادیں گے کہ عائشہ کے لوگوں نے تیر پھینکے اور عائشہ کی فوج کی طرف تیر پھینکے جائیں گے تو جو باغی یہاں سے وہاں گئے وہ شور مچادیں گے کہ یہ علی کی فوج نے پھینکے۔ انھوں نے پھراسی طرح کیا اور اپنے منصوبے میں کامیاب ہوئے اور جنگ جمل ہوئی۔
اس جنگ میں حضرت علی کی فوج کے باغی مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے میں کامیاب ہوئے اور جنگ جمل مسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ ہوئی جس میں بھائی نے بھائی کا خون بہایا۔ اس جنگ کے شعلے مزید بھڑکے اور حضرت [[امیر معاویہ]] نے قصاص عثمان کا مطالبہ کر دیا۔ اور شام میں بغاوت کی۔ جس کی سرکوبی کے لیے [[جنگ صفین]] لڑی گئی۔ یوں مسلمانوں کی عظیم ریاست چند باغیوں کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اور اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔
 
==قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ کا انجام==
اس جنگ میں حضرت علی کی فوج کے باغی مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے میں کامیاب ہوئے اور جنگ جمل مسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ ہوئی جس میں بھائی نے بھائی کا خون بہایا۔ اس جنگ کے شعلے مزید بھڑکے اور حضرت [[امیر معاویہ]] نے قصاص عثمان کا مطالبہ کر دیا۔ اور شام میں بغاوت کی۔ جس کی سرکوبی کے لیے [[جنگ صفین]] لڑی گئی۔ یوں مسلمانوں کی عظیم ریاست چند باغیوں کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اور اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔
مورخوں نے ایک اور واقعہ کا ذکر کیا ہے جسے یہاں بیان کرنا نا مناسب نہ ہوگا۔ جنگِ جمل سے قبل یا فوراً بعد کچھ مخلص مسلمانوں نے علی رضی اللہ تعالی عنہ سے شکایت کی کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ان کی فوج میں آزادی سے پھر رہے ہیں اور وہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہے۔ اس پر علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے آدمیوں سے پوچھا کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کون ہیں؟ کم و بیش 12 ہزار آدمی اٹھ کر کھڑے ہوئے اور چلاچلا کر کہنےلگے "میں ہوں۔ میں ہوں۔"<ref>[http://ebooks.i360.pk/2013/11/06/jang-jamal-aur-jang-sufain-ka-yahudi/ جنگ جمل اور جنگ صفین کا یہودی پس منظر]</ref> یہاں اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ قاتلان عثمان کی گرفتاری کے لیے اپنی نیک دلی کے باوجود علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وہ آزادی حاصل نہیں تھی جو ایک حکمران کو حاصل ہونی چاہئیے۔
 
== حضرت علی کی اپنے فوج کے باغیوں کے بارے میں رائے ==