"ادریس بابر" کے نسخوں کے درمیان فرق

60 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
م
←‏top: clean up, replaced: ← (2), ← (42) using AWB
م (←‏top: clean up, replaced: ← (2), ← (42) using AWB)
 
{{نامکمل}}
[[زمرہ:ساحر تخلیق مضمون کے ذریعہ تحریر شدہ مضامین]] [[اردو شعراء كي فہرست]]
 
1۔ تعارف
ادریس بابر گوجرانوالہ پاکستان میں غالباً 1973 میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق علمی گھرانے سے ہے۔ معروف شاعر جان کاشمیری ان کے چچا ہیں۔ جان کشمیری کا ایک شعر اردو دنیا میں بہت گونجتا رہا ہے
پسِ پردہ بھی تکلّم سے گریزاں رہنا
لوگ آواز سے تصویر بنا لیتے ہیں
ادریس بابر کا تعلیمی کیریئیر انتہائی شاندار رہا۔ ادبی دنیا میں ان کی موجودگی کا نوٹس 1990 کے بعد لیا گیا جب وہ انجنئیرنگ یونیورسٹی لاہور ( یو ای ٹی) کی لٹریری سوسائٹی/لریکل فورم میں فعال ہوئے۔ اس لحاظ سے ان کا تعلق 1990 کی دہائی میں منظر عام پر آنے والے شعرا سے ہے۔ ان کی شناخت کا سفر 1992 میں فنون میں ان کی غزلوں کی اشاعت سے آگے بڑھا۔ 2000 تک وہ اردو غزل کے شعری منظر نامے میں اپنا مکمل تعارف پیدا کر چکے تھے تاہم ناروے چلے جانے کے سبب ان کا پہلا شعری مجموعہ "یونہی" 2012 میں شائع ہو سکا جیسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس مجموعے میں ان کا 2000 تک کا کلام شامل ہے۔ ادریس بابر عالمی ادب سے تراجم کے سلسلے میں بھی معروف ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نظم اور حمد ونعت بھی کہتے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے دس مصرعی نظم " عشرہ" متعارف کرائی ہے ۔ ادریس بابر 2012 میں پاکستان واپس آگئے اور تا حال یہیں مقیم ہیں۔ ادریس بابر کا کلام دنیا کے تمام اہم اردو جرائد میں چھپتا رہا ہے اور اہم اردو ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہے
 
رحمان حفیظ کے ایک مضمون سے ا قتباس
{کتاب : "غزل زندہ رہے گی ( 20 شعرا کا غزلیہ انتخاب 1990 تا 2015 از نعمان فاروق) ، اشاعت 2015 ، انحراف پبلیکیشنز ، اسلام آباد ، مقدمہ : رحمان حفیظ}
 
ادریس بابر کا نام ذہن میں آتے ہی اس جدید ترین غزل کا تصوّ ر ذہن میں لپکتا ہے جو آج کی نئی نسل سے منسوب ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ادریس نے اپنے تازہ لب و لہجے اور متنوّع موضوعات کے ذریعے نو جوانوں میں وہ مقبولیت حاصل کی ہے جو شاید اس ایج گروپ میں کسی اور حاصل نہ ہوئی ہو۔ ادریس بابر شاعری میں ایک عمدہ ، منفرد اور نیا طر زِ احساس متعارف کروانے میں کامیاب رہا ہے اور یہی اس کی سب بڑی کامیابی ہے۔ معروضی طور پرشاعری میں جدّت سے ایک مراد روایت کی نفی کئے بغیر کلیشے سے نجات بھی ہے جو اگلے مر حلے میںنئے الفاظ و مرّکبات اور علامات تک پھیل جاتی ہے جو مضامین میں نئی دلچسپی کا موجب بن سکیں ، پھر یہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر لسانی تشکیلات تک بھی جا سکتی ہے جس کا ڈول بہت پہلے ڈالاگیا تھا تاہم فوری کامیابی کی بجائے اس کے ثمرات وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ زبان کے معاملے میں ادریس بابر فرسودہ نظریات کو مسترد کرتا ہے کیونکہ وہ ہر طرح کے ا لفاظ میں اپنی تخلیقی توانائی کی مدد سے شعریت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یوں ادریس بابر دورِ حاضر میں اپنے منفرد انداز بیان سے ایک نئے لہجے کی تشکیل کر رہا ہے۔ اس کی ایک خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ نئے لکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد اس کے ساتھ ہے جو ایک تحریک کا سا تاّثر پیدا کر رہی ہے پہلے مجموعے " یونہی" کی اشاعت کے بعد اس کے ہاں شعری تبدیلی کی یہ رفتار بڑھتی نظر آرہی ہے اور وہ نئے راستوں کی تلاش میں چٹانیں تراشتا جا رہا ہےباوجودیکہ وہ "یونہی" کی اشاعت سے شاعری میں بغاوت کا تاّثر دئیے بغیر نیا اور منفرد شعر کہہ کر عصری غزل میں اپنا ایک مقام پہلے ہی بنا چکاتھا ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ادریس بابر کے تازہ کلام کے مسودات گم ہو گئے یا چوری کر لئے گئے اور ان کی کوئی کاپی ابھی اتک بازیاب نہیں ہوسکی۔
 
کچھ درخت اپیے جڑیں ساتھ لیے پھرتے ہیں
3۔ حماد نیازی کے الفاظ میں
 
ّّ{حماد نیازی کے طویل مضمون ''اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظر نامہ'' سے اقتباس اور انتخاب کلام}
 
ادریس بابر اگر دیکھا جائے تو پچھلے بیس پچیس سالوں میں اپنے شعری سفر کا آغاز کرنے والوں میں امکانات،تجربات اور تخلیقی وفور کے اعتبار سے ایک بہت ہی اہم اور نمایاں شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں ادریس بابر کی غزل کو اگر بغور دیکھا جائے تو اسلوبیاتی سطح پر اس کی غزل کے اشعار ہمعصر منظر نامے میں شناخت کیے جا سکتے ہیں اور اس کی بنیادی وجوہات میں ایک اہم وجہ اس کے مصرعے کی منفرد اور مخصوص بنت ہے اس کے مصرعے ٹوٹ کر وقفے اور ٹہرااؤ سے ترتیب پاتے ہیں پھر ایک ہی مصرعے میں ایک سے زیادہ امیجز کو بافت کا حصہ بنانا اور ان سے ایک ہی مصرعے میں استفہامیہ تخلیق کر کے ان کا جواب بھی فراہم ہوتا نظر آئے یہ چیز معاصر غزل میں ادریس بابر کے علاوہ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں ملتی ہے
سوچیے کیا کوئی کر سکتا ہے
وہ بھی جب سوچنے کا وقت نہ ہو
----------
 
ادریس بابر کی پہلی کتاب یونہی ۔۔۔فیض احمد فیض ایواڑ یافتہ ہے ہے نیز تمام اُردو کی بڑی ویب سائیٹس پر<ref>ادریس بابر کی شاعری </ref> آپکا کلام بہت شوق سے پڑھا جاتا ہے [[اردو شعراء كي فہرست]]
ّ[[ http://www.urdupoint.com/poetry/poet/idris-babur]]
ٌٌٌٌٌٌ[[ http://www.adbiduniya.com/2015/10/yunhi-by-idris-babur.html ]]
 
[[زمرہ:ساحر تخلیق مضمون کے ذریعہ تحریر شدہ مضامین]]
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]
ّ[[ http://www.urdupoint.com/poetry/poet/idris-babur]]
ٌٌٌٌٌٌ[[ http://www.adbiduniya.com/2015/10/yunhi-by-idris-babur.html ]]
86,585

ترامیم