"فعل" کے نسخوں کے درمیان فرق

2,218 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
 
۳۔ فعل مستقبل
 
<big>۱۔ فعل ماضی</big>
 
فعل ماضی اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔
 
<big>یا</big>
 
وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے اسے فعل ماضی کہا جاتا ہے۔
 
<big>یا</big>
 
مثالیں
 
عرفان نے [[چائے]] پی، عمران نے کام کیا، عدنان دوڑا، انیلا نے خط لکھا، اختر [[اسکول]] گیا، ان جملوں میں چائے پی، کام کیا، دوڑا، لکھا، گیا، فعل ماضی ہیں۔
 
<big>۲۔ فعل حال</big>
 
فعل حال اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کس کام کا کرنا، ہونا، یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے۔
 
<big>یا</big>
 
وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے اُسے فعل [[حال]] کہتے ہیں۔
 
<big>مثالیں</big>
 
اسلم کھانا کھاتا ہے، سلیم کھیلتا ہے، اسلم [[کھانا]] کھا رہا ہے، طاہر [[پودا]] لگاتا ہے، سلمہ فرش دھوتی ہے۔ اِن جملوں میں کھاتا ہے، کھیلتا ہے، کھا رہا ہے، لگاتا ہے، دھوتی ہے فعل [[ماضی]] ہیں۔
 
<big>۳۔ فعل مستقبل</big>
 
ایسا فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے اسے فعل مستقبل کہتے ہیں۔
 
<big>یا</big>
 
وہ [[فعل]] جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے اُسے فعل مستقبل کہتے ہیں۔
 
<big>مثالیں</big>
 
تنویر کل [[کراچی]] جائے گا، افضل [[کرکٹ]] کھیلے گا، فصیح [[پھول]] توڑے گا، سیما [[خط]] لکھے گی۔ [[کسان]] فصل کاٹے گا، اِن جملوں میں جائے گا، کھیلے گا، توڑے گا، لکھے گی، کاٹے گا فعل [[مستقبل]] ہیں۔
 
[[زمرہ:اجزاۓ کلام]]
720

ترامیم