مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

←‏اردو کے لئے خدمات: درستی، ± اندرونی ربط/روابط
 
== اردو کے لئے خدمات ==
مولانا صلاح الدین احمدکی اُردو کے لیے خدمات کا اگر ایمان داری سے احاطہ کیا جائے تو شاید اُن کی پوری سوانح عمری کو دُہرانا ہو گا کہ اُن کی زندگی کے شعوری حصے کا کوئی ایسا پل نہیں ہے، جو خدمتِ اُردو سے خالی ہو۔اُردوہو۔ اُردو زبان کی تحسین، فروغ، دفاع اور نفاذ اُن کی زندگی کا مقصدِ اوّل اور مدّعائے آخر تھا۔ اُردو اُن کی تہذیب تھی، اُن کا ماحول تھا، اُن کی ثقافتی فضا تھی، اُن کی وجہِ دوستی اور سببِِ عداوت تھی، اُن کا نظریہ تھا، اُن کا نظامِ خیال تھا حتیٰ کہ اُن کا جزوِ ایمان تھا۔<ref name="nlpd.gov.pk">[http://nlpd.gov.pk/uakhbareurdu/june2011/1.html مولانا صلاح الدین احمد کی اُردو خدمات، ڈاکٹر طارق ہاشمی، ''اخبار اردو''، جون 2011ء، [[ادارہ فروغ قومی زبان]] پاکستان]</ref>
 
زمانی لحاظ سے اُن کی خدمات کا پہلا عرصہ [[قیام پاکستان]] تک کا ہے جب کہ اُردو اور ہندی کا تنازعہ اُسی طرح عروج پر تھا جیسا کہ [[ہندوستان]] کی دو بڑی اقوام کے مابین مذہب کا جھگڑا۔ اگرچہ یہ لسانی مناقشہ قطعی طور پر مصنوعی تھا اور اُس زبان کے خلاف ایک محاذ تھا جو عوام میں رائج اور مقبول تھی۔اُس وقت کی ہندوقیادت کا یہ خیال تھا : ''اُردو کا مستقبل مسلمانوں کے فرقے کا نجی معاملہ ہے اور اگر وہ اِسی زبان میں لکھنا پڑھنا چاہیں تو اُن پر کوئی پابندی مناسب نہ ہو گی۔ البتہ قومی سطح پر فوقیت ہندی یا ہندوستانی کو حاصل ہو گی۔''
یہی وہ نقطۂ نظر تھا جس کے باعث اُردو کے قومی سطح پر فروغ یا نفاذ کے خلاف سرگرمیاں شروع ہوئیں اورہر سطح پر اُردو کے فروغ کا راستہ روکا گیا۔ ہندی نواز طبقہ اُردو دُشمنی میں ہر نوع کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اُردو کے خلاف جلسے بھی منعقد کیے جانے لگے اور قراردادیں بھی پاس ہونے لگیں۔ الغرض کوئی موقع ضائع نہ کیا گیا۔ جون [[1945ء]] میں ''[[پنجاب ساہتیہ منڈل]]'' کا ایک جلسہ زیرِصدارت بہاری لال چاننہ منعقد ہوا جس میں یہ قرارداد پاس کی گئی: ''چونکہ ریڈیو کی زبان [[عربی زبان|عربی]] اور [[فارسی زبان|فارسی]] الفاظ کی کثرت کے باعث حدِ درجہ ناقابلِ فہم ہے، اِسی لیے اِس محکمے کے عملے میں فوری تبدیلیاں کی جائیں اور پچھتّر فی صد اسامیاں ایسے لوگوں سے پُر کی جائیں جو ہندی دان پبلک طبقے کے نمائندے ہوں اور جو زبان کے معاملے میں ہم سے انصاف کر سکیں۔''
اُردو کے خلاف اِس محاذ کے باعث یہ ضروری سمجھا گیا کہ اِس لسانی مناقشے میں بھرپور دفاعی پالیسی اپنائی جائے۔ چنانچہ اُردو کے تحفظ کے لیے تمام مسلمانانِ ہند اور اُن کی نمائندہ جماعتیں ایک ہو گئیں اور اُسی شدومد کے ساتھ اُردو دفاع کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، جس قدر کہ جارحیت تھی۔ بقول [[فرمان فتح پوری|ڈاکٹر فرمان فتح پوری]]: ''[[مسلم لیگ]]، [[محمڈن ایجوکیشن کانفرنس|مسلم ایجوکیشنل کانفرنس]]، [[خلافت کمیٹی]] اور [[انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اُردو]]نے اُردو کو برصغیر کے مسلمانوں کی ثقافتی رگ سمجھ کر اُس کو بچانے کی کوشش کی۔ [[آل انڈیا مسلم لیگ|مسلم لیگ]] نے سیاسی سطح پر اُردو کا دفاع کیا اور اپنے مطالبات میں اُردو کی حفاظت کو بھی شروع ہی سے پیشِ نظر رکھا۔''
مولانا صلاح الدین احمدنے اِس صورتِ حال میں جو کردار ادا کیا وہ کسی جہاد سے کم نہیں۔ اُردو کو اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہوئے اُردو کے فروغ اور اُس کے خلاف کارروائیوں کے سدِّ باب کے لیے تن، من اور دھن کی بازی لگا دی۔ اِسی سلسلے میں انہوں نے جو نمایاں اقدامات کیے،وہ یہ ہیں:
# ''[[ادبی دنیا (جریدہ)|ادبی دنیا]]'' کے اداریوں میں فروغ و دفاعِ اُردو کو مستقل اہمیت دی۔
 
=== اکادمی پنجاب کی بنیاد ===
اُردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے ''اُردوبولوتحریک'' کے علاوہ مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے وسائل سے ''اکادمی پنجاب'' کی بنیاد رکھی۔اِس سلسلے میں اُن کو سیّد[[فقیر وحیدالدین،اےسید وحید الدین]]،اے ڈی اظہر اور [[وزیر آغا|ڈاکٹر وزیرآغا]] کا تعاون حاصل تھا۔ اِس اکادمی کے مقاصد میں اُردو زبان و ادب کی نشوونما کے لیے متنوع جہتوں میں کام کرنا تھا۔ ''اکادمی پنجاب'' کے مقاصد کا تعین کرتے ہوئے [[ڈاکٹر انور سدید]] نے درج ذیل پانچ نکات پیش کیے ہیں:
# قومی زبان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا۔
# اُردو کی ترقی اور فروغ کی علمی کامرانیوں میں اضافہ۔
14,687

ترامیم