"خرقہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  5 سال پہلے
م
(ٹیگ: القاب)
شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں "کہ اس سورت میں خرقہ پوشی کے لوازم و شروط بیان ہوئی ہیں۔" گویا یہ سورت اس شخص کی سورت ہے جو درویشوں کا خرقہ پہنے اور اپنے تئیں اس رنگ میں رنگے۔ لغت عرب میں "مزمل" اس شخص کو کہتے ہیں جو بڑے کشادہ کپڑے کو اپنے اوپر لپیٹ لے۔ اور آنحضرت ﷺ کا معمول ایسا تھا کہ جب نماز تہجد اور قرآن شریف کی تلاوت کے لیے رات کو اٹھتے تھے تو ایک کمبل دراز اوڑھ لیتے تھے تاکہ سردی سے بدن محفوظ رہے اور وضو و نماز کی حرکات میں کسی طرح کا حرج واقع نہ ہو<ref>تفسیر عثمانی مفسر مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ مزمل</ref>۔
 
مزمل عرب میں اسے کہتے ہیں جو چادرے میں لپٹا ہو یا چادرہچادرا اوڑھے ہو آنحضرت ﷺ کے پاس چودہ ہاتھ کا لمبا ایک کمبل تھا۔ تہجد کی نماز اور تلاوت کے لیے جب اٹھتے تو اسی کو اوڑھ لیتے تھے تاکہ نماز میں اٹھنے بیٹھنے میں حرج نہ ہو، وضو آسان ہو، ہوا سرد سے محافظت ہو۔ اور نیز اس قسم کی چادر اوڑھنا یا لپیٹ لینا کفن لپیٹنے کی طرف اشارہ ہے تاکہ نفس ہر وقت موت سے آگاہ رہے اور رات کی اندھیری قبر کی اندھیری اور دنیا کے عدم کی ظلمت سے مشابہت رکھتی ہے اس لیے حضرات انبیاء علیہم السلام اس قسم کا کپڑا اوڑھتے تھے خصوصاً حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام اور ہمیشہ سے صلحا کا یہ لباس رہا ہے اور اسی لیے فقراء میں خرقہ پوشی ایک سنت چلی آتی ہے اور یہ لباس اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اوڑھنے والے نے ترک دنیا و عبادت مولیٰ کا التزام کرلیا ہے جیسا کہ وردی سپاہیوں کی علامت ہے۔ اس خرقہ کے لیے سات شرطیں ہیں۔
*(1) شب بیداری و نمازِتہجد و تلاوت قرآن،
*(2) دن میں اوقات کو یادِ الٰہی میں مصرف رکھنا۔
*(7) اہل دنیا کی صحبت ترک کرنا
اور اس کے ساتھ ان کی خیرخواہی سے بھی غافل نہ رہنا۔ جس میں یہ سات باتیں ہوں اس پر یہ خرقہ زیبا ہے اور اسی لیے اس خرقہ کی شروط بجا لانے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو مزمل کا خطاب عطا ہوا جو بڑا پیارا خطاب ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ادا حضرت حق کو پسند آگئی تھی اس لیے فرماتا ہے یا ایہا المزمل کہ اے چادر اوڑھے ہوئے ! اس چادر ریاضت کا حق بجا لا۔ قم الیل رات بھر نماز و تلاوت کے لیے قائم اور مستعد و سرگرم رہ<ref>تفسیر حقانی ابو محمد عبدالحق حقانی سورہ مزمل</ref>۔
یایھا المزمل ‘‘۔ خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ آپ حالت غم میں کپڑے اوڑھ لپیٹ کر لیٹ رہے تھے۔ ملاطفت خاص کے طور پر آپ ﷺ کو مخاطب بھی اسی نام سے کیا گیا۔ بعض صوفیوں نے اپنے ہاں کی خرقہ پوشی کی سند بھی اس لفظ مزمل سے حاصل کی ہے۔ شب بیداری کا معمول بھی مشائخ وصوفیہ نے انہیں آیتوں سے نکالاہے<ref>تفسیر ماجدی عبدالماجد دریا آبادی سورۃ المزمل</ref>۔
 
=== خرقہ اور حدیث ===
ام المؤمنین میمونہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو یا تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔ پھر شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر دو یا تین بار رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ پھر اپنی جگہ سے سرک کر پاؤں دھوئے۔ میمونہ (رض) نے فرمایا (فَأَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا)کہ میں ایک کپڑا لائی تو آپ ﷺ نے اسے نہیں لیا اور ہاتھوں ہی سے پانی جھاڑنے لگے<ref name="ReferenceA">صحيح البخاري المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري</ref>۔