"اسپیکٹرل لائن" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
 
==مسلسل طیف (Continuous spectrum)==
بہت گرم اجسام سے نکلنے والی روشنی کا طیف مسلسل ہوتا ہے۔ یعنی اس میں نہ کوئِکوئیِ اسپیکٹرل لائن ہوتی ہے اور نہ کسی فریکوئنسی کے فوٹون غائب ہوتے ہیں۔
[[Image:Spectral lines continuous.png|thumb|مسلسل طیف (Continuous spectrum)۔ اس میں کوئِکوئیِ کالی لائین نہیں ہے۔ دونوں سرے اس لیئے لیے کالے ہیں کیونکہ انسانی آنکھ [[انفرا ریڈ]] ( دائیں طرف) اور [[الٹرا وائیلٹ]] (بائیں طرف) نہیں دیکھ سکتی۔]]
 
==جذبی طیف (Absorption spectrum)==
سورج سے نکلتی روشنی جب سورج کی [[فضاء]] سے گزرتی ہے تو اُس فضاء میں موجود گیسوں کی وجہ سے سورج کے طیفِ مسلسل میں لگ بھگ 20000 اسپیکٹرل لائینیں داخل ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ 75 فیصد کی پہچان ہو چکی ہے اور 25 فیصد کی وضاحت ہونا ابھی باقی ہے۔
 
[[Image:Spectral lines absorption.png|thumb|(Absorption spectrum) اس طیف میں کالی لائینیں ان فوٹون کو ظاہر کرتی ہیں جو راستے میں موجود کسی گیس نے جذب کر لیئے۔ لیے۔]]
1868 میں Norman Lockyer نامی سائینس دان نے سورج کی روشنی کے طیف میں [[سوڈیئم]] کی دوہری لائنوں کے نزدیک 587.56نینو میٹر پرایک نئی لائن کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ یہ ایک نیا عنصر ہے جس کا نام اس نے [[ہیلیئم]] رکھا۔ زمین پر ہیلیئم اس کے 27 سال بعد 1895 میں دریافت ہوئِ۔
[[File:Helium spectrum.jpg|thumb|left|300px|1868 میں سورج کی شعاعوں کا تجزیہ کر کے ہیلیئم کی پیلے رنگ کی لائن دریافت کر لی گئی تھی۔]]
آواز کے طرح روشنی کی لہروں میں بھی [[ڈوپلر کا اثر]] (Doppler effect) ہوتا ہے۔ یعنی جب ایک ستارہ ہم سے دور جارہا ہوتا ہے تو اس کی روشنی میں موجود اسپیکٹرل لائنیں اپنی اصل جگہ سے ہٹ کر
کم فریکوئنسی (یعنی زیادہ بڑی طول موج) کی طرف چلی جاتی ہیں۔ ستارہ جتنی زیادہ رفتار سے پرے ہٹ رہا ہو گا فریکوئنسی میں کمی (Red shift) بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ اس طرح سائینس دان دور دراز کے ستاروں اور کہکشاوں کی رفتار اور سمت بھی معلوم کر سکتے ہیں اور ان میں موجود گیسوں کی ماہیت بھی معلوم ہو جاتی ہے۔
چونکہ [[کائنات]] پھیل رہی ہے اس لیئے لیے تقریباً سارے ستاروں اور کہکشاوں کی روشنی میں اسپیکٹرل لائنوں کا ریڈ شفٹ موجود ہوتا ہے۔
 
[[File:Redshift.svg|thumb|upright|Red shift: جب کوئی [[ستارہ]] ہم سے دور جا رہا ہوتا ہے تو اسکی اسپیکٹرل لائنیں اپنی جگہ سے کھسک کو سرخ کنارے کی طرف چلی جاتی ہیں یعنی انکی طول موج (wave length) بڑھ جاتی ہے۔]]
==بلیو شفٹ (Blue shift)==
جب ایک ستارہ ہماری جانب تیزی سے آ رہا ہوتا ہے تو اسکے طیف میں موجود اسپیکٹرل لائینیں اپنی اصل جگہ سے ہٹ کر زیادہ فریکوئنسی (یعنی زیادہ چھوٹی طول موج) کی طرف چلی جاتی ہیں۔ ستارہ جتنی زیادہ رفتار سے ہماری جانب بڑھ رہا ہو گا فریکوئنسی میں اضافہ (Blue shift) بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔<br />
[[اینڈرومیڈا]] نامی ایک [[کہکشاں]] (Andromeda Galaxy) ہم سے 25 لاکھ [[نوری سال]] کے فاصلے پر ہے مگر دوسری کہکشاوں کے برعکس یہ ہم سے دور نہیں جارہی بلکہ 110 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہماری جانب آ رہی ہے۔ اندازہاندازا ہے کہ یہ ہماری کہکشاں (ًMilky way) سے چار ارب سال بعد ٹکرا جائے گی۔ اینڈرو میڈا سے آتی ہوئی روشنی میں اسپیکٹرل لائنوں کا بلیو شفٹ موجود ہے۔
 
==[[لیتھیئم]] لائن==