"ساغر جیدی" کے نسخوں کے درمیان فرق

6 بائٹ کا ازالہ ،  6 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
(گروہ زمرہ بندی: منتقل از زمرہ:اردو شعراء بجانب زمرہ:اردو شعرا)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
ہمہ اصناف کے پروردہ ساغرؔ جیدی نے نہ صرف صنف غزل کو اپنا یا بلکہ دوہے جو ہندی صنف سخن سے تعلق رکھتے ہیں اردو میں تخلیق کی ،نہ صرف تخلیق کی بلکہ ان تخلیقات کو کتابی شکل میں پیش کیا۔ ان کے اب تک پانچ دوہوں کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔1990 ؁ء میں’’ ثبوت‘‘کے نام سے ایک دوہوں کا مجموعہ جس میں ایک دیوان(بغیر الف) ’’دو نیم‘‘ کے نام سے اور دوسرا مجموعہ ، ’’تحویل‘‘ جن کی رسم اجراء آندھرا پردیش کے گورنر سر جیت سنگھ برنالہ کے ہاتھوں ادا ہوئی۔ ان تین مجموعوں کے علاوہ2005 ؁ء میں مرن مئی کے نام سے ہندی میں شائع ہوچکا ہے جس میں دوہوں کے ساتھ ساتھ دوہا گیت بھی موصوف نے تخلیق کی ہے۔2009 ء میں اردو اکاڈمی آندھرا پردیش کی مالی اعانت سے ’’کیسر کیسر دوہے‘‘ کے نام سے ایک اور دوہوں کا مجموعہ منظر عام پر آچکا ہے۔ علاوہ ازیں محبی ڈاکٹر وصی اللہ بختیاری ،ڈگری لکچرر، ڈگری کالج پلمنیر نے موصوف کے دوہوں کے مجموعوں پر ایک تحقیقی(ناکہ تنقیدی) جائزہ لیتے ہوئے ایک کتاب ’’ڈاکٹر ساغر جیدی کی دوہا گوئی‘‘ کے نام سے شائع کی۔ جس میں ڈاکٹروصی اللہ نے موصوف کی دوہا گوئی پر عمدہ بحث کی ہے اور تمام فنی لوازمات کو اجاگر کیا ہے۔
موصوف کے دوہوں میں تشبیہات، استعارات، علامت نگاری اور طنز و مزاح جیسی خصوصیات پائی جاتی ہے، انہیں اوصاف کو گنواتے ہوئے ڈاکٹر وصی اللہ بختیار ی لکھتے ہیں۔
’’ ڈاکٹر ساغر جیدی کی دوہا گوئی بھی تشبیہات سے مغتنم ہے۔ آپ کے دوہوں میں تشبیہ کارفرما نظر آتی ہے۔ بسا اوقات دوہے کا ایک مصرعہمصرع مشبہ اور دوسرا مصرعہمصرع مشبہ بہ معلوم ہوتا ہے۔ آپ کی تشبیہوں میں طنز کی ایک لطیف تہہ داری پائی جاتی ہے۔ تحیر آفرینی اور بصیرت افروزی کی فضاء اپنی تمام جلوہ سامانیوں کے ساتھ رونق افروز ہے‘‘۔
 
{{اقتباس|ساغرؔ ! بہتے وقت کا ایسا ہے ٹھراؤ
 
==ساغر ؔ جیدی کی رباعیات==
رباعی ایک ایسی صنف سخن ہے جس میں فلسفیانہ حکیمانہ، صوفیانہ، اخلاقی اور عشقیہ مضامین کے علاوہ مختلف سماجی مسائل اور موضوعات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ اکثر شعراء اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ کسی بھی وزن میں چار مصرعے کہہ کر رباعی لکھی جاسکتی ہے۔ جبکہ ماہرین عروض نے رباعی کے لئے مخصوص اوزان کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔ رباعی کے ہر مصرعہمصرع میں ’’مخصوص وزن‘‘ کے چار چار کن ہوتے ہیں اور یہ چار اراکین بیس ماتراؤں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ان اراکین کو عروضِ اصطلاح میں افاعیل بھی کہتے ہیں، عرو ض داں نے رباعی کے چوبیس اوزان کو دو گروہوں میں ’’شجرۂ اخرب‘‘ اور ’’شجرۂ اخرم‘‘ میں برابر بانٹا ہے۔ ان سب فنی لوازمات کو ہنر مندی کے ساتھ برتنے میں ساغرؔ جیدی بے انتہا کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی رباعیات میں انسانی اقدار، اخلاقی معیار، سادگی، سلاست، روانی، سوز و گداز، جدت، ندرت، شگفتگی اور شائستگی جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس نوعیت کے چند رباعیات ملا حظہ ہوں ؂
{{اقتباس|مٹی کا کٹورہکٹورا بھی نہیں ہے گھر میں
اک دوسرا کُرتا بھی نہیں ہے گھر میں