"سنگل (موسیقی)" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
{{ضم|منفردہ (موسیقی)}}
{{wikify}}
مغربی موسیقی، بالخصوص امریکی موسیقی کی صنعت میں '''سنگل''' ([[انگریزی زبان|انگریزی]]: single، لغوی مطلب:واحد یا اکیلا، جمع: سنگلز) ایک ایسے [[گیت]] کو کہتے ہیں جو کسی آئندہ آنے والے البم سے لیا گیا ہو اور اس البم کی تشہیر کیلیےکے لیے انفرادی طور پر جاری کیا جائے۔ یہ بنیادی طور پر مغربی موسیقی کی اصطلاح ہے جس کا اردو میں کوئی نعم البدل متعارف نہیں کیا گیا۔
 
سنگلز کو کئی مختلف صورتوں میں جاری کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں ان کو گراموفون ریکارڈز پر جاری کیا جاتا تھا جو "سنگلز" کہلاتے تھے۔ ان ریکارڈز پر زیر موضوع گیت کے علاوہ ایک یا دو دیگر گانے بھی محفوظ ہوتے تھے اور اصل البم کے اجراء سے پہلے فروخت کیلیےکے لیے دستیاب ہوتے تھے۔ تاہم انٹرنیٹ پر گیتوں کی مفت دستیابی سے گراموفون ریکارڈ کے ذریعے سنگلز کی فروخت کم ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں، سنگلز کو ریڈیو پر بھی چلایا جاتا ہے اور 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں گیتوں کی ویڈیوز کی آمد سے سنگلز کو عوام تک پہنچانے کا یہ ذریعہ بھی کافی مقبول ہو گیا ہے۔
 
==تاریخ==
 
سنگل کے معیار کا 1800ء کی صدی کے آخر میں میں ہوا تھا جب تجارتی موسیقی میں گراموفون ریکارڈ فونوگراف اسطوانات پر سبقت حاصل کرنے لگے۔ گراموفون کی اقراص کئی مختلف رفتاروں پر چلنے کیلیےکے لیے بنائی جاتی تھیں (16 چکر فی دقیقہ تا 78 چکر فی دقیقہ) اور کئی مختلف قطر کی ہوتی تھیں (جن میں سے ایک 12 انچ یا 30 سم بھی تھا)۔ تاہم 1910ء تک 10 انچ (25 سم) قطر کی 78 چکر فی گھنٹہ کی رفتار پر چلنے والی لاکھ کی بنی اقراص سب سے عام تھیں۔
 
گراموفون قرص پر خلقی طور پر محدود گنجائش نے 1900ء کے آغاز کے سالوں تجارتی سطح پر صوت نگار کا معیار قائم کیا۔ اس وقت کی اقراص کی کٹائی کے نسبتا خام طریقوں اور گراموفون کی سوئی کی موٹائی کی وجہ سے قرص پر فی انچ بہت کم تعداد میں جھریاں کھودی جا سکتی تھیں، اور آواز کا قابل قبول معیار قائم رکھنے کیلیےکے لیے فی منٹ زیادہ تعداد میں چکر درکار ہوتے تھے۔ 78 چکر فی دقیقہ کو معیار کے طور پر اس لیے اپنایا گیا کیونکہ 1925ء میں بجلی سے چلنے والی معاصر محوری موٹر متعارف ہوئی جو گیئر کے ساتھ 46:1 کے تناسب سے 3600 چکر فی دقیقہ کی رفتار سے چلتی تھی جس سے قرص کی محوری رفتار 78.26 چکر فی دقیقہ حاصل ہوتی تھی۔
 
ان تمام حقائق اور قرص کے قطر کے 10 انچ (25 سم) تک محدود ہونے کی وجہ سے اس پر محفوظ کیے جانے والے صوتی مواد کی طوالت بھی بہت محدود تھی اور قریبا 3 دقیقہ کے لگ بھگ تھی۔ اس وجہ سے موسیقار، گیت نگار اور گلوکار اپنے گیتوں کو اس طرح سے تخلیق کرتے تھے کہ وہ اس نئے واسطہ پر پورے آ سکیں۔ 3 دقیقہ کے سنگل کا معیار 1960ء کی دہائی تک قائم رہا جب خردبینی جھریوں کا دور آیا اور ریکارڈنگ کی تکنیک میں بہتری آئی۔ 1968ء میں [[دا بیٹلز]] نے "ہے جوڈ" نامی 7 دقیقہ طویل سنگل جاری کیا جو پاپ موسیقی میں رائج 3 منٹ کے سنگل کے خلاف ایک سوچا سمجھا چیلنج تھا۔
7 انچ 45 چکر فی دقیقہ کے ریکارڈ 1949 میں آر سی اے نے 78 چکر فی دقیقہ کی اقراص کے زیادہ دیرپا اور بہتر آواز والے متبادل کے طور پر متعارف کروائے تھے۔ 45 چکر فی دقیقہ کے اولین ریکارڈ یکصوتی تھے جن کی دونوں اطراف پر ریکارڈنگ کی جاتی تھی۔ 1960ء کی دہائی میں جب کثیر صوتی اقراص کی مقبول ہوئیں تو 1970ء کی دہائی کے آغاز تک تقریباً تمام 45 چکر فی دقیقہ کے ریکارڈ کثیر صوتی تیار کیے جانے لگے۔
 
گو کہ 7 انچ قطر کا معیار وائنل سنگلز کیلیےکے لیے قائم رہا تاہم 1970ء کی دہائی میں ڈسکو کلبوں میں ڈی جیز کے استعمال کیلیےکے لیے 12 انچ قطر کے سنگلز متعارف کروائے گئے۔ ان سنگلز پر زیادہ جگہ ہونے کے باعث ان پر ڈانس موسیقی کے زیادہ طوالت والے مکس محفوظ کیے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں، ان کی وسیع تر سطح کے باعث ان 12 انچھ کی اقراص پر جھریاں زیادہ چوڑی اور ان میں زیادہ فاصلہ ہوتا تھا جس کے باعث یہ سنگلز دیرپا ہوتے تھے اور بدیر گھستے تھے۔ 12 انچھ کے سنگلز اب بھی ڈانس موسیقی کیلیےکے لیے معیار تصور کیے جاتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔
 
بیشتر ممالک میں سنگلز کی فروخت کے اعداد و شمر ٹاپ فورٹی (Top 40) نامی فہرستوں کے ذریعے مختلف اخبارات و جرائد میں شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گیت ریڈیو پر بھی اپنی مقبولیت کی ترتیب سے چلائے جاتے ہیں۔ ان فہرستوں میں شامل ہونے کیلیےکے لیے کسی بھی سنگل کو کچ قواعد و ضوابط پر پورا اترنا پڑتا ہے جو فہرست تیار کرنے والی کمپنی کے ذیر نگرانی تیا کیے جاتے ہیں۔
 
[[زمرہ:سمعی ذخیرہ سازی]]