"جلال الدین اکبر" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
[[1556ء]] میں [[دہلی]] ، [[آگرہ]] ، [[پنجاب]] پھر [[گوالیار]] ، [[اجمیر]] اور [[جون پور]] بیرم خان نے فتح کیے۔ [[1562ء]] میں [[مالوہ]]، [[1564ء]] میں گونڈدانہ ، [[1568ء]] میں چتوڑ، [[1569ء]] میں رنتھمپور اور النجر ، [[1572ء]] میں [[گجرات (بھارت)|گجرات]] ، [[1576ء]] میں [[بنگال]]، [[1585ء]] میں [[کابل]]، [[کشمیر]] اور [[سندھ]]، [[1592ء]] میں [[اڑیسہ]] ، [[1595ء]] میں [[قندہار]] کا علاقہ ، پھر احمد نگر ، اسیر گڑھ اور دکن کے دوسرے علاقے فتح ہوئے اور اکبر کی سلطنت بنگال سے [[افغانستان]] تک اور [[کشمیر]] سے دکن میں دریائے [[گوداوری]] تک پھیل گئی۔
 
اکبر نے نہایت اعلٰی دماغ پایا تھا۔ [[ابوالفضل]] اور [[فیضی]] جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت [[جودھا بائی]] سے بھی شادی کی جو کہ اس کے بیٹے [[جہانگیر]] کی ماں تھی۔ [[جودھا بائی]] نے مرتے دم تک [[اسلام]] قبول نہیں کیا تھا۔ نیز [[دین الہٰی]] کے نام سے ایک نیا مذہب بھی جاری کیا۔ جو کہ ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے [[ہندو]] [[رتن|رتنوں]] کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امراء اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انہی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا۔
==تاریخ==
 
 
==اکبر کے نو رتن==
اکبر کے دربار میں اس کے نو وزیر تھے جو کہ بہت ہی لائق اور فائق مانے جاتے ہیں۔
* [[راجا مان سنگھ]]
* [[راجا توڑرمل]]