"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

4 بائٹ کا ازالہ ،  3 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
جین مت کی روایتیں موریاؤں کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ موروں کے رکھوالے تھے۔ بدھ روایتیں کہتی ہیں کہ جب شاکیا کی شاخ موریا مگدھ سے بچ نکلا تو ایک پہاڑی علاقہ میں چلا گیا ہے جہاں موروں کی بہتات تھی۔ وہاں انہوں نے ایک شہر بسایا اور چونکہ شہر کے محلات کی اینٹوں کا رنگ مور کی گردن جیسا تھا۔ اس لیے یہ لوگ مور کہلائے اور شہر کا نام موریا نگر مشہور ہوا۔ نندن گڑھ کے ستون سابچی کے سٹوپوں وغیرہ پر موروں کی تصویر کندہ ہیں۔ پاٹلی پتر میں موریا محل کے باغ مور پالے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے فاؤچر، جان مارشل اور گرن ویڈل اس نتیجہ پر پہنچے کہ مور موریا خاندان کی قومی علامت تھا۔ یہاں تک جب گپتا دور میں مہا بھارت پر نظر ثانی کی گئی تو انہیں سنسکرت کا تلفظ میورا کا (یعنی مور قبیلہ) دے دیا گیا۔ (مور راکھا یعنی موروں کا رکھوالا) چندر گپت کے بارے میں یہ روایت ہے کہ وہ نندا خاندان کا ناجائز لڑکا تھا اور اس کی ماں کے نام سے موریا خاندان کا نام پڑا۔
بی ایس ڈاہیا کا کہنا ہے کہ یہ تمام روایات بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ تمام داستانیں فرضی ہیں ان میں زرہ پھر سچائی نہیں ہے موریا خاندان کا مور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مور ان کی خاندانی یا پسندیدہ علامت ہے۔ ستون پر کندہ اشوک کے شاہی فرمان نمبر ۵ میں ان جانوروں اور پرندوں کی فہرست دی گئی جن کو مارنا منع ہے، لیکن ان میں مور شامل نہیں ہے۔ اشوک کی خوراک جو جانور شامل تھے ان میں کو بھی شامل تھا۔ یہ لوگ مور خور تھے نہ کہ مور کے محافظ۔ یہ کیسے ممکن ہے موروں کے رکھوالے کا بیٹا (چندر گپت) ایک ہزار میل دور ٹیکسلا جو شہزادوں کی عظیم درس گاہ تھی تعلیم پاتا تھا۔
یونانی تاریخیں میں کہیں بھی اس کی نشاندہی نہیں ہوتی ہے کہ موریاؤں کا تعلق نندا خاندان سے ہے۔ موریہ کون تھے؟ چانکیہ اس کے بارے میں اپنی تصنیف ارتھ شاستر میں ایک لفظ نہیں کہتا ہے۔ پران موریہ حکمرانوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کرتی ہیں۔ ’مدرا راکش‘ سنسکرت کے ڈرامہڈراما نگار وشاکھ دت نے موریاؤں کو انہیں شودر، ورشل اور کمینہ کہہ کر حقارت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے اور خود چندر گپتا کو کلاہن (مجہو الاصل) کہا ہے۔ جب کہ ’یوگ پران‘ نے انہیں بے دین بظاہر دین دار کہا ہے۔ وشنو پران کہتا ہے نندا کی نسل کے خاتمہ کے بعد موریا قابض ہوجائیں گے اور انہیں شودر کہا ہے۔ مارکنڈیا پران میں انہیں ہے اسور کہا گیا۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس نفرت کا سبب کیا ہے۔ اس جانب ایک اشارہ ہے کہ معاشرے کے بارے میں بالعوم اور برہمنی رسوم کے بارے میں بالخصوص موریاؤں کا روئیہ ہے۔ موریاؤں نے تمام برہمنی رسومات ختم کردیں۔ انہوں نے رسمی طور پر برہمنی مذہب کی مخالفت کی اور اس کے برعکس انہوں نے بیواؤں کی شادی کی حمایت کی۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ موریا غیر ملکی تھے۔ اس لیے وہ برہمنوں کی بالا دستی کو نہیں مانتے تھے۔ وہ ہندو مذہب کے روایتی، سماجی مذہبی اور سیاسی نظریات کی مخالفت کرتے اور وہ ذات پات کو نہیں مانتے تھے۔
اور مزید ان کا کہنا ہے اس کی حقیقت وسط ایشیائی کلمہ ’مور‘ جس کے معنی تاج کہ ہے، یہ وہی کلمہ ہے جس کو موڈ بھی بولا جاتا یعنی وہ تاج جو دولہا شادی کہ موقع پہنتا ہے۔ کیوں وسط ایشا کہ لوگ کلمہ کو ڑ اور ڈ ساتھ بھی بھی بولتے ہیں، اس لیے اسے سنسکرت کو ’موڈ‘ سمجھا گیا، جس کے معنی مسرت اور خوشی کے ہیں۔ انہوں نے اس کلمہ پر تفصیلی بحث کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ کڑٹس کہتا ہے سندھ میں پٹالا کے بادشاہوں نے بھی اس کلمہ کو اپنے ناموں کے ساتھ لگایا ہے اور یہ کلمہ وہی ہے جس کو یونانیوں نے موئز کہا ہے، یہ کلمہ وسطہ ایشیا میں بھی ایک قبیلہ کا نام تھا اور وہاں اب بھی موجود ہے اور اس کا نام بھی یہی ہے۔ موریا، خوتان ترکستان اور دیگر علاقوں کے علاوہ کشمیر کے بھی حکمران تھے۔ پاپا اول سے پہلے موریا راجھستان میں جتوڑ کے حکمران تھے، وہ خود مور راجہ کی لڑکی کا بیٹا تھا۔ اس طرح مہرت راجہ چتوڑ جس کا ذکر چچ نامہ میں ذکر ملتا ہے مور یا موری قبیلہ کی شاخ اور سندھ کے رائے ساسی کا رشتہ دار تھا۔ نیل گری کے پہاڑوں پر چند قدیم مجسموں کا حوالہ دیتے ہوئے فادر مٹز کہتا ہے کہ وہ موریا ری مان (موریا گھرانا کہلاتے تھے۔ وہ انہیں تار تار یا ازبک تسیلم کرتا ہے۔
== چندر گپت موریا ==
سرکاری محصول نقد و جنس دونوں صورتوں میں وصول کئے جاتے تھے۔ وصول میں بالعموم سختی برتی جاتی تھی۔ اکثر ایسے تذکرے اور حوالے ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کاشکاروں نے عاملوں کے ظلم و ستم اور لگان کی زیادتی سے تنگ آ کر زمین کو چھوڑ دیا اور جنگلوں کی طرف بھاگ گئے۔ بیگار کا عام رواج تھا، ہر اہل ہنر اور کاریگر کو مہینہ میں دو دن سرکاری کام کرنا پڑتا تھا۔ جس کی انہیں مزدوری نہیں ملتی ہے۔
== فوج ==
اس عہد کی طرح موریہ بھی نیم فوجی حکومت تھی اور طاقت کا دارو مدار فوج پر تھا۔ وہ اپنی فوج کے بل پر ہی اپنی حکومت قائم کی اور لوگوں کے دلوں پر اپنی ہیبت قائم رکھ سکے۔ موریا عہد میں فوج کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اس کی تعد بڑھ کر چھ لاکھ سے بھی تجاوز ہوگئی۔ پلینی Pliny کے بیان کے مطابق چندر گپت کی فوج میں چھ لاکھ 600000 پیادہ 30000 تیس ہزار سوار اور نو ہزار 9000 ہاتھی شامل تھے۔ مگھشنز کے بیان کے مطابق اس عظیم انشان فوج کی نگرانی ایک مجلس کے سپرد تھی جو تیس اراکین پر مشتمل تھی اور جو مزید چھ ذیلی مجلسوں میں تقسیم بٹی ہوئی تھی۔ ہر ذیلی مجلس کے سپرد فوج کا خاص حصہ تھا۔ پہلی دریائی بیڑہبیڑا کی دیکھ بھال۔ دوسری پیادہ افوج کا انتظام۔ تیسر سوار فوج کا انتظام۔ چوتھی رتھوں کا انتطام۔ پانچویں ہاتھیوں کا انتظام۔ چھٹی سامان رسد م بار برداری، طبلچی، سائیس، گھسیارے اور کاری گروں کی دیکھ بھال پر معمول تھا۔
مگھیشنز کے بیان کی تصدیق کسی اور زرائعذرائع سے نہیں ہوتی ہے پھر بھی اس سے اتنا اندازہاندازا ہوجاتا ہے کہ موریا عہد میں فوج کا محکمہ منظم اور مستحکم تھا۔ اشوک نے عدم تشدد کے اصول کو اپنایا اور اس محکمہ کی طرف سے غفلت برتی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ملک فوجی لحاظ سے کمزور ہوگیا اور داخلی انتشار کے ساتھ عرصہ تک بیرونی حملوں کا شکار ہوتا رہا۔
مذہبی تقسیم کے لحاظ سے ملک کی آبادی چار ذاتوں برہمن، کشتری، دیش اور شودر میں بٹی ہوئی تھی حکومت و سیاست اور جنگ و جدل سے متعلق تمام باتیں کشتری کے متعلق تھیں۔ صرف وہی فوجی خدمت کے لائق سمجھے جاتے تھے، مگر غالباً موریاؤں نے اسے نظر انداز کیا فوج کے تمام اعلیٰ اختیارات راجہ کو حاصل تھے۔ وہی سپہ سالاری کا کام بھی انجام دیتا تھا۔ خود خون و کشت میں حصہ لیتا تھا اور سپاہیوں لڑاتا تھا وہ رتھ یا ہاتھی پر سوار ہو کر میدان جنگ میں آتا تھا۔ ارتھ شاستر میں اسے پیچھے رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ دشمنوں کے نرغے سے بچ سکے۔ راجہ کی عدم موجودگی میں سپہ سالار جسے سینہ پتی کہتے تھے فوج کی قیادت کا کام انجام دیتا تھا۔ سینہ پتی بہت با اثرعہدہ تھا۔ عملی طور پر وہی پوری فوج کا قائد تھا۔ راجہ اس پر اپنے کسی عزیز یا خاص معتدی کو اس عہدے پر فائز کرتا تھا۔ اس کے تحت دوسرے بہت سے فوجی سالار تھے جو نایک Nayaka اور دندا نایک Danda Nayakaکہلاتے تھے۔
اپنی ترکیب کے لحاظ سے فوج پیادہ، سوار، جنگی رتھوں اور ہاتھیوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ ہاتھیوں پر زیادہ بھروسہبھروسا کیا جاتا تھا۔ موریہ عہد میں رتھوں کو اہمیت حاصل رہی۔
موریاؤں کے عہد میں جنگی آلات اور اسلحہ کو ترقی دینے کی کوشش نہیں کی۔ وہی نیزہ، بھالا، ڈھال، گزر، خنجر اور تیر کمان تھے ان کے پاس زرہ بکتر اور خود کی کمی تھی۔ ان کے قلعہ شکن آلات ناقص تھے۔
 
عدلیہ کے تمام اعلیٰ اختیارات حکمرانوں کو حاصل تھے۔ وہی ملک کا سب سے بڑا قاضی تھا۔ اس کے فیصلے پر کسی کو نظر ثانی کا حق حاصل نہیں تھا۔ وہ دربار عام میں میں مقدمات کے فیصلے کرتا اور اپنے فیصلے صادر کرتا تھا۔ ان کی فیصلے میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں تھی۔ کیوں کہ وہ خدائی ارادہ کا مظہر نہیں تھی۔ توقع کی جاتی تھی کہ وہ مذہبی آئین و قوانین کے تحت فیصلے کرے گا۔ مگر وہ اس کا پابند نہیں تھا۔ ارتھ شاستر میں اس کے حکم کو تمام قوانین سے بالاتر بتایا ہے۔
راجہ کی عدالت کے بعد صوبوں اور ضلعوں کی عدالتیں تھیں۔ جہاں مہامانز Mahamatsa یعنی حاکم شہر اپارک Uparika یعنی صوبہ دار پرا دیواک Pradvavaka یعنی قاضی اور راجوک یعنی حاکم ضلع مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ عدالتی نظام انتظامیہ علیحدہ نہیں تھا۔ اس لیے اس کے اندر بے انتہا خرابیاں تھیں۔ اکثر تین یا پانچ قاضیوں پر مشتمل ایک مجلس عدلتی فرائض انجام دیتی تھی۔ مگر ایسی مجلسوں میں مقامی سیٹھ Seth اور کائستھ Kaystha ہوتے تھے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس نہیں کرتے تھے عدالتی بد عنوانیوں کے حوالے اور تذکرے ملتے ہیں۔ جن سے ظااہر ہوتا ہے کہ یہ محکمہ ابتدائی حالت میں تھا۔
دیہاتوں میں پنچایت ہی مقدمات کا فیصلہ کرتی تھی، مگر لوگوں کو عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کا حق حاصل تھا۔اشوک کے عہد تک منو سمرتی کی تالیف نہیں ہوئی تھی اور اس وقت تک دھرم سترہ پر عمل کیا جاتا تھا۔ اس میں بھی ذات کی تفریق کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا تھا اور قانون کی نظر میں سب برابر نہیں تھے۔ پھر بھی اس میں شدت نہیں تھی۔ اشوک نے اس تفریق کو پسند نہیں کیا اور اس کے عہد میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی حثیت وہ نہیں رہی جو دھرم شترہ اور دھرم شاستر میں تھی۔ اشوک نے حاکموں کو حکم دیا کہ عدالتی کاروائیکارروائی میں مساوات کو ملحوظ رکھیں۔ اگرچہ اس پر عمل بہت کم ہوتا تھا۔
موریہ دور میں مختلف جرائم کی مختلف سزائیں جن میں جرمانہ، قطع اعضاء، جلاوطنی، جائیدادجائداد کی ضبطی اور قتل کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہلاک کرنے کے مختلف طریقہ رائج تھے۔ مثلاً پھانسی، قتل، پانی میں ڈبو دینا اور جلا دینا۔ مگر اشوک کے دور میں یہ سزئیں برقرار رہیں۔ البتہ اس نے سزائے موت کے مجرموں کو انتی رعایت ضرور دی تھی کہ ان سزا پر تین دن کے بعد عمل کیا جاتا تھا۔
== تعمیرات و سنگ تراشی ==
موریا دور میں تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دور میں کثرت سے عمارتیں بنیں۔ مگر وہ زیادہ تر لکڑی کی تھیں اس لیے امتداد زمانہ سے ناپید ہوگئیں۔ صرف اشوک کی چند عمارتوں کے کھنڈراتکھنڈر باقی رہے گئے ہیں۔ مگر ان تعمیرات کے سلسلے میں دو غیر ملکی سیاحوں مگھستیز اور فاہیان کے بیانات بے حال ملتے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے پاٹلی پٹر بہت ہی بارونق شہر تھا اور یہاں معتدد عالیشان عمارتیں اور قلعے تھے۔ مگھستیز کے بیان کے مطابق یہ شہر نو ۹ میل لمبا اور ڈیرھ میل چوڑا تھا اور اس کے کے گرد لکڑی کی مظبوط فصیل تھی جس میں چونستھ 64 دروازے تھے اور اس کے اوپر پانچ سو ۰۰۵ برج تھے۔ فصیل کے باہر ایک وسیع اور عمیق قندق تھی جس میں دریائے سون کا پانی بھرا ہوا تھا۔ شہر کے اندر چندر گپت موریا کا محل تھا جو لکڑیوں کا بنا ہوا تھا اور بہت عالی شان تھا۔ اس کے ستونوں اور دیواروں پر سونے کا پانی پھرا ہوا تھا اور ان پر سونے کی بیلیں اور چاندی کے پرندے منقوش تھے۔
چینی سیاح فاہیان نے بھی اس شہر کو دیکھا۔ وہ بھی اس کی خوبصوری کا مداح تھا۔ اس کے عہد تک اشوک کا محل قائم تھا۔ وہ اس کے متعلق کہتا ہے کہ شاہی محلات اور ایوان شاہی شہر کے بیچوں بیچ قائم ہیں۔ اس کو ان طاقتوں (غیر بشری) نے تعمیر کرایا جو اشوک کا ملازم تھے۔ انہوں نے ہی اس کو پتھروں سے چنا تھا اور دیواریں اور دروازے کھڑے کئے تھے اور ایسی خوبصورت پچکاری کا کام تھا جو انسانی طاقت سے باہر تھا۔
فاہیان نے ان راہب خانوں اور اسٹوپوں کا بھی ذکر کیا جو اشوک نے اس شہر میں تعمیر کرائے تھے۔