"نووا سکوشیا" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
(clean up, replaced: دیئے ← دیے (2) using AWB)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
 
1497 میں اطالوی مہم جو جان کابوٹ یہاں موجودہ دور کے کیپ بریٹن کا چکر لگا چکا تھا تاہم اس کے لنگر انداز ہونے کی جگہ کے بارے کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ نووا سکوشیا میں پہلی یورپی آبادی 1604 میں قائم ہوئی۔ اسی سال فرانسیسیوں نے پیرے ڈگوا سیور ڈی مونٹس کی قیادت میں اکاڈیا کا پہلا دارلخلافہ پورٹ رائل پر بنایا۔ یہ جگہ اناپولس بیسن کے منبع پر ہے۔ فرانسیسی مچھیروں نے کانسو میں اسی سال اپنی آبادی قائم کی۔
1620 میں پلائی ماؤتھ کونسل فار نیو انگلینڈ نے کنگ جیمز اول برائے انگلینڈ اور ششم آف سکاٹس نے یہ اعلا ن کیا کہ اکاڈیا کا سارا ساحل اور بحر اوقیانوس کی کالونیاں جو چیساپیک بے کے جنوب میں تھیں، سب کی سب نیو انگلینڈ ہیں۔ سکاٹش لوگوں کی پہلی آبادی کا تحریری ثبوت یہ بتاتا ہے کہ یہ لوگ یہاں 1621 میں براعظم شمالی امریکہ میں آباد ہوئے۔ 29 ستمبر 1621 کو کالونی کا چارٹر آف فاؤنڈیشن جیمز چہارم نے ویلم الیگزینڈر جو کہ پہلے ارل آف سٹرلنگ تھے، کو پیش کیا۔ 1622 میں اولین آبادکار سکاٹ لینڈ سے روانہ ہوئے۔ ہنر مند افراد کی کمی کے باعث یہ آبادکاری ناکام ہو گئی اور 1624 میں جیمز چہارم نے ایک اور نیا اعلان جاری کیا۔ اس اعلان کی منظوری کے لئے ولیم الیگزیندر کی خدمت میں یا تو چھ پوری طرح سے مسلح اور تندرست و توانا مزدور پیش کئے جاتے یا پھر تین سو مرک کی ادائیگی کافی رہتی۔ چھ ماہ تک کسی نے بھی جیمز کی پیش کش کو قبول نہیں کیا حتٰی کہ جیمز کو خود سے لوگوں کو جانے پر مجبور کرنا پڑا۔
 
1627 میں لوگوں کی دلچسپی مزید بڑھ گئی اور زیادہ لوگ نووا سکوشیا جانے کے لئے تیار ہونے لگے۔ تاہم 1627 میں فرانس اور انگلینڈ کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ فرانسیسیوں نے دوبارہ سے پورٹ رائل پر اپنی آبادی دوبارہ قائم کی۔ بعد ازاں اسی سال سکاٹش اور انگریز فوج نے اکٹھا ہو کر فرانسیسی آبادی کو تہس نہس کر دیا اور انہیں نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ 1629 میں پورٹ رائل پر پہلی سکاٹش آبادی قائم ہوئی۔ کالونی کے چارٹر نے قانونی طور پر نووا سکوشیا کو سکاٹ لینڈ کے مین لینڈ کا حصہ قرار دیا۔ تاہم 1631 میں کنگ چارلس اول کے ماتحت سوزا کی ٹریٹی ہوئی جس نے نووا سکوشیا کو واپس فرانس کے حوالے کر دیا۔ سکاٹش لوگوں کو چارلس نے کالونی مستحکم ہونے سے قبل ہی اسے خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ فرانسیسیوں نے میکماق اور دیگر قبائل کے علاقوں کا قبضہ سنبھال لیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ کالونی کی حدود بدلتی رہیں۔ نووا سکوشیا کو 1754 میں سپریم کورٹ ملی جس کے لئے جوناتھن بیلچر کو تعنیات کیا گیا۔ 1758 میں اپنی قانون ساز اسمبلی بھی دی گئی۔ 1763 میں کیپ بریٹن آئی لینڈ نووا سکوشیا کا حصہ بن گیا۔ 1769 میں سینٹ جانز آئی لینڈ جو موجودہ دور کا پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ہے، الگ کالونی بن گیا۔ سن بری کی کاؤنٹی کو 1765 میں بنایا گیا اور اس میں موجودہ دور کی تمام نیو برنزوک اور مشرقی مین پینوبسکاٹ دریا تک بھی اس کا حصہ بنائی گئیں۔ 1784 میں کالونی کا مغربی بڑا حصہ الگ کر کے اسے نیو برنزوک کا صوبہ بنا دیا گیا۔ مین والا حصہ نئی امریکی ریاست میسا چوسٹس کو ملا۔ کیپ بریٹین کو 1784 میں الگ کالونی بنایا گیا تاکہ اسے نووا سکوشیا کو 1820 میں واپس کیا جا سکے۔
 
نصف سے زیادہ نوواکوشین لوگوں کے آباؤ اجداد یہاں اکاڈین لوگوں کے انخلاٗ کے دوران آئے۔ 1759 سے 1768 تک 8000 کاشتکاروں نے گورنر چارلس لارنس کی یہاں آباد ہونے کی درخواست کو قبول کیا۔ کئی سال بعد امریکہ کے ہاتھوں برطانیہ کی شکست کے بعد تیس ہزار ٹوری یعنی برطانوی وفادار امریکہ سے ہجرت کر کے ادھر آباد ہوئے۔ ان دنوں نووا سکوشیا کینیڈا کے میری ٹائم علاقوں پر مشتمل تھا۔ ان میں سے چودہ ہزار نیو برنزوک گئے اور سولہ ہزار موجودہ دور کی نووا سکوشیا کو اپنا نیا گھر بنانے میں لگ گئے۔ ان میں سے تین ہزار افراد سیاہ فام بھی تھے جن میں سے ایک تہائی جلد ہی 1792 میں سیرالیون چلے گئے۔ یہ لوگ فری ٹاؤن کے اصل آباد کار بن گئے۔ ان لوگوں کی روانگی کمیٹی فار ریلیف آف دی بلیک پوور کے تحت ہوئی۔ ہائی لینڈ سکاٹس جو گیلک بولتے تھے، کیپ بریٹن اور دیگر مغربی حصوں میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے دوران ہجرت کر کے آئے ۔ ان میں سے ایک ہزار افراد السٹر سکاٹ تھے جو وسطی نووا سکوشیا میں آباد ہوئے اور ہزار سے زیادہ کسان مہاجرین جو کہ یارکشائر اور نارتھمبر لینڈ سے 1772 اور 1775 کے دوران یہاں آئے۔
 
نووا سکوشیا برطانوی شمالی امریکہ اور برطانوی سلطنت کی پہلی نو آبادی تھی جسے خود مختار حکومت جنوری فروری 1848 میں دی گئی۔ اسے یہ درجہ جوزف ہوئے کی کوششوں سے ملا۔ 1867 میں الحاق کے حامی پریمئر چارلس ٹپر نے نووا سکوشیا اور نیو برنزوک کو کینیڈا کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پچھلے انتخابات 13 جون 2006 کو ہوئے تھے جن میں پروگریسو کنزرویٹو کو 23، نیو ڈیمو کریٹ کو 20 اور لبرل کو 9 نشستیں ملیں۔
 
نووا سکوشیا میں اب کوئی بھی ان کارپوریٹڈ شہر نہیں، انہیں 1996 میں ریجنل میونسپلٹی بنا دیا گیا ہے۔ ہیلی فیکس جو کہ صوبائی دارلخلافہ ہے، اب ہیلی فیکس ریجنل میونسپلٹی بن گیا ہے اسی طرح صوبے کا دوسرا بڑا شہر ڈار ماؤتھ ہے۔ سڈنی کا پرانا شہر اب کیپ بریٹن ریجنل میونسپلٹی کا حصہ ہے۔
 
2004 میں ہاؤس آف اسمبلی نے ایک قرار داد کی منظوری دی تاکہ ٹرکس اینڈ کایکوس کے کیریبئن جزائر اگر کینیڈا سے الحاق کرنے کے خواہش مند ہوں تو انہیں قبول کیا جا سکے۔