"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
== عدالت و قوانین ==
عدلیہ کے تمام اعلیٰ اختیارات حکمرانوں کو حاصل تھے۔ وہی ملک کا سب سے بڑا قاضی تھا۔ اس کے فیصلے پر کسی کو نظر ثانی کا حق حاصل نہیں تھا۔ وہ دربار عام میں میں مقدمات کے فیصلے کرتا اور اپنے فیصلے صادر کرتا تھا۔ ان کی فیصلے میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں تھی۔ کیوں کہ وہ خدائی ارادہ کا مظہر نہیں تھی۔ توقع کی جاتی تھی کہ وہ مذہبی آئین و قوانین کے تحت فیصلے کرے گا۔ مگر وہ اس کا پابند نہیں تھا۔ ارتھ شاستر میں اس کے حکم کو تمام قوانین سے بالاتر بتایا ہے۔
راجہ کی عدالت کے بعد صوبوں اور ضلعوں کی عدالتیں تھیں۔ جہاں مہامانز Mahamatsa یعنی حاکم شہر اپارک Uparika یعنی صوبہ دار پرا دیواک Pradvavaka یعنی قاضی اور راجوک یعنی حاکم ضلع مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ عدالتی نظام انتظامیہ علیحدہعلاحدہ نہیں تھا۔ اس لیے اس کے اندر بے انتہا خرابیاں تھیں۔ اکثر تین یا پانچ قاضیوں پر مشتمل ایک مجلس عدلتی فرائض انجام دیتی تھی۔ مگر ایسی مجلسوں میں مقامی سیٹھ Seth اور کائستھ Kaystha ہوتے تھے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس نہیں کرتے تھے عدالتی بد عنوانیوں کے حوالے اور تذکرے ملتے ہیں۔ جن سے ظااہر ہوتا ہے کہ یہ محکمہ ابتدائی حالت میں تھا۔
دیہاتوں میں پنچایت ہی مقدمات کا فیصلہ کرتی تھی، مگر لوگوں کو عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کا حق حاصل تھا۔اشوک کے عہد تک منو سمرتی کی تالیف نہیں ہوئی تھی اور اس وقت تک دھرم سترہ پر عمل کیا جاتا تھا۔ اس میں بھی ذات کی تفریق کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا تھا اور قانون کی نظر میں سب برابر نہیں تھے۔ پھر بھی اس میں شدت نہیں تھی۔ اشوک نے اس تفریق کو پسند نہیں کیا اور اس کے عہد میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی حثیت وہ نہیں رہی جو دھرم شترہ اور دھرم شاستر میں تھی۔ اشوک نے حاکموں کو حکم دیا کہ عدالتی کارروائی میں مساوات کو ملحوظ رکھیں۔ اگرچہ اس پر عمل بہت کم ہوتا تھا۔
موریہ دور میں مختلف جرائم کی مختلف سزائیں جن میں جرمانہ، قطع اعضاء، جلاوطنی، جائداد کی ضبطی اور قتل کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہلاک کرنے کے مختلف طریقہ رائج تھے۔ مثلاً پھانسی، قتل، پانی میں ڈبو دینا اور جلا دینا۔ مگر اشوک کے دور میں یہ سزئیں برقرار رہیں۔ البتہ اس نے سزائے موت کے مجرموں کو انتی رعایت ضرور دی تھی کہ ان سزا پر تین دن کے بعد عمل کیا جاتا تھا۔