"نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ" کے نسخوں کے درمیان فرق

اضافہ
(اضافہ)
(اضافہ)
 
ای پاٹھ شالا کے نام سے ایک آن لائن نظام بھی قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد تعلیمی وسائل مثلاً درسی کتابوں، آڈیو، ویڈیو اور دیگر مطبوعہ اور غیر مطبوعہ مواد کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہے۔ اس مواد تک موبائل فون اور ٹیبلیٹ (ای پب شکل میں) اور کمپیوٹر (فلپ بک کی شکل میں) سے مفت رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
 
== تنازعات ==
کونسل کو آغاز ہی سے مختلف تنازعات کا سامنا رہا ہے جو آج تک جاری ہیں۔ عموماً تنازع اس بات کا رہا ہے کہ کونسل کی جانب سے ہندوستان کی تاریخ سازی کی جاری رہے اور اسے "زعفرانی رنگ" (یعنی اسباق کو [[ہندوتو]] کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے) دیا جا رہا ہے۔ خصوصاً ہندو قوم پرست ایجنڈا کے تحت کونسل کے کام پر دو بار تنازع پیدا ہوا: پہلی بار 1977ء سے 1980ء تک زیر اقتدار [[جنتا پارٹی]] کی حکومت کے تحت اور دوسری بار 1998ء سے 2004ء تک زیر اقتدار [[بھارتیہ جنتا پارٹی]] کے دور میں۔ سنہ 2012ء میں اس ادارے پر آئین ہند کے ایک معمار [[بھیمراو رامجی آمبیڈکر|ڈاکٹر امبیڈکر]] کے خلاف اپنی درسی کتابوں میں جارحانہ کارٹون شائع کرنے کا الزام لگا اور اسے آئین ہند کی بے حرمتی تصور کیا گیا۔ اس تنازع کے نتیجے میں این سی ای آر ٹی کے مشیران اعلیٰ یوگیندر یادو اور سہاس پالشیکر کو مستعفی اور حکومت سے معذرت طلب کرنی پڑی۔
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}