"سب رس" کے نسخوں کے درمیان فرق

6 بائٹ کا ازالہ ،  5 سال پہلے
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
== سنگ میل ==
 
سب رس اردو نثر کا سب سے ممتاز اور ترقی یافتہ شاہکارہے۔ اس میں اسلوب بیان نے ایک خاص انگڑائی لی ہے اور زندگی کی آنکھ کھولی ہے۔ سب رس سے پہلے جو نمونے اردو نثر میں ملتے ہیں ۔ اسے اردو نثر کا دور بدویت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس دور میں وہ انداز بیان تھا جس میں لہجے کا دیہاتی پن، کہنے کا سادہ بے تکلف اور درست انداز اور آرائش کی ہر کوشش سے آزاد تھا ۔جتنے لوگوں نے اس زمانے میں لکھا، مذہبی مسائل پر لکھا اور ان کے مخاطب عوام تھے جن تک بات پہنچانا مقصود تھا۔ اس لیے سادگی ، سلاست و راست بیانی کے علاوہ شیرازہ بندی اور فقروں کی ساخت سے بے پروائی کا رویہ عام تھا۔ مگر ”سب رس“ اردو نثر کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس میں اس بات کی کوشش نظر آتی ہے کہ مصنف مصنف اپنی بات کو موثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
 
== اسلوب ==
== اردو کے نقوش ==
 
”سب رس “ کی زبان کو اس کا مصنف ہندی زبان کے نام سے یاد کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس زمانے میں ہندی زبان (شمالی ہند کی زبان، کا دکن والوں پر اتنا اثر پڑ چکا تھا کہ دکن کا مصنف اس زبان کو گجری ، گجراتی یا دکنی زبان کہنے کی بنائےکہنےکےبجائے ہندی زبان کہتا ہے۔ بظاہر تو یہ معمولی بات ہے لیکن دراصل یہ اس حقیقت کی داعی ہے کہ ”اردویت “ نے سب سے پہلے نمایاں طور پر اس کتاب کے زمانے میں اور اس کے زیر اثر ہی دکن میں زور پکڑا۔ شمالی ہندمیںمغلوںہندمیں مغلوں سے پہلے کے سلاطین کے دور میں جو زبان رائج تھی ۔ اس میں عربی فارسی کے الفاظ تو مل جاتے ہیں لیکن اس کا نقش مسلمانی نہیں ہے اور اردو زبان کی روح اور سپرٹاسپرٹ مسلمانی ہے۔ وجہی نے اپنے زمانہ کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس کا اس کو احساس بھی تھا۔ وہ خود لکھتا ہے:
 
” آج لگن کوئی اس جہاں میں ہندوستان میں ہندی زبان سوں اس لطافت اور اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گھلا کر نہیں بولیا۔“
== سب رس کی زبان ==
 
سب رس کی زبان تقریبا چار سو سال پرانی اور وہ بھی دکن کی ہے۔ اس میں بہت سے الفاظ ایسے بھی ہیں جو اب بالکل متروک ہیںاورہیں اور خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اوربولتے۔ اس پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ و محاورات آجکل سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وجہی نے اپنے زمانے کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس بات کا خود اسے بھی احساس تھا۔ وجہی نے عربی فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ چارسو سال قبل بھی بالکل اسی طرح استعمال کیے جس طرح آجکل ہو رہے ہیں۔
 
شان نہ گمان، خالہ کا گھر ، کہاں گنگا تیلی کہاں راجہ بھوج، شرم حضوری ، اور دیکھا دیکھی ، گھر کا بھیدی تے لنکا جائے، دھو کا جلیا چھاچھ پھونک پیتا وغیرہ وغیرہ
== لسانی اہمیت ==
 
”سب رس“ اور وجہی کے معاصرین کے ذریعے ہماری اردو نے جڑ پکڑی۔ سب رس کا لسانی دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھاشا ، گوالیاری ، راجستھانی اور دوسری زبانوں کے محاورے ، ضرب الامثال اور اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ وجہی نے شمالی ہند اور جنوبی ہند کی زبانوں کی خلیج مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میر تقی میر نے دکنی زبانوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا اور اسے ”نثر بے رتبہ “ کہہ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن ”سب رس“ کی لسانی حیثیت مسلمہمسلم ہے۔ اس نے باب مراتب اور فرق مراتب ختم کرکے ایک نئی زبان دی ہے۔ وجہی کی نثر کو اگر آج بھی غور سے پڑھا جائے توہم تقریباً تمام کی تمام زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
 
== کردار نگاری ==
== معاشرت کی عکاسی ==
 
”سب رس “ میں جابجا اس زمانے کی معاشرت او ر تہذیبی و تمدنی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اس زمانے کے طرز و بود باش ، خوراک ، لباس، وضع قطع، ظروف ، زیورات ، حکومت و حکمت ،تجارت و معیشت غرض کہ ہر پہلو سے اس زمانے کی معاشرتی زندگی کے آثار کی تصویر نظر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ایک زندہ معاشرے کا ایک نکتہ دان ادیب ہے جس نے اپنے عہد کی معارتیمعاشرتی زندگی کو بڑی گہری نظر سے دیکھا ہے اور اس کے خدوخال کو بڑی چابکدستی سے احاطہ تحریر میں لایا ہے۔”سب رس“ اگرچہ ایک تمثیل ہے مگر اس کے مطالعے سے اس عہد کی معاشرتی زندگی، افکار اور رجحانات کی ایک مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔
 
== سیاسی حالات ==
 
وجہی عبداللہ قلی قطب شاہ کا درباری شاعر اور ادیب ہے ۔ وہ دربا ر سے وابستہ تھا اور اس سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ اس لیے اس کی نظر درباری معاملات پر بڑی گہری ہے۔ وہ قدیم ایشائی حکومتوں کے رنگ ڈھنگ اور ان کی سیاسی حکمت عملی سے خوب آگاہ ہے۔ وہ ان قدیم مطلق العنان حکومتوں کے درباروں میں ہر قسم کی سیاسیسازشوںسیاسی سازشوں اور جوڑ توڑ سے واقف ہے یہی وجہ ہے کہ جب قصے میں کبھی دربار سجتا یا سیاسی مسائل پید ا ہوتے ہیں تو وجہی کا قلم اس تمثیل کی آڑ میں اپنے دربارکی تمام تر سیاسی حکمت عملیوں کا ذکر کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ وہ شہزادے کے عام اخلاقی رویوں کا ذکر بھی کرتا ہے اور شہزادی کی شراب نوشی کا جواز بھی تلاش کرتا ہے۔ وہ دربار سرکار کے معاملات سے خوب واقف ہے ۔ اس واقفیت سے اس نے اپنی کتاب میں خوب کام لیا ہے۔
 
== صوفیانہ خیالات، اخلاقی تعلیمات ==
 
وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات ، موضوعات ، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی عالم دین صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوئوںپہلوؤں کی برائی کی ہے۔
 
== وجہی پہلا انشائیہ نگار ==
== مجموعی جائزہ ==
 
زبانیں مقام عروج تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لیتی ہیں۔ ارد واردو نثر نے تو بہت تیزی سے ارتقائی مسافتوں کو قطعطے کیا۔کیا ہے۔ الغرض اس طویل ارتقائی سفر کا نقطہ آغاز”سب رس“ ہے ۔اردو نثر کا خوش رنگ او ر خوش آہنگ نقشہ او ر ہیئت جو آج ہمیں نظر آرہیآرہا ہے اس میں ابتدائی رنگ بھرنے کا اعزاز وجہی کو حاصل ہے اور اردو کی نثری ادب میں ”سب رس “ کا درجہ نہایت بلند و بالا اور وقیع ہے۔ ”سب رس “ اگرچہ اولین کوشش ہے مگر بہترین کوشش ہے۔
 
[[زمرہ:اسالیب نثر]]
گمنام صارف