"عبد العزیز الحلوانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
(ٹیگ: القاب)
'''ابو محمدعبد العزیز حلوانی''' (المتوفیٰ [[456ھ]]= [[1056ء]])<br />
== نام ==
پورا نام عبد العزيز بن احمد بن نصر بن صالح الحلوانی البخاری ہے۔ہے شمس الائمہ لقب تھا،۔<br />
کنیت ابو محمد، لقب [[شمس الائمہ]] ہے۔ فقہ حنفی کے بہت بڑے فقیہ حلوانی حلوا فروخت کرنے کی طرف نسبت ہے اور بعض اوقات [[حلوائی]] کہا جاتا ہے۔ [[بخارا]] میں اپنے وقت کے حنفیہ کے امام تھے۔ کش میں انتقال ہوا اور [[بخارا]] میں تدفین ہوئی ۔<br />
== حلوانی کی نسبت ==
کنیت ابو محمد، لقب [[شمس الائمہ]] ہے۔ فقہ حنفی کے بہت بڑے فقیہ حلوانی حلوا فروخت کرنے کی طرف نسبت ہے اور بعض اوقات [[حلوائی]] کہا جاتا ہے۔ [[بخارا]] میں اپنے وقت کے حنفیہ کے امام تھے۔ کش میں انتقال ہوا اور [[بخارا]] میں تدفین ہوئی ۔<br />
ان کے والد بہت مفلس اورتنگدست تھے اور مٹھائی بنا کر بیچا کرتے تھے ان کی عادت تھی کہ اکثر وبیشتر فقہاء کرام کو مٹھائیاں وغیرہ بھیجتے رہتے تھے اوران سے عرض کرتے کہ بس میرے بیٹے کیلئے دعا فرمایا کریں۔ ان کی سخاوت ، حسن عقید ت اورگریہ وزاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بیٹے نے علم کے اعلیٰ مدارج کو طے کیا اوروہ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم ثابت ہوئے جو شمس الائمہ حلوانی کہلائے<ref>راہِ علم مؤلف: شیخ الاسلام ابراہیم زرنوجی،صفحہ73</ref>
علامہ ذہبی، سیراعلام النبلاء میں امام حلوانی کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ان سے [[امام سرخسی|شمس الائمہ سرخسی]]، فخرالاسلام بزدوی اور ان کے بھائی صدرالاسلام[[صدر الاسلام]] نے علم حاصل کیا <ref>سیراعلام النبلا</ref>
== علمی مقام ==
 
ابن کمال پاشا نے آپ کو مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے۔فقہ آپ نے حسین ابی علی نسفی شاگردی ابی بکر محمد بن فضل تلمیذ عبداللہ سبذ مونیس ے حاصل کی اور حدیث کو ابی شعیب صالح بن محمد بن صالح بن شعیب اور مجازی اور ابی سہل احمد بن محمد بن مکی الانماطی اور ابا اسحٰق رازی اور اسمٰعیل بن محمد زاہد اور عبداللہ بن محمد کلا باذی اور عبداللہ بن حسین کتاب اور حافظ محمد بن احمد غنجا رو غیرہ سے سنا اور روایت کیا اور امام طحطاوی کی شرح معانی الآثار کو ابی بکر محمد بن عمر بن حمدان سے روایت کیا اور آپ سے شمسل لائمہ بکر زنجری اور محمد بن علی والد شمس الائمہ بکر زنجری اور شمس الائمہ محمد سرخسی اور ابی بکرمحمد بن حسین اور فخر الاسلام علی بن محمد بن حسین بزدوی اور ان کے بھائی صدر الاسلام ابو الیسر محمد بن محمد اور قاضی جمال الدین ابو نصر احمد بن عبد الرحمٰن وغیرہ نے تفقہ اور روایت کیا،حافظ الحدیث ابو محمد عبد العزیز بن محمد نخشبی اپنی معجم شیوخ میں آپ کو اپنے شیوخ میں بیان کر کے کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے آپ کی تمام امالی سنی ہیں۔
== تصنیفات==
ان کی تصنیفات یہ ہیں؛
* الفتاوى فی الفروع
* شرح ادب القاضی امام ابو يوسف<ref>موسوعہ فقہیہ ،جلد اول صفحہ 457، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا</ref>
== وفات ==
 
آخری عمر میں آپ بخدا سے شہر کش میں تشریف لے گئے اور وہیں ماہ شعبان 448ھ یا 458ھ میں وفات پائی اور آپ کی نعش کو بخارا میں لاکر قبرستان کلاباذ میں دفن کردیا گیا جواب زیارت گاہ و خاص ہے،
==حوالہ جات==
{{حوالہ جات}}