مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

م
افریقہ + خودکار درستی املا using AWB
# اُردو زبان کے دفاع کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور ہر اُس عملی جہد کا حصہ بنے جو اُردو کی بقاءکے لیے ناگزیر تھی۔
 
[[قیام پاکستان]] کے بعد مولانا صلاح الدین احمدکی خدماتِ اُردو کا زاویہ تبدیل ہو گیا اور انہوں نے حالات کے نئے تناظرکی روشنی میں ایک الگ لائحہ عمل اختیار کیا۔ [[قیام پاکستان]] کے بعد یہ ایک حقیقت تھی کہ یہ زبان [[پاکستان]] کے باشندوں کی زبان بن کر رہ گئی۔ ایسا نہیں کہ اب [[بھارت]] میں اِس کی تہذیبی شناخت ختم ہو گئی بلکہ سیاست نے کچھ ایسا زاویہ اختیار کیا کہ وہاں کی حکومت نے اپنی پالیسیوں کی روشنی میں ہندی کو باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا اور ذرائع ابلاغ و تعلیم میں [[ہندی زبان|ہندی]] کی برتری قائم کر دی۔ یہی وہ دُکھ تھا جس سے مولانا صلاح الدین احمد مغلوب ہو گئے لیکن اب یہ قضا کا فیصلہ تھا جسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اُن کے خیال میں [[تقسیم ہند]] کے بعد اُردو کی عالمگیر حیثیت ختم ہو چکی ہے اور وہ زبان جو نہ صرف برعظیم ہند، [[ایشیا]]، [[یورپ]] اور [[افریقہافریقا]] کی ہر بندرگاہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی، اب ایک چھوٹے سے ملک بلکہ اُس کے ایک حصے کی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔اِسی لیے انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ یہ زبان جس عجیب دوراہے پر کھڑی ہے، اِس میں سے پھوٹنے والا ایک رستہ چند ہی قدم پر ایک مہیب چٹان کے کنارے پہنچ کر ختم ہو جاتاہے اور دوسرا خم کھا کر دُور سے نظر آنے والے ایک جنگل کی طرف چلا جاتا ہے ، جہاں ایک غیریقینی مستقبل کا دُھندلکا چھا رہا ہے۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
مولانا صلاح الدین احمد کی تمام تر زندگی اُردو کے تحفظ، فروغ، دفاع اور نفاذ کی کوششوں میں گزری۔ یہ کوششیں ایک ایسی زبان کے لیے تھیں جو ایک عظیم تہذیب کی ترجمان اور امانت دار تھی مگر جس ہوائے مخالف کو ورثے میں پایا اور تاحال اِس تندئ بادِ مخالف کا سامناکر رہی ہے، غنیمت نہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے شعبۂ اُردو کے لیے ایک مضبوط بادبان کا کام کیا ورنہ تو اِس کے دُشمنوں ہی نے نہیں بعض نادان دوستوں نے بھی اِ س کے ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
 
[[زمرہ:1964ء کی وفیات]]
[[زمرہ:1902ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:پاکستانی مسلم شخصیات]]
 
[[زمرہ:پاکستانی کالم نگار]]
[[زمرہ:اردو کالم نگار]]
[[زمرہ:پاکستانی مترجمین]]
[[زمرہ:اردو صحافی]]
[[زمرہ: لاہور کے صحافی ]]
[[زمرہ: پاکستانی جریدہ مدیران]]
[[زمرہ:ماہرین اقبالیات]]
86,971

ترامیم