"کے جی بی" کے نسخوں کے درمیان فرق

حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
نیا صفحہ: کے جی بی (KGB) دراصل Комите́т Госуда́рственной Безопа́сности (یعنی: کومیتیت گوسودارستوینوی بیزوپاسن...
(کوئی فرق نہیں)

نسخہ بمطابق 11:29، 14 اکتوبر 2009ء

کے جی بی (KGB) دراصل Комите́т Госуда́рственной Безопа́сности (یعنی: کومیتیت گوسودارستوینوی بیزوپاسنوستی) کا مخفف ہے، یہ سابقہ سوویت یونین کی انٹیلی جینس ایجنسی یا جاسوسی کا ادارہ ہے جسے 20 دسمبر 1917ء کو فلیکس ڈزرزہینسکی (Felix Dzerzhinsky) کی قیادت اور صدر ولادیمیر لینن کی سرپرستی میں قائم کیا گیا تھا، اپنے قیام سے ہی اسے بلشفی انقلاب (Bolshevik Revolution) یا انقلابِ اکتوبر اور کمیونسٹ پارٹی کی تلوار سمجھا جاتا رہا ہے، اپنے ابتدائی دور میں ہی کے جی بی نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں، جب مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ اور امریکہ نسبتاً سکون کی حالت کے مزے لوٹ رہے تھے، کے جی بی نے اس کا فائدہ اٹھایا اور نہ صرف ان ممالک کے حکومتی اداروں میں بلکہ عسکری اداروں میں بھی اپنے ایجنٹ شامل کردئے، کے جی بی نے مین ہٹن پراجیکٹ جس سے امریکہ کو ایٹم بم حاصل ہوا، سے ایٹم بم کے راز چوری کر لئے تھے جو شاید کے جی بی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے، سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کو ”ایک پارٹی ملک” کے طور پر قائم رکھنے میں کے جی بی نے بڑا اہم کردار ادا کیا اور کمیونسٹ پارٹی کی ہر مخالف سیاسی فکر کی قلع قمع کی، یورپ اور امریکہ میں کے جی بی کا نیٹ ورک اتنا بڑا اور اس قدر فعال تھا کہ وہ ہر جدید ٹیکنالوجی کو فوراً ہی سوویت یونین منتقل کردیتے تھے.

اہم کامیابیاں

سرد جنگ سے پہلے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی نسبت امریکہ کے جی بی کے لئے اتنا زیادہ اہم ہدف نہیں تھا چنانچہ امریکہ میں کے جی بی کا نیٹ ورک بڑی سست روی سے بڑھا، مگر سرد جنگ کے شروع ہونے کے بعد یہ سب تبدیل ہوگیا اور کے جی بی نے امریکہ میں اپنا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کر لیا، اور جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ کے جی بی کی سب سے بڑی کامیابی امریکہ کے ایٹم بم کا فارمولا حاصل کرنا تھا جس نے ایٹم بم کے بل پر ساری دنیا کو ڈرایا ہوا تھا چنانچہ سوویت یونین بھی ایٹم بم بنا کر امریکہ کے برابر آکھڑا ہوا اور مہاہدوں کے ذریعہ امریکہ کو اس کے استعمال سے باز رکھا، ایٹم بم کے علاوہ کے جی بی کے ایجنٹوں نے کئی اہم ایجادات کے راز اور فارمولے سوویت یونین منتقل کئے جیسے جیٹ انجن، ریڈار، انکرپشن کے طریقے اور دیگر، کے جی بی کی ان پے در پے کامیابیوں کی وجہ سے پورے امریکہ میں سوویت ایجنٹوں سے ڈر کی ایک لہر دوڑ گئی جسے اس وقت ”سرخ ڈر” (Red Scare) کا نام دیا گیا، سینیٹر جوزف مکیرتھی (Joseph McCarthy) کی سربراہی میں کے جی بی کے خلاف کئی مہمیں بھی چلائی گئیں (جو بعد میں مکیرتھزم McCarthyism کے نام سے جانی گئیں) اور ہر اس شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جو کمیونزم کے لیے ذرا سا بھی نرم گوشہ رکھتا ہو، یہ مہمیں شمولی (totalitarian) ممالک کی غسل دماغی یا برین واش مہموں سے مشابہ تھیں چنانچہ امریکی اس سے کافی خوفزدہ ہوگئے کیونکہ وہ اس کے عادی نہیں تھے، ان مہموں سے کے جی بی امریکہ میں کافی حد تک متزلزل ہوا، برطانیہ میں کے جی بی خود برطانوی انٹیلی جینس میں اپنے جاسوس شامل کرنے میں کامیاب رہا حتی کہ برطانوی انٹیلی جینس میں کے جی بی کی روک تھام کے شعبے کا سربراہ بھی کے جی بی کا ایجنٹ تھا !! اس طرح کے جی بی کے ایجنٹ برطانیہ کے عسکری، سیاسی اور علمی راز سوویت منتقل کرتے رہے، کے جی بی کا کام دوسرے ممالک کی جاسوسی کرنا ہی نہیں تھا بلکہ اس کے ایجنٹ سوویت یونین کی عمومی زندگی پر بھی نظر رکھتے تھے اور حکومت مخالف ہر آواز کو کچلنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل تھا.

کے جی بی کا خاتمہ

1991ء میں کے جی بی کا سربراہ ولادیمیر کریوچکوو (Vladimir Aleksandrovich Kryuchkov) صدر میخائیل گورباچوو کی قتل کی سازش میں ملوث پایا گیا چنانچہ 23 اگست 1991ء میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس کی جگہ جنرل ویڈم بکٹین (Vadim Viktorovich Bakatin) کو کے جی بی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا اور اسے کے جی بی کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس طرح کے جی بی کے کردار کی ایک ایسی دنیا میں ضرورت باقی نہ رہی جس میں کوئی سوویت اتحاد باقی نہیں رہا تھا، چنانچہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد 11 اکتوبر 1991ء میں کے جی بی کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا.