"پانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

75 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
←‏پانی کی نئی خاصیت: درستی املا، اضافہ سانچہ/سانچہ جات
(←‏پانی کی نئی خاصیت: درستی املا، اضافہ سانچہ/سانچہ جات)
 
 
=== پانی کی نئی خاصیت ===
{{حوالہ دیں (قطعہ)|}}
حیات کے لیے کلیدی اہمیت رکھنے والا یہ مرکب منفرد خواص کا حامل ہے اور سائنس داں اس پر مسلسل تحقیق کررہے ہیں- سائنس داں 40 سے 60 ڈگری سیلسیئس درجۂ حرارت پر پانی کے طبعی خواص پر تحقیق کررہے تھے۔ انھیں پتا چلا کہ اس درجۂ حرارت پر پانی، مایعمائع کی دو حالتوں کے درمیان میں ڈولنے لگتا ہے۔
اب ماہرینِ طبیعیات نے اس کی ایک نئی خاصیت دریافت کی ہے۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی کی لارا میسٹرو کی سربراہی میں ماہرین طبیعیات پر مشتمل ٹیم نے پانی کی اس خصوصیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ 40 سے 60 ڈگری سیلسیئس درجۂ حرارت کے درمیان میں پانی اپنی حالت بدل سکتا ہے۔ اس خاصیت تک پہنچنے کے لیے سائنس دانوں کی ٹیم نے پانی کے مخصوص خواص جیسے حر ایصالیت(Thermal conductivity)، اشاریہ انعطاف، ایصالیت، سطحی تناؤ، اور برق گزاری مستقل کے ساتھ اس بات پر غور کیا کہ صفر سے سو درجے کے درمیان میں درجۂ حرارت کی تبدیلیوں پر درج بالا خصوصیات کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
سائنس دانوں نے دیکھا کہ 40 ڈگری سیلسیئس پر تغیرات رونما ہونے لگے، اور 60 ڈگری تک پہنچتے پہنچتے یہ تمام خصوصیات بدل گئیں۔ اس حد کے درمیان میں ہر خصوصیت نے ایک مختلف ’ عبوری درجۂ حرارت‘ حاصل کرلیا تھا۔ محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ پانی نے مایعمائع سے الگ ایک مختلف حالت اختیار کرلی تھی۔
سائنس دانوں نے یہ عبوری درجۂ حرارت نوٹ کر لیے جو کچھ اس طرح تھے: حرِ ایصالیت کے لیے 64 ڈگری سیلسیئس، انعطاف اشاریہ کے لیے 50 ڈگری سیلسیئس، ایصالیت کے لیے 53 اور سطحی تناؤ کے لیے 57 ڈگری سیلسیئس۔
عبوری درجۂ حرارت کی اس فہرست سے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا،’’ سو تا صفر ڈگری سیلسیئس کے درمیان میں پانی مایعمائع حالت میں اپنے بیش تر خواص کے لیے عبوری درجۂ حرارت پیش کرتا ہے جو 50 ڈگری سیلسیئس کے لگ بھگ ہوتا ہے۔‘‘
اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے، لیکن اس حقیقت کا تعلق کہ مخصوص درجۂ حرارت پر پانی مایعمائع کی دو یکسر مختلف حالتوں کے درمیان میں ڈولتا ہے، پانی کی عمومی غیرمعمولی خصوصیات سے جوڑا جاسکتا ہے۔
 
== مزید دیکھئے: ==