"بہار شریعت" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,122 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
←‏= زمانہ تصنیف: اضافہ مواد (ترمیم بذریعہ مستند حوالہ)
م (روبالہ مساوی زمرہ جات (22): + 5 زمرہ)
(←‏= زمانہ تصنیف: اضافہ مواد (ترمیم بذریعہ مستند حوالہ))
(ٹیگ: القاب)
'''بہار شریعت'''، [[مولانا محمد امجد علی اعظمی]] کی وہ کتاب جو دوسرے مصنفین کی جملہ تصانیف پر بھاری ہے۔ یہ ان کی معرکہ آرا تصنیف ”بہار شریعت“ ہے اس کتاب کے سبب وہ زندہ جاوید ہوئے اس کتاب میں انہوں نے فقہ حنفی کو اردو قالب میں ڈھال کر وقت کی اہم ضرورت کو پورا کیا ہے اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں علماءعوام دونوں شامل ہیں مصنف فقہ اسلامی اور مسائل شرعیہ کو مکمل طور پر بیس جلدوں میں سمیٹنا چاہتے تھے مگر عمر نے ساتھ نہ دیا اور سترہ حصے لکھنے کے بعد دنیائے دار فانی سے 2 ذی قعدہ، 6ستمبر 1367ھ/1948ء دوشنبہ کو 12 بج کر 6 منٹ پر انتقال کر گئے اور وصیت کرگئے کہ اگر میری اولاد یا تلامذہ یا علمائے اہل سنت میں سے کوئی صاحب اس کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا ہے اس کو پورا کردیں۔ چنانچہ ان کے شاگرد اور دیگر علماءبہار شریعت کے باقی تین حصے 18،19،20 ضبط تحریر میں لاچکے ہیں جو چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ مصنف کی وصیت کے مطابق یہ خیال رکھا گیا ہے اور اس میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ مسائل کے مآخذ کتب کے صفحات کے نمبر اور جلد نمبر بھی لکھ دئیے ہیں تاکہ اہل علم کو مآخذ تلاش کرنے میں آسانی ہو اکثر کتب فقہ کے حوالہ جات نقل کردئیے ہیں جن پر آج کل فتوی کا مدار ہے حضرت مصنف کے طرز تحریر کو حتی الامکان برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فقہی موشگافیوں اور فقہا کے قیل و قال کو چھوڑ کر صرف مفتی بہ یعنی جس پر فتوی ہے اقوال کو سادہ اور عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔
 
== زمانہ تصنیف ==
مجدامجد علی اعظمی اپنے آخری تصنیف کردہ سترہویں حصے کے آخر میں تحریر کرتے ہیں {{اقتباس|اس کتاب کی تصنیف کی عموما یہی ہوا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کی تعطیل میں جو کچھ دوسرے کاموں سے وقت بچتا اس میں کچھ لکھ لیا جاتا۔ یہاں تک کہ جب [[1939ء]] میں [[جنگ عظیم دوم|جنگ]] شروع ہوئی اور کاغذ ملنا نہایت مشکل ہو گيا اور اس کی طبع میں دشواریوں آگئیں تو اس کی تصنیف کا سلسلہ بھی جو کچھ تھا جاتا رہا}}
یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی ابتدا کب اور انتہا کب ہوئی تاہم بعض قرائن سے یہ واضع ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ تصنیف چودھویں صدی ہجری کے چوتھے دہے سے شروع ہوا کیونکہ ابتدا کے کجھ حصے [[امام]] [[احمد رضا خان]] کو دکھائے کئے، جن پر انھوں نے تصدیق کی، حصہ دوم کے تقدیق نامے میں [[12 ربیع الثانی]] [[1335ھ]] موقوم ہے۔
 
بہار شریعت کے اختتام کا علم سترہویں حصے کے آخر میں ہوتا ہے جہاں خود مصنف نے [[1362ھ]] میں اپنے بیٹے کی وفات اور دیگر قریبی افراد کی اولاد کی یکے بعد دیگرے وفیات کا ذکر کیا ہے جس سے مصنف کو شدید صدمہ پہنچا اسی دوران مصنف کی نظر اتنیکمزوراتنی کمزور ہو گئی کہ پڑھنے کے قابل نہ رے۔<ref name="بہار شریعت">{{cite book | author=امجد علی اعظمی | location=کراچی | pages=106 | publisher=اعلی حضرت ڈاڈ نیٹ | title=بہار شریعت | url=http://www.rehmani.net/library/Bahar-e-Shariat/Part17/index.php | year=2016}}</ref> یوں مصنف نے سترہویں حصہ پر قلم روک دیا۔ باقی کے تین حصے بعد میں دیگر علما نے اسی طرز پر لکھ کر بہار شریعت کے ساتھ شائع کیے ہیں۔
 
ان تحریری بیانات سے کتاب کی تصنیف کا عرصہ 28 سال یعنی 1334ھ سے 1362ھ تک کاعرصہ مانا جاتا ہے۔
=== باقی حصے ===
آپ نے بہار شریعت کو بیس حصوں میں لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ سترہویں حصہ کے اختتام پر یہ سلسلہ رک گيا۔ باقی کے تین حصوں کے لیے آپ نے اتنے تلامذہ کو وصیت کی تھی۔ چنانچہ آپ کے وصال کے بعد آپ کے شاگردوں اور اولاد نے اس جانب بھرپور توجہ دی اور بہار شریعت کے موید تین حصے لکھے گئے۔
====مصنفین ====
:اٹھاہواں حصہ
* [[علامہ]] [[عبد المصطفی اعظمی]]
* [[مفتی]] [[وقار الدین قادری]]
* [[مولانا]] [[قاری محبوب رضا خان بریلوی]]
:انیسواں حصہ
* مولانا [[ظہیر احمد زیدی]]
:بیسواں حصہ
* مولانا وقار الدین قادری
 
== مآخذ ==