"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

54 بائٹ کا ازالہ ،  3 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: القاب)
* وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اسکا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہےاور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اسکی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں<ref>عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور</ref>
* جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے۔ <ref name = کتاب اللمع>کتاب اللمع فی التصوف ،شیخ ابو نصر سراج ،صفحہ 498 ،مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور </ref>
وجد ایک باطنی کیفیت ہےجو طالب و مطلوب کے درمیان ہوتی ہے ہے۔<ref name = کشف المحجوب>کشف المحجوب ،علی بن عثمان الہجویری،471،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور </ref>
* گویا ہر وہ کیفیت مسرت و الم جو قلب پر بغیر ارادے و کوشش کے طاری ہو اسے وجد کہتے ہیں'''<ref name = کتاب اللمع/>
 
اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے
*رہا معاملہ تواجد کا تو تواجد کےمعنی ہیں از خود وجد والی صورت اختیار کرنا۔تواجد پر علامہ سیوطی کا فتویٰ یوں ہے کہ ذاکر خواہ ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہوجائے یہ کھڑا ہونا اختیاری ہو یا غیر اختیاری ہر حال میں جائز ہے ایسے لوگوں پر نہ انکار جائز ہے نہ انہیں منع کرنا جائز ہے <ref name = فضیلت الذاکرین/>
* ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہےجو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہےباقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے <ref>کشف المحجوبname ،علی= بنکشف عثمان الہجویری،473،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور<المحجوب،ص473/ref>
== وجد کی مختلف اقسام ==
* سارےبدن کا حرکت اور اضطراب