"سنگل (موسیقی)" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,459 بائٹ کا اضافہ ،  11 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (منفردہ (موسیقی) بجانب سنگل (موسیقی) منتقل: صحیح اصطلاح۔ اس کا کوئی اردو متبادل موجود نہیں۔)
گراموفون قرص پر خلقی طور پر محدود گنجائش نے 1900ء کے آغاز کے سالوں تجارتی سطح پر صوت نگار کا معیار قائم کیا۔ اس وقت کی اقراص کی کٹائی کے نسبتا خام طریقوں اور گراموفون کی سوئی کی موٹائی کی وجہ سے قرص پر فی انچ بہت کم تعداد میں جھریاں کھودی جا سکتی تھیں، اور آواز کا قابل قبول معیار قائم رکھنے کیلیے فی منٹ زیادہ تعداد میں چکر درکار ہوتے تھے۔ 78 چکر فی دقیقہ کو معیار کے طور پر اس لیے اپنایا گیا کیونکہ 1925ء میں بجلی سے چلنے والی معاصر محوری موٹر متعارف ہوئی جو گیئر کے ساتھ 46:1 کے تناسب سے 3600 چکر فی دقیقہ کی رفتار سے چلتی تھی جس سے قرص کی محوتری رفتار 78.26 چکر فی دقیقہ حاصل ہوتی تھی۔
 
ان تمام حقائق اور قرس کے قطر کے 10 انچ (25 سم) تک محدود ہونے کی وجہ سے اس پر محفوظ کیے جانے والے صوتی مواد کی طوالت بھی بہت محدود تھی اور قریبا 3 دقیقہ کے لگ بھگ تھی۔ اس وجہ سے موسیقار، گیت نگار اور گلوکار اپنے گیتوں کو اس طرح سے تخلیق کرتے تھے کہ وہ اس نئے واسطہ پر پورے آ سکیں۔ 3 دقیقہ کے سنگل کا معیار 1960 کی دہائی تک قائم رہا جب خردبینی جھریوں کا دور آیا اور ریکارڈنگ کی تکنیک میں بہتری آئی۔ 1968 میں [[دا بیٹلز]] نے "ہے جوڈ" نامی 7 دقیقہ طویل سنگل جاری کیا جو پاپ موسیقی میں رائج 3 منٹ کے سنگل کے خلاف ایک سوچا سمجھا چیلنج تھا۔
 
سنگلز کئی اشکال یا ساختوں میں جاری کیے گئے ہیں جن میں 7 انچ (18 سم)، 10 انچ (25سم) اور 12 انچ (30 سم) کی وائنل کی اقراص (عمومی رفتار 45 چکر فی دقیقہ)؛ 10 انچ (25 سم) کی لاکھ کی اقراص (عمومی رفتار 78 چکر فی دقیقہ، کیسٹ، 8 اور 12 سم (3 اور 5 انچ) کی پرکار قرس (کومپیکٹ ڈسک) اور 7 انچ (18 سم) کی فلیکسی اقراص شامل ہیں۔ سنگلز کی قدرے غیر معروف اشکال میں عددی پرکار کیسٹ، ڈی۔ وی۔ ڈی، لیزر قرص، اور غیر معیاری جسامت کی وائنل اقراص (5 انچ/12 سم، 8 انچ/20 سم وغیرہ) شامل ہیں۔
 
وائنل قرص کی معروف ترین قسم 45 یا 7 انچ کہلاتی ہے۔ یہ نام اس بالترتیب اس کی رفتار 45 چکر فی دقیقہ اور معیاری قطر 7 انچ (18 سم) سے لیے گئے ہیں۔
 
[[زمرہ:اصطلاحات موسیقی]]
8,987

ترامیم